( روہنگیا میں ہوئی نسل پرستی ۔ فہیم اختر(لندن

نسل پرستی ایک ایسا زہر ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ذی شعور انسان پینا نہیں چاہتا ہے۔صدیوں سے انسان اپنی طاقت اور ظلم کی بنا پر انسانوں پر نسل پرستی کا زور دِکھا تا رہا ہے۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں نسل پرستی کی داستان دکھائی پڑتی ہے۔ خواہ وہ مذہبی سطح پر ہو، رنگ و نسل کی وجہ سے ہو یا ذات و پات کی وجہ سے ہو۔گویا دنیا میں نسل پرستی کا اثر کسی نہ کسی رنگ یا کسی نہ کسی روپ میں دِکھتا ہی رہتا ہے۔
اسلام ہی ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے رنگ و نسل ، ذات پات کی بات پر کوئی زور نہیں دیا ہے۔اس کی عمدہ مثال حج کا ہے۔ جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کے جسم پر صرف سفید رنگ کا کپڑا ہوتا ہے جو انسان کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو بنا ذات پات ، رنگ و نسل کے بھید بھائو سے پاک رکھا ہے۔تاہم انسان اس عمل کو بھول کر اپنے اپنے ممالک میں روایتی طور پر ذات و پات اور رنگ و نسل کی جھوٹی شان میں شیخی بگھارنے لگتا ہے۔ یہی نہیں ہمارے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ نے آج تک کسی غیر مسلم کو نہ ہی تو قتل کرنے کا حُکم دیا اور نہ ہی انہوں نے ان سے نفرت کرنے کا درس سِکھایا۔البتہ حضرت محمد ﷺ نے ہمیں سب کے ساتھ مل جل کر رہنے کا فرمان جاری کیا۔
27اگست 2018کو ایمنسٹی نے ایک رپورٹ جاری کیا جس میں برما کے تیرہ اعلیٰ فوجی افسران پر نسل پرستی کا الزام لگایا ہے۔ایمنسٹی نے ان فوجی افسران پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں ان پر مقدمہ چلانے کی مانگ کی ہے۔ان میں کئی افسران کو برمی فوج نے حال ہی میں برخاست کیا ہے۔اس رپورٹ کا نام “We Will Destroy Everything” ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ میانمار کی سیکورٹی فورس نے غیر قانونی طور پر ہزاروں روہنگیائی کا قتل عام کیا ہے جس میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ایسے جرائم بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف مانا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ بھی ثابت کر دیا جائے گا کہ برمی ملٹری اگست سے قبل روہنگیائی مسلمانوں پر حملہ کرنے کا پلان بنا رہی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ کی بنیاد میانمار اور بنگلہ دیش کے چار سو سے زیادہ روہنگیائی لوگوں سے بات چیت ، سیٹلائٹ کی تصویریں ، فورنسک کا جائزہ اور خفیہ فوجی دستاویزات کے ذریعہ تیار کی گئی ہے۔
ان ملٹری جنرلوں پر برما کے روہنگیا مسلمانوں پر قتل و غارت گری سے لے کر عصمت دری اور ان کے گھروں کو جلانے کا الزام ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برما کی ملٹری نے اقلیتی مسلمانوں پر ایک پلان کے تحت ظلم ڈھائے ہیں۔ جس کی وجہ سے لاکھوں روہنگیائی مسلمان اپنی جان بچانے کے لئے پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہونے لگے۔ جس کا فائدہ اٹھا کر ملٹری نے ان کے گائو ں کو جلا کر نیست و نابود کر دیا۔ظلم یہیں تک ہی نہیں تھما بلکہ عورتوں اور معصوم لڑکیوں کی عزت بھی لوٹی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتا یا گیا کہ اگست 2017میں روہنگیائی عسکریت پسندوں نے راکھائین ضلع کے ڈھیر سارے پولیس اسٹیشن میں آگ لگا دی تھی۔ جس کے نتیجے میں ملٹری نے روہنگیائی مسلمانوں پر اتنا بڑا ظلم ڈھایا۔ راکھائین ضلع میں ایک مدّت سے وہاں کے لوگ اپنی شہریت اور امتیازی سلوک کے خلاف Arakan Rohingya Salvation Army(ARSA)کے بینر تلے اپنا احتجاج کر رہے ہیں۔
ملٹری کے ظلم سے عام لوگ اپنی جان بچانے کے لئے گائو ں چھوڑ کر میلوں دور ننگے پائو ں رات کے اندھیرے میں بھاگ کر قریبی ملک بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ لگ بھگ 700,000روہنگیائی مسلمان اب تک ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ جو اب پناہ گزین کے طور پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔یہ لوگ برمی ملٹری سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ یہ برما واپس جانا نہیں چاہتے ہیں۔
روہنگیائی لوگ برسوں سے برما میں مقیم ہیں جو زیادہ تر مسلمان ہیں۔ ان کی زبان اور ثقافت بنگالیوں سے کافی ملتی جلتی ہے۔تاہم برمی حکومت نے ہمیشہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے اور انہیں برما کا شہری ماننے سے انکار کیاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش کے باشندے ہیں جو برما میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ لیکن یہ بات سچ نہیں ہے کیونکہ بودھ مذہب کے چند پیشوا نے بھی اس آگ کو بھڑکانے میں نمایاں رول نبھایا ہے۔جس کا انکشاف بودھ دھرم کے ایک گرو کے ویڈیو سے ہوتا ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف کھل کر زہر اُگلا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام آدمی بھی روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف اپنا نظریہ بدل دیا ہے۔
اس رپورٹ نے دنیا کے امن پسند لوگوں کے کان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس رپورٹ کو مستند اور اہم ثبوت کی بنیاد پر تیار کیاگیا ہے۔ جس سے اس بات کی امید ہے کہ اقوامِ متحدہ اس مسئلے پر ضرور کاروائی کرے گی۔ اس رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ان فوجی افسران پرانٹرنیشل کورٹ میں مقدمہ چلانا چاہئے جو کہ ایک امید افزا خبرہے۔تاہم ایک مسئلہ در پیش یہ آسکتا ہے کہ ان بدنام فوجی افسروں کو حکومت کی پشت پناہی مل جائے گی اور شاید یہ کہیں روپوش ہوجائیں گے۔
ایسا ہی واقعہ بوسنیا میں بھی ہوا تھا جب وہاں کے فوجی افسروں نے مسلمانوں کو گھیر کر مارڈالا تھا۔ لیکن جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان ظالم فوجی افسروں کے خلاف وارنٹ نکالا تو وہ روپوش ہوگئے تھے۔ جس میں مقامی لوگوں نے بھی کافی ساتھ دیا تھا۔ باوجود اس کے ایک دن وہ پکڑے گیے اور انہیں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہیں ان کی گناہ کی سزا ملی تھی۔
نسل پرستی بین الاقوامی قوانین میں ایک گھنائو نا جرم ہے۔ جس کے لیے ٹھوس ثبوت اور ایک مثبت رپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی علاقے یا گائوں پر بے جاتشدد اور فوج کو بدنام کرنے سے نسل پرستی ثابت نہیں ہوسکتا ہے ۔ تاہم اگر ایک منظم تحریک اور طریقے سے فوج کے اعلیٰ افسر ان اپنے فوجیوں کے ساتھ لوگوں کو جان سے مار دیں، یا لوگوں کو مار بھگائے جن کا تعلق کسی نسل، مذہب یا قوم سے ہو تو وہ اسے نسل پرستی مانا جاتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسے ہی ثبوت اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے جس کی بنا پر برما فوج کے ان تیرہ ظالم فوجیوں پر مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے جو نسل پرستی میں ملوث تھے۔
میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور نوبل انعام یافتہ حکمران اَنگ سان سوچی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میانمار کے بنیاد پرست بودھ راہب اشین وارتھ جن کی شدت پسندانہ تقریروں سے وہاں کے مقامی لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف جو غصّہ اور نفرت پھیلی، اس کے لیے ان کو بھی گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلانے کی وکالت کرتا ہوں۔واضح ہو کہ اشین وارتھ کو 2003میں 25سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی ، لیکن نہ جانے کیوں 2010میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
دنیا میں ہر انسان پیدا ہوتے ہی بنیادی حقوق کا حقدار ہوتا ہے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب، نسل اورقوم سے تعلق رکھتا ہو۔میں نسل پرستی اور مذہبی نفرت کا قائل نہیں ہوں۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ کسی بھی انسان سے اگر اس کے مذہب، ذات پات اور قومیت کی وجہ سے نفرت کی جائے تو وہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا سخت ہونی چاہئے۔میں اللہ سے دعا کر تا ہوں کہ روہنگیائی مسلمان خیر عافیت سے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور اس بات کی بھی امید کرتا ہوں کہ برما کہ ان فوجی افسروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی انسان اپنی ، زبان، مذہب ، نسل اور قومیت کی وجہ سے ظالموں کی درندگی کا شکار نہ بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *