امریکہ کے سینیٹر میک کونیل سوچی کے دفاع میں آگے آئے

کہا:روہنگیائی مسلمانوں پرجو مظالم ہوئے ہیں اس کے لئے محترمہ سوچی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا

واشنگٹن:ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی تھی کہ میانمار میں قتل عام کے لیے میانمار حکومت کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے جس طرح سے نسل کشی کی ہے۔ وہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و زیادتی ہوئی ہے۔ ان کے بہنوں کے ساتھ جو استحصال ہوا ہے ، اس کے لیے اقوام متحدہ نے آواز اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے جو بھی ملزم پائے جائیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاررروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے دوسرے ہی دن میں یہ خبر آئی ہے، جس میں امریکہ کی سینیٹر میک کونیل نے کہا ہے کہ روہنگیا پر مظالم کے لئے میانمار کی لیڈر آنگ سان سو چی کو کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔مسٹر میک کونیل نے منگل کو ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ میانمار میں روہنگیا پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن اس ظلم و زیادتی کے لئے محترمہ سوچی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس فوجی کارروائی کو روکنے کی طاقت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ سو چی کو ایسے کسی واقعات کا مجرم نہیں گردانا جا سکتا جو ان کے دائرہ اختیارسے باہر تھا، جس پر ان کا کنٹرول اور اثر نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest