رپورٹ : ڈاکٹر ارشاد خان بھارت

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ہمیشہ ہی سے منفرد پروگرام پیش کرتا آیا ہے ۔تسلسل کے ساتھ 190 پروگرام پیش کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ۔ہر پروگرام یونیک، ندرت لیے ہوئے ، سب سے الگ تھلگ ، ہر صنف سخن کو احاطہ کیے ہوئے ۔۔۔ یہ تمامتر کمال زرخیز ذہن کے مالک چیئرمین ادارہ عزت مآب توصیف ترنل صاحب اور ٹیم دی بیسٹ کا ہے ۔ اس بار ادارے نے ایک اور انفرادیت قائم کی ۔۔لائیو ویڈیو مشاعرہ جو بیک وقت واٹس ایپ اور فیس بک پر ٹیلی کاسٹ ہوا ۔برقی دنیا میں اس پہل کا سہرا بھی ادارے کے سر بندھتا ہے ۔اس سے قبل اس طرح کا پروگرام کسی ادارے یا گروپ نے پیش نہیں کیا ۔جہاں ادارے کے پروگراموں کی دیگر گروپس نے نقالی کی وہیں منہ کی کھائی ۔۔کوا چلا ہنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا کے مصداق وہ مثال قائم نہ کرسکے جو ادارے کا خاصہ رہا ہے چنانچہ جگ ہنسائی ہاتھ آئی ۔
ادارہ نہ صرف بے مثل پروگرام پیش کرتا ہے بلکہ اسے مختلف ویبسائٹس میں پبلش بھی کرتا ہے ۔ادارے کی میڈیا پر پکڑ ہے ۔۔نیز اس کے تمام تر پروگرام محفوظ ، آپ گوگل پر ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کو سرچ کر بہ یک جنبشِ انگشت مذکورہ پروگرام دیکھ سکتے ہیں ۔یہی اس ادارے کی خصوصیت روز اول سے رہی ہے ۔
اب ایک قدم اور ۔۔ ادارے نے اپنی ویب سائٹ بھی لانچ کی ہے ۔ بیک وقت دس ویبسائٹس ادارے کے تصرف میں ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔۔۔برقی دنیا میں یہ انقلاب ، یہ پیش رفت صرف ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کو حاصل ہے کہ وہ قلمکاروں کی تشہیر اور پذیرائی کرتا ہے ۔ادارے کی سرپرستی میں شوزیب کاشر کا شعری مجموعہ خمیازہ اور شہزاد تابش کا شعری مجموعہ اشاعت پذیر ہوچکا جن کی اردو دنیا کے مختلف علاقوں میں رونمائی ہوچکی ۔۔۔
ادارے کی سرپرستی میں راقم الحروف کے PhD کے مقالے بعنوان ،،جدید اردو شعراء کے کلام میں سماجی وابستگی کا جائزہ ۔۔۔اخترالایمان ،فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین ،،پر مشتمل کتاب کی رونمائی ان شاءاللہ عنقریب ہوگی ۔
ادارے کے ہر پروگرام معیاری اور مثالی ہوتے ہیں ۔پروگرام 191 ۔۔26جنوری 2019 کو انعقاد پذیر ہوا ۔۔پروگرام آرگنائزر ۔۔توصیف ترنل بانی وسرپرست ادارہ ہذا ۔جبکہ صدارت کے فرائض مختار تلہری صاحب نے انجام دیے۔۔مہمان خصوصی تہذیب ابرار اور مہمان اعزازی عندلیب صدیقی ۔۔پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ نظامت کے بغیر پروگرام چلتا رہا ۔۔۔قلمکاروں کو وقت مقررہ پر اپنی تخلیق پیش کرنی تھی ۔پروگرام چونکہ تجرباتی تھا نیز مختلف علاقوں کے نیٹورک کے مسائل لہٰذا کسی حد تک تواتر قائم نہ رہ سکا۔۔مگر جلد ہی اس پروگرام نے کامیابی کے زینے چڑھنے شروع کیے اور کامیابی وکامرانی نے قدم چومے کہ ،
جو ہچکچا کے رہ گیا سو رہ گیا ادھر
جس نے لگائی ایڑھ وہ خندق کے پار تھا
ویسے بھی احباب ،.
بے کوشش وجہد ثمر کس کو ملا ہے ؟؟
تخلیقات کے ویڈیوز گروپ میں شیئر ہونے لگے اور فیس بک پر ٹیلی کاسٹ ۔ایسے کہ ایک سماں بندھ گیا اور تجرباتی پروگرام مثالی بن گیا ۔برقی دنیا میں لائیو ٹیلی کاسٹ ،۔پہلا قدم ۔۔کامیاب قدم ۔
اس پروگرام کی صحیح معنوں میں جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔چیرمین ادارہ توصیف ترنل صاحب کے حوصلے کی داد نہ دینا ناانصافی گردانی جائے گی ۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ ،
حوصلہ خاکِ کی رفعت کا پتا دیتا ہے
اس کے ساتھ ٹیم دی بیسٹ کو ڈھیروں مبارکباد کہ ہر نئی سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں ہمیشہ ۔قدم بہ قدم ، شانہ بشانہ ساتھ چلتے رہے ہیں ۔بے شک موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں !! ۔ادارے کا ہر رکن گوہرِ نایاب ۔۔جس کی ضیا پاشی آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے ۔۔لائق صد ستائش ۔
توصیف سر اپنی ٹیم کے لیے سدا یہی صدا لگاتے آئے ہیں ،
کوئی مہر تاباں سے جاکے کہدے،کہ اپنی کرنوں کو گن کے رکھ لے
میں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوں
شعراء کرام
صدارت
مختار تلہری بریلی اترپردیس بھارت
زخموں سے بھلا جائےگی کیا لذتِ احساس
پروائی مجھے ایسی دوا دے کے گئی ہے
مہمانِ اعزازی
دیکھنا تم تو غزل کہتے ہی رہ جاؤ گے
ہم تو ایک شعر سے دیوانہ بنا لیتے ہیں
عندلیب صدیقی آسڑیلیا
ناقد مسعود حساس کویت
جب بناتا ہے نشانہ مرے زخمی دل کو
حرف جتنے بھی ہوں پھر تیر پہ رکھ دیتا ہے
میں نے روٹھے ہوئے یاروں سے تعلق رکھا
میں نے اجڑے ہوئے باغوں کی نگہبانی کی
شہزاد نیر پاکستان
حمد باری تعالی
نثری کاوش محاوروں کا پوسٹ مارٹم
ڈاکٹر ارشاد خان ممبرامہاراشٹر انڈیا
تیری رضا کوپاکے ہوئےسرخرو جو لوگ
یا رب عطا ہوان سا ہی علم و ہنر مجھے
منور پاشاہ ساحل تماپوری سعودی عرب
سائباں کی طرح کریں سایہ
خدمتِ خلق میں گزاریں ہم
عامرحسَنیؔ ملائیشیا
محمد زبیر ہنجوی، گجرات، پاکستان
رگِ خیال سے حرفِ جمال کھینچھنا ہے
غمِ فراق سے کیفِ وصال کھینچھنا ہے
شہزاد تابشِ لاھورپاکستان
تلخابہ خوں بارِ دگر سوچ کے آئے
فطرت تو نہیں اس کی مگر سوچ کے آئے
اس طرح لگی ذہن پہ حالات کی ٹھوکر
ماتھے پہ ہوئیں سوچ کی بیدار لکیریں
صابر جاذب لیہ پاکستان
عاطف جاوید عاطف لاہور پاکستان
دینا پڑتا ہے دل منافع میں
مفت میں کب خسارے ملتے ہیں
جابِر سہارنپوری بھارت
آپ بھی سب ہمیشہ سلامت رہیں
اور میرے لئے بھی دعا کیجئے
علی شیدا کشمیر بھارت
مری آواز میں رقص جنوں کا ساز رکھ دو
کہ ہر نالہ جو دل کا خوش ترنم ہو گیا ہے
روبینہ میر۔جموں ، کشمیر بھارت
کہاں کوئی منزل ، ڈَگَر ہی ڈَگَر ہے
اَزَل سے اَبَد تک سفر ہی سفر ہے
عجب لھجہ ہے اسکا شاعری سا
محبت هاتھ باندھے چل رهی هے
ماورا سید کراچی پاکستان
صبیحہ صدف بھوپال انڈیا
گردشِ وقت پہ پہرہ تو لگایا جائے
ایک نئی طرزسے ہستی کو سجایا جائے
ساجدہ انورمقام کراچی پاکستان
قلم کی نوک کا گھاؤ لگانا
ہے کاغذ کا مقدر زخم کھانا
تسنیم کوثر لاہور پاکستان
ہم خود پہ روا کیسا ستم رکھے ہوئے ہیں
ٹوٹی ہوئی کشتی میں قدم رکھے ہوئے ہیں
جنوں کی حدوں سے گزر کر گھٹایں
چلی ہیں تری اور پاگل ہوائیں
گل نسرین ملتان پاکستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest