اب تیری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے.۔رمّانہ تبسم،پٹنہ سٹی

 

 

 

 

مذہب اسلام کو مٹانے کی سازش ہر دور میں مختلف انداز میں ہوتی رہی ہے اور جب جب مذہب اسلام پر وار ہوا مردوں کے شانہ بہ شانہ حق کی آواز بلند کرنے میں خواتین بھی گھر کی چاردیواری سے نکل کر میدان جنگ میں آئی ہیں اور میدان جہاد میں اپنی بہادری کے جھنڈے گاڑے ہیں۔آج پھر مسلمانوں پر آزمائشوں کی گھڑی آن پڑی ہے اور انہیں اپنے ہی ملک میں جلاوطن کرنے کی بی جے پی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔اس جابر حکومت کا سامنا کرنے کے لئے مردوں کے ساتھ مسلم خواتین بھی حجاب میں اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے لگائے دہلی کے شاہین باغ میں خون جما دینے والی سردی اور بارش میں ملک کے آئین کو بچانے کے لئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف حکمراں اور پولس کی دھمکیوں کو نظر انداز کر پوری ہمت اور جرات کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں ۔شاہین باغ احتجاجی مظاہرہ کو اب ایک ماہ مکمل ہونے والا ہے۔ پولس انہیں بار بار شاہین باغ خالی کرنے کے لئے کہہ رہی ہے کہ مسافروںکو آنے جانے میں تکلیف کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔خواتین نے کہا ہم یہاں ملک کے آئین کی پاسداری کے لئے بیٹھے ہیںہمیں دوسری جگہ فراہم کرا دیں لیکن ہم یہ احتجاج ختم نہیں کریں گے اوریہ مظاہرہ تب تک چلے گا جب تک مرکزی حکومت ہماری بات نہیں مان لیتی ۔پولس نے اگر طاقت کا استعمال کیا تو ہم وہ بھی سہ لیں گے لیکن آئین کو بچا کر رہیں گے اور اپنا حق لے کر ہی یہاں سے گھر واپس جائیں گے ۔یہ وامائدہ معاشرے کی حجاب میں عام سی نظر آنے والی وہی خواتین ہیں جو ہر دفعہ سے واقف ہیں اور ان کے شطرنج کی چال کو سمجھ چکی ہیں ۔جب جب مردوں کے ساتھ خواتین جاگتی ہیں ظالم حکومت کو دھول چٹا دیتی ہیں اور اچھے اچھے حکمرانوں کے تخت و تاج کو پیروں سے کچل ڈالتی ہیں ۔اس عام سی نظر آنے والی خواتین کی قابلیت کو دیکھ کر سب حیران ہیں۔ آج پوری دنیا ان کی ہمت اور جذبے کو سلام کررہی ہے اور شاید وزیر اعظم مودی جی کو بھی اپنی آنکھو ںپر یقین نہیں آتا ہوگا کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ عورتوں پر حجاب زبردستی ڈال دیا گیا ہے انہیں آزادی ملنی چاہئے۔ حجاب میں رہ کر حق کی آواز بلند نہیں کر سکتیں۔آج یہ خواتین حجاب رہ کر آئین کے خلاف آواز اٹھا کر مودی اور امت شاہ کے رات کی نیند حرام کر چکی ہیں۔
دہلی کے شاہین باغ میں احتجاجی مظاہرہ اس وقت شروع ہوا جب 15 دسمبر کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر پولس نے طلبہ و طالبات کی آواز کو دبانے کے لئے بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جامعہ کے طلبہ و طالبات کا زخم دیکھ کر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیااور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف خواتین نے شاہین باغ میں مظاہر شروع کر دیا۔شاہین باغ احتجاجی مظاہرہ میں قومی ترانوں اور انقلاب زندہ باد کی آواز سے فضا گونجی۔یہاں خواتین ملک کے آئین کو بچانے کے لئے نفل روزہ رکھ رہی ہیں نماز پڑھ رہی ہیں۔آئے دن یہ احتجاجی مظاہرہ ایک نئی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔خواتین کے ساتھ اسکول ،کالج اور یونیوسیٹی کے طلبہ و طالبات نے بھی مورچہ سنبھال لیا ہے اور نئے سال کا جشن ترک کر طلبہ وطالبات نے شاہین باغ میں آکر نئے سال کا آغاز قومی ترانہ گا کر کیایا ۔ اس مظاہرہ میں محب وطن مسلمانوں کے جذبہ اور انصاف پانے کی جدوجہد دیکھ کر دیگرمذاہب کے محب وطن مرد و خواتین نے بھی مظاہرہ میں شامل ہو کر قومی یکجہتی کا ثبوت دیا اور گنگا جمنی تہذیب کو مثال بنانے کے لئے دارالحکومت دہلی کا شاہین باغ قرآن،گیتا،انجیل اور بائبل کے ورد سے گونج اٹھا۔یہاں کے ہر کونے سے قومی اتحاد کا نقشہ ایک مثال بن کر ابھر اور ملک کے کونے کونے میں آج شاہین باغ احتجاجی مظاہر کی آواز گونج رہی ہے ۔شاہین باغ اور جامعہ کی بہادری اور جرات یکسوی صدی کی زرین عبارت لکھی ہے ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل کی طرف
لوگ ساتھا آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اس احتجاجی مظاہرہ سے ترغیب پاکر دیگر شہروں میں بھی خواتین کا شہر یت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ شروع ہو گیا۔ہمارے ملک کے افسر شاہوں نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر واضح طور پر کہا کہ ملک میں سی اے اے،این آرسی اور این پی آر قانون کی ضرورت نہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی کہا کہ ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ملک میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔وکلاء بھی سڑک پر اتر آئے ہیں جو دن رات دفعہ کے دائو پیچ سے گزرتے رہتے ہیں لیکن مرکزی حکومت اپنی ہٹ دھرمی دکھا رہی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی 36اینچ کا سینہ تان کر کہہ رہے ہیں کہ کسی کی شہریت چھیننا نہیں بلکہ یہ شہریت دینے والا قانون ہے ۔دوسری طرف وزیر داخلہ امت شاہ کہہ رہے کہ ہندو،سیکھ،پارسی،اور عیسائی شرنارتھیوںکو شہریت دلا کر ہی دم لیں گے لیکن اپنے ہی ملک کے شہریوں کی فکر نہیں۔جب بی جے پی کوپاکستان،بنگلا دیش،اور افغانستان کے شرنارتھیوں کی فکر ہے تونیپال،بھوٹان،برما،میانماراورشری لنکا شرنارتھیوںکی فکر کیوں نہیں جب کہ ان پروسی ملکوں میںشر نارتھیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن پاکستان،بنگلا دیش،افغانستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو وہاں مذہبی آزادی نہیں مل رہی ہے۔جب کہ ان کا یہ الزام سراسر غلط ہے یہ اپنے بیان سے لوگوں کے ذہن میں زہر گھول رہے ہیں۔پاکستان،بنگلا دیش اور افغانستان میں سبھی مذاہب امن و سکون اور ملت سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خوشی وغم میں شریک ہوتے ہیں۔
آج بی جے پی کے کٹر رویہ سے ملک کا ہر محب وطن شہری پریشان ہے کہ جس ملک کو سبھی مذاہب نے مل کر انگریزوں سے آزاد کرایا آج 73 سال بعد ایک مذہب کو بالکل الگ کر سی اے اے ،این آرسی،اور این پی آر قانون کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کو ملک کے آئین کی فکر نہیں اور نہ نوجوانوں کے مستقبل کی ہے، نہ ان کے روزگار کی فکر ہے نہ خواتین کے تحفظ کی فکر ہے۔نربھیا کیس کے گنہگاروں کو سزر دینے کی بجائے تاریخ پر تاریخ آگے بڑھتا جارہاہے ،حیدرآباد کی ڈاکٹرپرینکاکے گنہگاروں کو سز دینے کی بجائے جرم چھپانے کے لئے گنہگاروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔اتنے سارے مسائل کو سلجھانے کی بجائے نئے آئین کو لے کر آئے ہیں۔ سب سے زیادہ قابل بی جے پی حکومت ہے جونئے آئین سے ایک اینچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور سینہ زوری دکھاتے ہوئے 10جنوری کو شہریت ترمیمی قانون کے لئے نوٹیفکیشن جاری کر پورے حکومتی نظام کو نگارہ اور مفلوج بنا دیا ہے ۔آج ہمارے ملک میں جرائم پیشوں کی ایک متوازی حکومت چل رہی ہے۔ اس لئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کالے قانون کے خلاف زبان نہیں کھول رہے ہیں کیوں کہ دونوں ایوانوں میں ان کی پارٹیوں نے بھی کالے قانون کی ہامی بھری ہے۔بہار کے پھلواری شیریف میں جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہر ہوا ۔جس میں محب وطن عامر حنظلہ شہید ہو گیا لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی نے اس وقت بھی زبان نہیں کھولی اور اب کہہ رہے ہیں کہ تہوار کا آنند لینے دیں 19جنوری جل جیون ہریالی زنجیر کے بعد ہر موضوع پر بات ہوگی۔چاہے اس بیچ قوم کے عوام کوکتنے ہی کانٹوں بھری راہ سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔انہیں عوام کے درد سے کوئی واسطہ نہیں۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھول رہے ہیں کہ کوئی بھی جل جیون ہریالی زنجیر تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب عوام کے ساتھ انصاف ہو۔ انتخاب میںعوام ایسے لیڈر کا چنائو کرتی ہے جو ان کی پریشانیوں کو سمجھے ان کے حق کی آواز کو بلند کرے ۔آج عوام امیدوں اور منتظر نگاہوں سے ان لیڈران کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن یہ لیڈران اپنے فائدہ کے لئے خاموش تماش بین بنے ہوئے ہیں ۔بہت اچھا ہوا جو مطلب پرست لیڈران کا چہرہ سامنے آگیا اور ان کی چال بازی سے عوام کی آنکھ کھل گئی ۔کیوں کہ ہم وہ نسلیں ہیں جن کے بزرگوں ملک کو آزاد کرانے میں انگریزوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے تھے اورآج ان کی نسلیں اپنے ہی ملک میںچال باز حکومت سے ملک کے آئین کو بچانے کے لئے سر پر کفن باندھ کر ان کے ظلم و ستم کا سامنا کر رہی ہیں۔ ووٹ دیتے وقت حکومت شناختی کارڈ کا ثبوت مانگتی ہے ۔شناختی کارڈ یعنی کسی ملک کے عوام کو ووٹ دینے کا اختیار تبھی ہے جب اس کے پاس اپنے ملک کا شناختی کارڈ ہو یعنی پہچان کہ وہ اس ملک کا ناگرک ہے یا نہیں۔جب مسلمانوں کے پاس اپنے ملک کا شناختی کارڈہے ۔پین کارڈ ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنا لیڈر منتخب کرتے ہیں ۔پھر آج ہمیں شہریت ثابت کرنے کے لئے کیوں کہا جا رہا ہے۔حکومت میں بیٹھے ذمہ دران پہلے اپنی شہریت ثابت کریں۔ جب یہ آدھا کارڈ اور پین کارڈ کو نہیں مانتی تو اس کے ذریعہ ان کا اقتدار میں بنے رہنا بھی غیر قانونی ہے۔یہ لیڈران پہلے استفعیٰ دیں کیوں کے اب عوام جاگ چکا اوروہ ان کے مقصد میں کامیاب ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔22جنوری کو سپریم کورٹ سے اس کالے قانون کا فیصلہ آنے والا سبھی محب وطن کی نظر اس پرلگی ہوئی ہیں۔ عدلیہ جمہوریت کا اہم ستون ہوتا ہے اب دیکھنا ہے عدلیہ فیصلہ حق میں کرتی ہے یا بابری مسجد کے فیصلے کی طرح راتوں رات بی جے پی انہیں بلیک میل کرتی ہے ۔فیصلہ چاہے جو بھی ہو عوام کو اب حق بات سے کوئی بھی نہیں روک سکتا کیوں کہ بقول شاعر ؎
مرے خلاف اگر چہ تھا فیصلہ لیکن
جہاں عدل میں چرچے مرے بیاں کے رہے
اللہ پاک شاد وآباد رکھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *