مجھے میرے روم میٹ سے بچائو

nishat azmi

ابراہیم اعظمی شا ہین اکیڈمی

لکھنو انڈیا
آج صبح سے میں کچھ سوچ رہا تھا کہ جو ذہنی الجھن ہے اس کو دور کرنا ہے پڑے گا ۔اس کے لیے قلم اور کاغذ لیکر بیٹھ گیا ۔دوستوں کے ساتھ گذرے ہوئے شب و روز کو پرونے کا جتن کرنے لگا ۔تب میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کی کیوں نہ دوستوں کے بارے میں کھا جاے ۔اور اس کے بعد میرا قلم سر پٹ دوڑنے لگا ۔وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے او ر میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں ، اس کی آغوش میں مجھے بہت آرام ملتا ہے، مگر زندگی میں جب دو مسائل ایک ساتھ آجائیں توکوئی بیچ کی راہ نکالنی ہی پڑتی ہے۔ سب کی طرح ہمارے پاس بھی مسائل بہت ہیں۔ مگر ہم ان میں سے چند کا ہی ذکر کریںگے۔
میری نیند بہت ہلکی ہے ،کمزور سے کمزور انسان ہمیں اٹھا سکتاہے ۔اب آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم ’’رتن نورا‘‘ کی طرح ہیں ،اور ہوا کے جھونکے سے اڑجائیں گے ۔جسمانی اعبتار سے ہم رتن نورا کی طرح کمزور نہیں بلکہ بہت مضبوط ہیں ۔یہاں ہم نیند سے اٹھانے کی بات کر رہے ہیں، کہ وہ بہت ہلکی ہے، اک ذرا سی آہٹ ہوئی کہ ہماری آنکھ کھل جاتی ہے، بلکہ یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ آہٹ کے ہونے سے پہلے ہی ہماری نیند کو آہٹ کا احساس ہو جاتا ہے، اور آہٹ سے ناراض ہوکر وہ چلی جاتی ہے، اور جاتی بھی ایسی ہے کہ چاہے جتنی کروٹیں بدل لو، چادر میں منہ ڈھک لو، کسی صورت میں آنے کا نا م نہیں لیتی ،اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ’’ وہ مجھ کو چھوڑ کر جانا تو کب سے چاہتی تھی،یوں آہٹ کا ہونا تو اک بہانہ تھا۔ ۔۔ہمیں تو اپنے ہاسٹل کے گیٹ مین کی نیند کو دیکھ کر رشک آتا ہے ،ذرا سا کرسی پر دراز نہیں ہوئے کہ نیند نے انہیں آدبوچا۔ اور وہ بھی سوئے ایسا کہ کوئی آئے چاہے جائے بس سوگئے تو سوگئے۔ انہیں کی نیند کی بدولت ہم گھوڑے بیچ کر سونے والے مقولے کے مفہوم سے واقف ہوئے ۔
جہاں ہماری نیند بہت کمزور ہے ،وہیں ہماری نیند میں خلل ڈالنے والے بہت بڑے بڑے عناصر ہیں۔ ہم اکثر اسی فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح سے نیند پوری کی جائے، اس کے لئے ہم اپنے روم میٹس کو تاکید کیا کر تے ہیں کہ یارو ۔۔! پڑھنے لکھنے میں ڈسٹرب کردو، بلکہ پابندی لگا دو چلے گا ہم مینیج کرلیں گے، مگر نیند میں نہیں، کیونکہ نیند پرہمارا اختیار نہیں ۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم گھنٹوں بستر پر پڑے پڑے اس کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اکثر اسی انتظار میں آپ لوگوں کے خراٹے کے مقابلے کے جج بن کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ آخر کس کے اندرر دم زیادہ ہے۔ تب ہمیں اپنے ایک دوست کی بات یاد آتی ہے۔ جو اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ خراٹے کے لئے لات بہت مفید ہوتی ہے ۔جب ہم اس قول پر عمل کرتے ہیں تب ہم اس اسرار سرمدی سے واقف ہوتے ہیں کہ جس طرح سے روتے ہوئے بچے کو دودھ کی شیشی دینی پڑتی ہے اسی طرح سے خراٹے لیتے ہوئے انسان کو لات ۔لات مارنے کے بعد ماحول ایک د م پرسکون ہو جاتا ہے اور جو نیند خراٹے کے خوف سے نہیں آرہی تھی نہ جانے کب آکر ہم کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔اس کااحساس ہمیںصبح تب ہوتا ہے جب ہمارے ایک پارٹنر صبح 6بجے ہی اٹھکر نہایت ہی خاموشی اور آہستگی سے(بقول ان کے) اسکول جانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔
رات میں دو بجے سونا اور علی الصباح چھ بجے ہی اٹھ جانا ہماری صحت کے لئے مضـر ثابت ہونے لگا۔کرتے بھی کیا؟ اب آپ کہیں گے کہ سویرے سوجانا چاہئے ؟ پر سویرے سونے کی سزا تو ہمیں اور بھی سخت ملی ہے۔ اگر کبھی سویرے سوبھی گیا تو ہمارے ایک پارٹنر دو بجے آتے ہیں، اور آتے ہی تڑا تڑسب لائٹ آن کر دیتے ہیں، تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہماری نیند کو خراٹے کے ساتھ ساتھ روشنی سے بھی خوف آتا ہے ! اس کے لئے ہمیں ایک ترکیب سوجھی اور ہم نے ٹیبل لیمپ کا انتظام کرکے تاکید کی کہ رات میں جس کو پڑھنا لکھنا یاجو بھی کام کرنا ہو اسی کے روشنی میں تمام کام کر لے، اور لائٹ تو قطعی نہ جلائے تاکہ ہم آرام سے چین کی نیند سو سکیں ۔مگر کیا بتائیں ’’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘‘ ہمارے پارٹنر ٹھہرے صاف صفائی والے۔ دو بجے رات میں آتے ہی ٹیبل لیمپ جلانے کے بعد انہیںپتہ ہی نہیں چلتا کہ روم میں تین لوگ سورہے ہیں۔ وہ آرام سے سرمستی و بے خبری کے عالم میں کپڑا اتارنے کے بعد اسے پھڑ پھڑ جھاڑینگے پھر دھڑسے المیرا کھول کر اس میں رکھیں گے ۔
اسی پر بس نہیں ۔۔۔۔اس کے بعد اپنی بیڈ شیٹ اٹھاکرخوب زور زور سے جھاڑینگے۔ اور یہ آفت ہمارے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتی، مگر اچانک ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس قیامت خیزآفت کا اثر صرف ہمارے ہی اوپر پڑ رہاہے ۔کیونکہ ہمارے دوسرے دو پارٹنر بدستور سو رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے کانو ں میں تو جو ں تک نہیں رینگتی اور دوسر ا کروٹ بد ل کر سو جاتاہے۔اور تب ہم یہ سوچنے پر مجبو ر ہو جاتے ہیں کہ گیٹ مین تو گھوڑا ہی بیچ کر سوتا ہے، ان لوگوں نے تو پورا اصطبل ہی بیچ دیاہے۔ اس قیامت سے جو نیند ہماری چلی جاتی ہے تو پھر آنے کا نام نہیں لیتی ،اور اسی طرح سے سویرے سونے کے چکر میں ہم صبح سویرے تک جاگتے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور صبح ہوتے ہوتے جب تھوڑی آنکھ لگتی بھی ہے تو پارٹنر کے الارم سے ہماری آنکھ کھل جاتی ہے۔ غصہ ہمیں تب او ر زیادہ آتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا الارم ان کے اوپر کچھ اثر نہیں ڈال رہاہے۔ اور وہ حسب دستور گھوڑا اور اصطبل بیچ کر سورہے ہوتے ہیں ،اور الارم ہے کہ بجا جارہاہے، یہاں تک کہ ہمیں آواز دیکر کہنا پڑتاہے کہ ارے یار الارم بند کرو۔تب جاکر کہیں ان کی آنکھ کھلتی ہے، اور ہڑبڑاکر الارم بند کرتے ہیں۔یہ سلسلہ تین دن تک مسلسل چلتارہا ،ان کا الارم ہمیں جگاتا رہا اور اہم ان کو جگاتے رہے ۔
عاجز آکر چوتھے روز ہم پوچھ ہی بیٹھے کہ یار ایک بات بتائو،صبح 7 بجے کا الارم کیوں لگاتے ہو؟ تو بڑی معصومیت سے جواب دیتے ہیں کہ صبح سویرے اٹھنے کے لئے ! ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اپنے اٹھنے کیلئے یا ہمیں اٹھانے کے لئے ؟تو جواب دیتے ہیں۔ارے بھئی اپنے لئے ،خود کو اٹھانے کے لئے ! تو ہم نے پوچھا کہ اچھا یہ بتائو کہ اب تک کسی روز اس الارم نے تمہیں صبح جگایا ؟ تو جواب دینے کے بجائے مسکرانے لگے ۔ تو ہم نے کہا کہ آج سے الارم بند ، اگر کل سے الارم بجا تو خیر نہیں، رات میں سوؤگے تین بجے توکیا خاک صبح صبح اٹھ پائوگے!
ابھی یہ سب آفتیں ختم نہیں ہو پائیں تھیں کہ ایک اور نئی مصیبت آگئی۔ ہمارے ایک بہت قریبی دوست جو کہ بہت مزاقیہ ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے ساتھ ساتھ تمام روم میٹس بھی ان کے اچھے دوست ہو گئے ہیں۔جب سے ان کی ٹیچنگ پریکٹس(TP)شروع ہوئی ہے تب سے وہ روزانہ صبح صبح ہمارے روم میںخاصطور سے پریشان کر نے کے لئے آتے ہیں۔ آتے ہی چلاتے ہوئے کہیںگے کہ صبح صبح اٹھا کرو ،ماں باپ نے کس لئے بھیجا ہے ؟ سونے اور پیسہ برباد کرنے کے لئے ؟ اسی پر بس نہیںکبھی ہماری چادر کھیچینگے تو کبھی ہمیں ہلانے لگینگے۔ ہم ان کو لاکھ سمجھاتے ہیں کہ صبح صبح مت پریشان کیا کرو، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا، آخردوست کس کے تھے جو اتنی سی بات پر مان جاتے۔ بہر کیف یہی سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہااور ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے پارٹنر بھی ڈسٹرب ہوتے رہے۔ با لآخر عاجز آکر ہم نے بھی ایک پلان بنایا اور اگلے روز صبح صبح ہم سب تو ا ن کی ضیافت کے لئے پہلے ہی سے تیار تھے، جیسے ہی ہمارے دوست روم میں داخل ہو تے ہیںہم سب اپنی اپنی چادر پھینک کر اٹھ جاتے ہیں ،ایک پارٹنر بہت پھرتی سے جھاڑو پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے اور دوسرا لاٹھی پر اور باقی دو گھونسہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اس ناگہانی صورت سے ہمارے دوست کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ کوئی حرکت کرتے ہم نے کہا یلغار ہو ،اب کیا تھا وہ کبھی اپنے چہرے کو بچاتے تو کبھی اپنی پشت کو بچاتے، ہمارے پارٹنر تھے کہ ایک دم سے دے دنادن ،اس طرح سے لاٹھی گھونسہ اور جھاڑو کھانے کے بعد جو وہ بھاگے ہیں تو ایک وہ دن تھا اور ایک آج کا دن ہے بھولے سے بھی صبح میں نہیں آئے ۔
ایسا نہیں ہے کہ اس کمر ہ میں ہمارا کوئی خیال کرنے والا نہیں، خیال تو سب کرتے ہیں مگر ایک پارٹنر ہم سے بھی زیادہ ہماری نیند کا خیال کرتے ہیں اور جب کبھی بھی وہ روم میں آتے ہیں اور ہم کو سوتا ہوا پاتے ہیں تو الٹے پاؤں واپس ہو جاتے ہیں، اور باہر دور جاکر کے اپنی سنڈل کھولتے ہیں ،تاکہ سنڈل کے کھولنے کی آواز سے ہماری آنکھ نہ کھل جائے اور پھر وہ اند رآکر سنڈل کو نکالتے ہیں ۔بارہا تو وہ بغیر کپڑے تبدیل کئے ہی سوجاتے ہیں، کیونکہ کپڑا تبدیل کرنے کے لئے المیرا کھولنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ المیرا بھی تو اتنی نیک ہے کہ کھولو یا بند کرو تسبیح ضرور پڑھتی ہے اور اسی وجہ سے وہ نہیں کھولتے کہ تسبیح کی آواز سے ہماری آنکھ نہ کھل جائے پر ہماری آنکھ تو تبھی کھل جاتی ہے جب ان کے لیٹنے سے ان کا بیڈ تسبیح پڑھنے لگتاہے ۔
میں او ر میرے روم میٹس عجیب کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ مجھے ڈسٹرب کرتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ میں انہیں تنگ کر رہا ہوں کیونکہ ہمیشہ میں ان سے نیند میں خلل نہ ڈالنے کے لئے کہتا رہتاہوں۔ پر وہ بھی کریں تو کیاکریں اک ذرا سی آہٹ ہوئی کہ میں ان کو چادر سے اور وہ مجھکو چادر میں دیکھکر مسکرانے لگتے ہیں، پر دونوں کے مسکرانے میں بڑا فرق ہوتاہے ، میری مسکرا ہٹ اسلئے ہوتی ہے کہ تم سدھروگے نہیں ؟؟؟ اور وہ ۔۔۔وہ تو وہ ہی جانیں گے نا؟؟اب بی۔ایڈ کی TPجیسے دوبارہ شروع ہوئی ہمارے لئے زحمت پھر بڑھ گئی۔ایک صاحب دو بجے رات میں تہلکہ مچاتے ہیں ایک 6بجے ہنگامہ کاٹتا ہے اب تو ہم دوپہر کو بھی قیلولہ نہیں کر پاتے ہیں اب سوچئے جس کو دوپہر میںلیلولے کی عادت ہو وہ قیلولہ بھی نہ کر پائے تو اس کا کیا حال ہوگا؟
اس لئے ہم اب دوپہر میں سونے کی عادت ترک کرنے کی کو شش کر رہے ہیںاور اپنی نیند کویہ کہکر منا نے کی کوشش کررہیںکہ جہاںتمہارے اتنے دشمن ہو ں وہاں آنے کی کیا ضرورت دوسرے یہ کہ بار بارایک ہی جگہ جانے سے عزت بھی گھٹ جاتی ہے لھذا بہتریہی ہوگا کہ اب تم دو پہر میں مت آیا کرو ہاں یہ الگ بات ہے کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو تیری آغوش میں مجھے بہت آرام ملتا ہے پھر بھی تم مت آنا ! میں نے کہا اور وہ مان تو گئی پر یہ سن کر اس کی بھی نیند اڑگئی (یعنی نیند کی نیند اڑگئی )اور وہ یہ کہتے ہوئے جانے لگی۔۔۔
’’یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا‘‘

کہ اسی اثنا ایک آہٹ ہوتی ہے اور میں یہ کہتے ہوئے اٹھ جاتا ہوں کہ آخر اب کون سی بلا آنے والی ہے پھر سے مجھے احساس ہو ا کہ اب ایسے لوگو ں سے بہت دور رہنا ہی بہتر ہے اسی ادھڑ بن میں یہ سلسلہ اپنی منزل کی طرف گامزن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ مجھے میرے روم میٹس سے بچائو‘‘

9036744140ابراہیم نثار اعظمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *