ریزرویشن سیاسی مفاد میں میں استعمال نہ ہو

جاویدجمال الدین
ہندوستان میں مختلف پسماندہ طبقات اور فرقوں کو مساوی حقوق کے مدنظر ریزرویشن دینے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں اور مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے مطالبہ کو یکسرمسترد کردینے والی حکومت نے حال میں اعلیٰ ذات کے پسماندہ طبقہ کے ساتھ ساتھ عام طورپر پسماندگی کی زندگی گزاررہے شہریوں کو ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچے ،واضح رہے کہ ایک عشرہ قبل پیش کی جانے والی جسٹس سچرکمیٹی کی رپورٹ میں انہیں دلتوں سے بھی دوفیصد پچھڑا قراردیا گیا تھا،لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ریزرویشن کے طریقہ اور پالیسی پر ازسرنو غورکیا جائے اور اس بات پر بھی غورہو کہ اعلیٰ ذات کے غریبوں کو اس ریزرویشن سے کتنا فائدہ پہنچے گا یا موجودہ مرکزی حکومت نے آئندہ مئی میں ہونے والے لوک سبھا عام انتخابات کو نظر میں رکھ کریہ اہم ترین فیصلہ لیا ہے ۔
ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے ،لیکن پارلیمنٹ میں اس بل کی منظور کرانے میں سبھی نے ساتھ دیا،یہ پتہ ہونے کے باوجود کہ حکمراں پارٹی کو حال میں ہونیوالے ریاستی اسمبلی انتخابات میں اعلیٰ ذات کے رائے دہندگان نے بی جے پی کو مکمل طورپر نظرانداز کیا ہے ،اس کا اثر نتائج پر پڑا ہے اور بی جے پی کا ووٹ بینک سمجھا جانے والا طبقہ اس سے دورہوگیا اور اس کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑاہے۔حالانکہ اس فیصلہ کو حال میں عمل لایا گیا ہے ،لیکن ایسا اندازہ ہے کہ بی جے پی اس ضمن ایک عرصہ سے کام کررہی تھی اور اس ہار کے بعد پارٹی لیڈرشپ نے اچانک اس تعلق سے فیصلہ لیا ہے اور فوری طورپر 10فیصد ریزرویشن کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اسے منظورکرالیا گیا ،مستقبل میں اس کا علم ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔دراصل بی جے پی کو گجرات الیکشن کے بعد ہی اس کا احسا س ہوچکا تھا کہ رائے دہندگان سے دوری بڑھتی جارہی ہے ،گزشتہ ماہ ایم پی ،راجستھا ن اور چھتیس گڑھ میں ہونے والے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ،اس کی وجہ سے یہ یقین پختہ ہوا ہے کہ ووٹرس اس سے نالاں ہیں اور اس کے پیش نظر بی جے پی نے فوری طورپر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور10فیصد ریزرویشن کا قانون لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بی جے پی کا یہ خال ہے کہ اس فیصلہ کے سبب اعلیٰ ذات کے ووٹ اُسے ہی ملیں گے اور وہ دوبارہ اقتدار میں آجائے گی۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ ساڑھے چار سال سے حمایت کے لیے ترستی رہی بی جے پی کو اس بل کو منظورکرانے کے لیے مدد مل گئی ہے۔اور اس کے لیے پارٹی کو کوئی خاص محنت نہیں کرنا پڑی ،البتہ اپوزیشن نے اتنا ضرورکہا ہے کہ اس اعلیٰ ذات کے ریزرویشن بل کو انتخابات کے مدنظرپیش کیا گیاہے۔جس کا وہ لوک سبھا الیکشن میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔حالانکہ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اس بہتر فائدہ اٹھانے کے لیے بی جے پی کو چارسال قبل ہی ایسا کرلینا تھا ،لیکن اس نے تاخیر سے فیصلہ کیا ہے اور اسکی لیڈرشپ کا کہنا ہے کہ الیکنش میں بھر پورفائدہ حاصل ہوجائے۔
حزب اختلاف نے بھی اس معاملہ میں حمایت کردی ہے تاکہ اس کا اثر زیادہ نہ ہواور مودی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں ،لیکن آئندہ الیکشن میں کون کتنا فائدہ اٹھائے گا یہ فی الحال کہنا قبل از وقت ہے ،کیونکہ بی جے پی کو پہلے گجرات میں کانٹوں کی ٹکر دی گئی ،اس کے بعد کرناٹک میں اسے منہ کی کھانی پڑی ،کرناٹک میں ہی حال میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے جوڑتوڑکی سیاست کرنے کی کوشش میں یدورپا کو شکست ہوئی ہے ،اور شرمندہ امت شاہ اسپتال داخل ہوگئے ،کیونکہ ذرائع ابلاغ نے بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک میں جے پی یو اور کانگریس اتحاد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے عمل کو عوام کے روبروپیش کردیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس منصوبہ کی ہوا نکل گئی اور لیڈرشپ کو صفائی پیش کرنی پڑی ہے۔یہ دوسری بار ہوا جب بی جے پی کو جوڑتوڑ کرنے پر سخت بدنامی لگی ہے اور امت شاہ خود کو اس کا ماہر سمجھتے ہیں ،کرناٹک میں کامیابی ہونے پر انہوں نے مدھیہ پردیش گھوڑے دوڑانے کا منصوبہ بنایا تھا ،لیکن اب لوک سبھا انتخابات تک انہیں رکنے کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔البتہ وزیراعظم نریندرمودی اپنے 42اتحادیوں کے اتحاد کو چھوڑکرنے جانے سے پریشان ہیں اور انہوںنے نئے ساتھیوں کو پیش کش کردی ہے کہ این ڈی اے کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں ،لیکن فی الحال کو ریسپانس سامنے نہیں آیا ہے۔
ملک کی تین ہندی بیلٹ والی ریاستوں میں اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے ایک طبقہ نے اور آرایس ایس لیڈرشپ نے اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راگ الاپنا شروع کردیا تھا ،نومبر 2018میں اسی مقصد سے دھرم سنسد منعقد کی گئی اور یہ سب اقتدارمیں چار سال گزارنے کے بعد کیا جارہا ہے ،حالانکہ تین دہائیوں سے بی جے پی اسی لائن پراپنی سیاست چمکا رہی ہے اور پارلیمنٹ میں 2ممبران سے براقتدار آنے تک اسے مسئلہ کو اچھالا گیا ،اوراب تک اس کا پیٹ نہیں بھرا ہے ،انہیں اتنی طاقت مل چکی ہے کہ عام جلسوںمیں اس کا اظہار کیا جاتا ہے اور تواور وزیراعظم مودی ٹی وی انٹرویو میں اس کا اظہارکرتے ہیں ،حالانکہ انہیں اس مسئلہ پر فی الحال کو جواب نہیں دینا تھا بلکہ سوال کو ٹال دینا تھا ،مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ،اب یہ بات عام ہوچکی ہے کہ انٹرویوتیار کردہ تھااور مودی کو کیمرے کے سامنے سوال وجواب کی اداکاری کرنا تھی۔رام مندر کو مسئلہ کو ان تینوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران خوب اچھالا گیا اور یہ منصوبہ پارلیمنٹ کی انتخابی مہم کے دوران بھی ایک بار پھر سڑکوں پر لایا جارہا ہے ،ویسے بھی الہ آباد میں کمبھ کا آغاز ہوچکا ہے۔
ان تینوں ریاستوں کے الیکشن نے بی جے پی کو آئینہ دکھا دیا ہے کہ عوام روزمرہ کے مسائل سے دوچار ہیں اور انہیں جھوٹے وعدوں اور فلک شگاف نعروں سے بہ کایا نہیں جاسکتا ہے ،نوٹ بندی ،جی ایس ٹی اور پھر مہنگائی وبے روزگاری نے ان کی کمر توڑدی ،کئی بھروسہ منداداروں،جیسے آربی آئی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور اداروں میں گھس پیٹھ سے عام آدمی خوش نہیں ہے ،وہ عدالیہ میں بھی حکومت کی مداخلت کے خلاف ہے ،جوجمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہے اورعدلیہ پر اس کا یقین کامل ہے۔
رام مندر کی تعمیرکے مسئلہ کو اٹھانے میں ناکامی ہاتھ لگنے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرسماعت ہونے کے نتیجے میں بی جے پی نے ریزرویشن کا سہارلیا ہے ،یہ سبھی جانتے ہیں ملک کی آزادی کے بعد سے ایک بڑی آبادی عدم مساوات کا شکار ہے اور ریزرویشن ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جن کی بنیاد پر وہ اپنی زندگی گزاررہی ہے ،لیکن اس عرصہ میں یہ سیاست کی نذر ہوچکا ہے ،لیکن اب وقت آچکا ہے کہ ریزرویشن کے مسئلہ کو ارباب اقتدار اور اپوزیشن دونوںکو سرجوڑکربیٹھنا ہوگا اور ضرورت مندوں کو ان کا حق دلانے کے لیے آپسی اتفاق اور رضامندی سے مسئلہ کو حل کرنا چاہئے اور صرف انتخابی مفاد کے لیے اس کا استعمال ایک خطرناک انداز ہے ،جس سے بچنا ہوگا،اور ہندوستان معاشرہ کو مساوات ،بھائی چارہ اور اتحاد کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔
javedjamaluddin@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest