کیا روزےسے صحت متاثر ہوتی ہے؟؟

رمضان، اسلامی کیلنڈر کا 9واں مہینہ ہے اور اس ماہ مبارک میں دنیا بھر کے مسلمان شوال کا چاند نظر آنے تک روزانہ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک روزے رکھتے ہیں۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر، چاند کی رویت سے مشروط ہوتا ہے۔
روزہ کیا ہے؟
روزے رکھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلمان تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے ایک معینہ مدت کے دوران کوئی بھی چیز کھانے اور پینے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایک کھانا صبح صادق شروع ہونے سے قبل کھایا جاتا ہے، جسے سحری کہا جاتا ہے، جبکہ غروب آفتاب کے بعد روزہ ختم کرنے کے لیے دوبارہ کھانا کھایا جاتا ہے، جسے افطار کہا جاتا ہے۔ ماہِ رمضان ختم ہونے پر اور نئے مہینے کا چاند نظر آنے پر عیدالفطر منائی جاتی ہے اور فی کس فطرہ ادا کیا جاتا ہے۔
روزے کے جسم پر اثرات
روزے کے اوقات کے دوران، جب کھانے پینے سے پرہیز کیا جاتا ہے، جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے سحری کے وقت کھائی جانے والی غذا کی کیلوریز استعمال کرتا ہے اور جب یہ کیلوریز ختم ہوجاتی ہیں تو جسم جگر اور پٹھوں میں جمع شدہ کاربوہائیڈریٹس اور فیٹس استعمال کرنے لگتا ہے۔روزہ، مسلمان کے ایمان کا امتحان ہے اور اس کے لیے صبر صرف اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے۔ موسم کی سختی اور روزے کا دورانیہ، روزے دار میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا باعث بن سکتا ہے، سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ یہ مسائل روزے دار کی صحت اور طویل مدتی بہتری پر اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ اس کے فائدے ہی فائدے ہیں۔
پانی کی کمی سے بچنا
روزے کے اوقات کے دوران، تقریباً ہر روزہ دار کو پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے روزہ دار افراد کو افطار کے بعد سے لے کر انتہائے سحر کے درمیان، وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں پانی اور پانی والی غذائیں لیتے رہنا چاہیے، تاکہ روزے کے دوران ہونے والی پانی کی کمی کا ازالہ ہوجائے۔ اس کے باوجود بھی اگر آپ روزے میں سُستی یا سر چکرانے کی شکایت محسوس کرتے ہیں تو روزے کے بعد ہر تھوڑی تھوڑی دیر میں چینی یا نمک ملا پانی پیتے رہیں۔ اس کے علاوہ پھلوں کے تازہ جوس بھی لیے جاسکتے ہیں۔
روزہ اور صحت
صحت پر روزے کے اثرات کا تعین کرنے میں کئی عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ موسم کی سختی یعنی دنیا کے کون سے ملک میں کس موسم میں روزے رکھے جارہے ہیں ۔کچھ مطالعوں میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ تک روزے رکھنے سے انسان کے وزن میں کمی آجاتی ہے (حالانکہ ایسے افراد میں رمضان کے بعد پھر سے اپنا سابقہ وزن بحال کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے)۔ اس لیے اگر آپ کا وزن زیادہ ہے اور چاہتے ہیں کہ رمضان کے دوران آپ کے وزن میں جو کمی آئی ہے، اسے بعد میں بھی برقرار رکھیں تو صحت بخش غذائیں کھائیں اور سرگرم لائف اسٹائل اپنائیں۔ کہا گیا کہ رمضان کے پورے ماہ کے روزے رکھنے سے خون میں ان منفی عناصر کی مقدار میں کمی آجاتی ہے، جو صحت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ رمضان کے پورے روزے رکھنے سے جسم کا مدافعتی نظام بحال اور مضبوط رہتا ہے۔
خواتین کا روزہ
اسلامی قوانین میں حاملہ یا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین کے لیے یہ آسانی رکھی گئی ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتی ہیں کہ روزہ رکھنے سے ان کی یا ان کے بچے کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونگے تو وہ روزے چھوڑ سکتی ہیں۔ ان چھوڑے گئے روزوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ بعد میں مناسب وقت پر روزے رکھ سکتی ہیں، ساتھ ہی اس کا مداوا کرنے کے لیے ہر چھوڑے گئے روزے کے بدلے غریبوں کو فدیہ ادا کرسکتی ہیں۔ حاملہ ہونے کے دوران بھی کئی خواتین روزہ رکھتی ہیں۔حاملہ خواتین کو روزہ رکھنے سے پہلے کم از کم اپنی ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest