روہنگیائی پناہ گزینوں میں علمائے نے اصلاحِ معاشرہ کے عنوان پر بیان اور امداد تقسیم کی

برمی مہاجرین میں اصلاح معاشرہ کے عنوان پر پروگرام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ حضرات ایمانیات واسلامی تعلیمات سے روشناس ہوسکے: غیور احمد قاسمی

نئی دہلی،  کھجوری نورانی مسجد میں روہنگیائی پناہ گزینوں کے لئے علماء کرام کا ایک وفد مولانا غیور احمد قاسمی قیادت میں امداد تقسیم کرنے کے لئے پہنچا اور ان لوگوں کی ضروریات کے لئے نقد رقم سے 48 خاندانوں کی جزوی مختصر مدد کی جب کہ ان حضرات کی ضروریات بہت بڑی ہے بیماروں کو علاج کی ضرورت ہے اور مزید امداد وتعاون کی سخت ضرور ہے۔ اور برمی مہاجرین میں اصلاح معاشرہ کے عنوان پر بیان ہوا جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے نائب صدر مولانا اسلام الدین قاسمی نے پُر مغز خطاب کیا۔ انہوں نے ا پنے خطاب میں کہا کہ گھروں میں تلاوت، بچوں کو اسلامی تعلیمات، پاس پڑوس میں اخلاقی معاملات اسلامی تعلیمات پر مضبوطی سے عمل کریں اور جو لوگ ہماری خبر گیری کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے دعا اور اظہار تشکر کرتے رہیں اس لئے کہ جو بندوں کا احسان نہیں مانتا وہ اللہ کا احسان بھی نہیں مانتا۔ قاری محمد ہارون اسعدی نے پروگرام کا نظامت کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمان آپ میں ایک جسم کی طرح ہے کسی کو کہیں بھی کوئی پریشانی یا تکلیف ہو اس کا احساس تمام لوگوں کو محسوس کرنا چاہئے۔
اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں حتیٰ المقدور کوشش کرنی چاہئے۔مولانا غیور احمد قاسمی دہلی واطراف دہلی میں پناہ گزیں روہنگیائی مسلمانوں مدد اور معاونت کرنا ایک کیمپوں میں جاکر ضروریات زندگی میں شریک ہونا رضا الہٰی کے حصول کا سبب ہے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی برما سے آئے مہاجرین کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں اور مصیبت زدہ افراد بے حال وپریشان ہوجاتے ہیں دہلی کے قرب وجوار میں پناہ گزیں روہنگیائی مسلمان انتہائی کسم پرسی کی زندگی گذار رہے ہیں مولانا غیور احمد قاسمی نے روہنگیائی پناہ گزینوں سے ملاقات کرکے ان کے احوال وکوائف معلوم کئے فی الفور ان لوگوں کو سردی سے بچنے کے لئے گرم کپڑے ، لحاف، کمبل، جوتے، بچوں کے لئے دودھ پائوڈر بادام انڈے دال چاول تیل مسالے وغیرہ دہلی کے مخیر حضرات اور ائمہ مساجد وذمہ داران مدارس ان حضرات کے کیمپوں میں بنفس نفیس جاکر مزید ضروریات معلوم کرکے پوری کرنے کی کوشش کریں۔ کھجوری، اتم نگر بدیلہ گائوں رن ہولا، کالندی کنج، شرم وہار، فرید آباد سیکٹر 86، میوات نوح وغیرہ میں پناہ گزیں ہیں جن لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے اضافی لحاف کمبل ،جیکٹ ،کوٹ اور گرم کپڑے وغیرہ سے ان حضرات سے امداد کی جاسکتی ہے ۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔حضرت خواجہ اس مظلوم کی فریاد سن کر اجمیرسے دہلی روانہ ہوگئے۔ان کے خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کو خبر ملی کہ حضرت دہلی تشریف لارہے ہیں ،قطب الدین بختیار کاکیؒ نے اپنے پیرو مرشد کا استقبال کیا اور عرض کیا کہ حضرت ! آپ نے کسی اطلاع کے بغیر سفر کی زحمت کیوں فرمائی‘ اگرکوئی ضرورت تھی تو مجھ خادم کو حکم دیا ہوتا۔حضرت خواجہ اجمیری نے فرمایا :یہ مصیبت زدہ کسان میرے پاس سلطان کے آدمیوں کے ظلم و جبر کی فریاد لے کر پہنچا تھا ،میں نے فیصلہ کیا کہ اس مظلوم کی فریاد رسی کے لئے مجھے خود دہلی پہنچ کر سلطان سے اس کی سفارش کرنی چاہئے کیونکہ رسول اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ جب تک انسان کسی بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے، اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال رہتی ہے، تو میں خود کیا اس کی رحمت کا محتاج نہیں ہوں ؟ ایسے افراد جو دوسروں کیلئے کسی نہ کسی اعتبار سے نفع بخش ہوتے ہیں آخرت میں تو ان کا بدلہ ملے گا ہی، دنیا میں بھی ان کو جذبہ نفع رسانی اور خدمت خلق کا بہترین صلہ ملتا ہے۔ اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ انہیں ہر طرح کے حادثات‘ مشکلات اور پریشانیوں سے محفوظ رکھتا ہے،غیب سے ان کے آرام اور چین و سکون کا انتظام کرتا ہے اور اس کی برکت سے خود ان کا اپنا ذاتی کام پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے۔اس کے علاوہ پوری قوم انہیں یاد رکھتی ہے۔ان کے مرنے کے بعد لوگ انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ان کی تعریف و توصیف کرتے ہیں ،ان کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *