رپورٹ تنقیدی پروگرام نمبر 199بعنوان

حیات و موت
تحقیق و تحریر
احمدمنیب۔ لاہور پاکستان
زندگی اور موت حیات اور ممات:
تخلیق کائنات کا منصوبہ
قرآن کریم نے تخلیقی عمل کے بہت سے پہلو نہایت درجہ وسعت سے بیان فرمائے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ارتقائی عوامل بھی اس میں شامل ہیں اور وہ حالات بھی جو اس کا باعث بنے۔
قرآن کریم فرقان حمید کے بعض بیانات اس قدر منفرد اور اچھوتے ہیں کہ تخلیق کے متعلق تحقیق میں بھی سنگ میل کی حیثیت کے حامل ہیں۔چنانچہ سورہ الملک کی ابتدائی چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہء قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جیسے چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہترین ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا، بہت بخشنے والا ہے۔ وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تُو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا کوئی رخنہ تجھے دکھائی دیتا ہے؟
یہ وہ مخصوص آیات ہیں جو تخلیق کائنات کے مکمل منصوبہ پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ یہاں سے دو اصول اُجاگر ہیں:
اول اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات میں کہیں کوئی تضاد نہیں
دوم زندگی کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کا ارتقا درجہ بہ درجہ ہوا ہے۔
دوسری اصل صفت رب سے تعلق رکھتی ہے جس کا استعمال قرآن کریم میں عموماً تخلیق اور پرورش کے سلسلہ میں ہوا ہے۔یعنی جسمانی روئیدگی اور ذہنی بالیدگی ہر دو اعتبار سے اپنی مخلوق کو ادنیٰ سے اعلیٰ حالت کو پہنچانے والی ہستی۔ اسے یوں سمجھیے کہ عربی میں رب الفلو اس انسان کو کہتے ہیں جو کسی گھوڑے کی اچھی دیکھ بھال کر کے اسے خوب صورت اور مضبوط گھوڑا بناتا ہے۔
والدین کو بھی یہ صفت ودیعت کی گئی ہے جو بچے کو جسمانی اور روحانی تربیت دے کر جوان بناتے ہیں۔
اسی طرح الرب کا ایک معنی یہ بھی ہے: پیش بینی کرنے والا۔ اس میں یہ معنی مضمر ہے کہ خالق اپنی مخلوق کی تمام تر ضروریات کو نہ صرف کُنہ تک جانتا ہے بلکہ پورا بھی فرماتا ہے۔
اس سارے عمل میں ایک وقار اور ترتیب ہے جیسا کہ اللہ تعالی نےسورہ النوح کی آیات چودہ اور پندرہ میں فرمایا ہے کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ سے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف طریقوں پر پیدا کیا۔
پھر سورہ الانشقاق کی بیسویں آیت میں فرمایا کہ:
یقیناً تم ضرور درجہ بہ درجہ ترقی کرو گے۔
یہ تخلیق حیات کا مکمل اور ہمہ گیر منصوبہ ہے۔ ارتقا کے مختلف مراحل میں زندگی پر اثرانداز ہونے والے عوامل اگرچہ مختلف رہے مگر ان کا منتہیٰ ہمیشہ تخلیق انسانی ہی رہا۔
علما اور سائنس دان
یہ اہم موضوع سائنس دانوں اور علماءِ دین کے مابین ہمیشہ موجب نزاع رہا ہے۔ یہ لوگ اپنی اپنی جگہ تخلیق کے گورکھ دھندے کو سلجھانے میں کوشاں تھے۔ چنانچہ مختلف نظریات تجویز کیے گئے اور اس مقصد کے لیے مختلف تجربات بھی تشکیل دیئے گئے تاکہ کسی طرح تجربہ گاہ میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جو زندگی کے آغاز میں زمین پر موجود حالات سے ملتے جلتے ہوں جن کی موجودگی میں اربوں سال پہلے حیات سے یکسر عاری، بے جان زمین میں نامیاتی جراثیم کی پیدائش ممکن ہوئی۔
دیکھنا پڑے گا کہ قرآن کریم کس طرح اس غیب کو شہود میں بدل رہا ہے اور کیسےمخفی حقائق کی پردہ کشائی فرما رہا ہے؟
قرآن کریم ان تمام نظریات کو رد کرتا ہے جن کی رو سے حیات کسی حادثہ کے نتیجہ یا اتفاق سے نمو پذیر ہوئی۔
تخلیقِ حیات
ابتدائے حیات کے حوالہ قرآن کریم میں خشک اور گیلی مٹی کا ذکر بار بار کرتا ہے۔
سورہ اٰل عمران آیت ساٹھ میں فرمایا کہ انسان کو اس نے مٹی سے پیدا کیا۔
الانعام کی آیت نمبر تین میں فرمایا کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔
سورة الحجر میں گاڑھے گارے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔
سورہ رحمان آیت پندرہ میں فرمایا کہ اس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح خشک کھنکتی مٹی سے تخلیق کیا۔
نزول قرآن کے وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تخلیق حیات کا تعلق کیچڑ یا کھنکتی ہوئی مٹی سے ہو سکتا ہے۔
ایک طرف قرآنی وضاحت اور دوسری طرف سائنس دانوں کی سائنسی تحقیق۔
میرا دعویٰ ہے کہ سائنسی تحقیق جب بھی کسی ٹھوس نتیجہ پر پہنچتی ہے تو وہ نتیجہ قرآن کریم کی پیش کردہ تصویر کے عین مطابق ہوتا ہے۔
آغازِ حیات کے متعلق مختلف نظریات
صدیوں سے فلاسفر اس گتھی کو سلجھانے میں سرگرداں ہیں کہ کائنات کیسے معرض وجود میں آئی؟ یہ تحقیق عہد حاضر میں زندگی کی ابتدا کے مطالعہ پر مرکوز ہو گئی۔ شومئی قسمت کہ وہ بھی اسی روایتی اول و آخر کے معمہ میں الجھ کر رہ گئے کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی تھی یا انڈہ؟
سب سے بڑا چیلنج جو انہیں درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ نامیاتی مادہ کیسے وجود میں آیا؟ غیرنامیاتی اجزا نامیاتی کیمیائی مادہ میں کیسے تبدیل ہو گئے؟
محققین متناقض صورت حال کا شکار ہو گئے کیونکہ ایک مسئلہ حل ہوتا تو کہیں پیچیدہ اور بظاہر لاینحل سوال سر اٹھا لیتے تھے۔
آج سے ساڑھے تین ارب سال پہلے زمین پر حیات کے آغاز سے بھی پہلے کرہء ارض کے ماحول اور آب و ہوا کی کیفیت کے بارہ میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ فضا میں آکسیجن کا یکسر فقدان تھا اور ایسے ماحول کو Anoxic کہا جاتا ہے جبکہ زندگی کی کوئی بھی شکل عمل تکسید یعنی Oxidation کے بغیر ممکن نہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ غیرنامیاتی مادہ کو نامیاتی مادہ میں تبدیل کرنے کے لئے آکسیجن کے بغیر ایسے ماحول کی ضرورت تھی۔چنانچہ کرہ ہوائی شروع کے ساڑھے تین ارب سال کے دوران آکسیجن سے خالی رہا ختی کہ کرہء قائمہ یعنی Stratosphere میں اوزون کی حفاظتی تہ تک موجود نہ تھی۔ چنانچہ بائیو کیمسٹری کے ماہر ایک انگریز سائنس دان جے بی ایس ہالڈین (Haldain) نے پہلے پہل اس امر کو تسلیم کیا کہ بے جان نامیاتی مادہ میں سے زندگی کے ارتقا کے لیے ضروری تھا کہ ایک تخفیفی ہوائی کرہ ہو جس میں آزاد آکسیجن موجود نہ ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیں۔
(Dickerson, R.E. September, 1978 Chemical Evolution and the Origin of Life. Scientific American, p. 70)
اوزون کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت طاقت ور تابکار شعاعیں بلا روک ٹوک زمین اور سطح سمندر پر اثرانداز ہوتی تھیں جن کی بمباری کی وجہ سے ایسا جان دار مادہ پیدا ہوا جس میں بے جان نامیاتی مادہ کو جان دار نامیاتی مادہ میں تبدیل کرنے کی خاصیت موجود تھی۔ سمندروں میں موجود غیرنامیاتی مادہ کی ابتدائی نامیاتی مادہ مثلا امینو ایسڈ وغیرہ میں تبدیلی اِنہیں شعاعوں اور فضا میں آکسیجن کی غیرموجودگی کا نتیجہ تھی۔ یہ کیمیائی عمل سادہ غیرنامیاتی مالیکیولز مثلاً پانی، کاربن ڈائی آکسائڈ اور امونیا کے باہم ملاپ سے پیدا ہوا۔
ہالڈین کے مطابق جوں جوں یہ سلسلہ بڑھا قدیم سمندروں کا پانی اس گرم پتلے کثافتی شوربہ Primodial Soup کی شکل اختیار کر گیا جسے پرائموڈیل سوپ یعنی قدیمی شوربہ کیا جاتا ہے۔
ہالڈین کی تحقیق کے نتائج 1929ء میں Rationalist Annual میں شائع ہوئے ماقبل 1924ء میں ایک روسی سائنس دان اے آئی اوپرن (Opran) بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کر چکا تھا۔لیکن دونوں کو پذیرائی نہ ملی تھی۔
ان دونوں کے بعد امریکن یونیورسٹی شکاگو سے تعلق رکھنے والے ایک سائنس دان ہیرلڈ سی یوری نے اپنی کتاب دی پلانٹس The Planets میں دونوں کا ذکر بھی کیا جس کے بعد اس کے ایک شاگرد سٹینلے ایل ملر (Miller) نے 1953ء میں عملی تحقیق کے میدان میں خوب نام کمایا۔
اس نے ایک برتن میں چند لٹر امونیا، میتھین اور ہائیڈروجن گیسوں کو اکٹھا کر کے وہ ماحول پیدا کیا جو سائنس دانوں کے خیال میں زمین کی ابتدا میں موجود تھا۔ اس آمیزہ میں اس نے کچھ پانی ملایا اور ایک گرم تار کی مدد سے اسے ابالا پھر اس آمیزہ میں سے بجلی گزاری۔ چند دن میں ہی ایک سرخ رنگ کا مرکب تیار ہو گیا۔ اس کا تجزیہ کرنے سے یہ بات کھلی کہ اس میں بہت سارے امینو ایسڈ موجود تھے۔ چنانچہ اس تجربہ سے تئیس سالہ نوجوان سائنس دان ملر بے انتہا خوش ہوا۔ پروٹین جو زندگی کے بنیادی اجزائے ترکیبی میں سے ہیں امینو ایسڈ کے باہم ملنے سے بنتے ہیں۔
اس تجربہ کے بعد سائنس دان خواب دیکھنے لگے کہ بہت جلد ٹیسٹ ٹیوب میں زندگی تخلیق کر لی جائے گی۔
اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے واٹسن (Watson) اور کرک (Crick) نے پہلی بار ڈی این اے اور آر این اے کی ساخت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔اب سائنس دانوں کے سامنے ایک اور چیلنج کھڑا ہو گیا کہ نامیاتی مادہ کیونکر اتفاقاً ایسی پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے؟
ایک ممتاز سکالر آر ای ڈکرسن نے اس سلسلہ میں اپنا ایک مضمون کیمیاوی ارتقا اور آغازِ حیات میں نہایت جامع اور غیرجانبدارانہ انداز میں ملر کے تجربہ کے اعدادو شمار پر بات کی اور لکھا کہ:
اگرچہ ملر کی تجربہ گاہ میں بہت سے اہم امینو ایسڈ مصنوعی طورپر پیدا ہوئے تھے جو جان دار اجسام کی لحمیات میں موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے سالمے بھی پیدا ہوئے جو جاندار اجسام میں نہیں پائے جاتے
اب آئیے ادبی دنیا میں تو معلوم ہوتا ہے کہ حیات اور تلخابہء حیات کو شعرا نے زندگی موت اور حیات و ممات کو بھی موضوعِ سخن بنایا۔
ایک بار کنفیوشس کی ایک کتاب پڑھتے ہوئے ان کا ایک مکاشفہ نظر سے گزرا اس دن سے میں حیرت زدہ ہوں کہ اصل کیا ہے اور خواب کیا؟
وہ لکھتے ہیں کہ میں حالت کشف میں دیکھا کہ میں تتلی بن گیا ہوں اور بہت تکلیف میں ہوں جب یہ کیفیت کشف مجھ سے دور ہوئی تو میں نے دنیا کی الم ناکیوں پر بھی نظر کی تو اس مخمصہ میں پڑ گیا کہ کیا میں انسان تھا اور خواب میں خود کو تتلی اور اس کی متعلقہ اذیتوں میں مبتلا دیکھا یا درحقیقت میں تتلی ہوں جو خود کو اب حالت خواب میں انسان کے روپ میں دیکھ رہی ہے اور انسانی اذیت میں مبتلا ہے؟ یہ کشف پڑھتے ہیں میں بے ساختہ ہنس دیا اور پھر مولی کے حضور بیٹھ کر بہت رویا اور اس نے میرے قلب پر یہ شعر جاری کر دیا
کچھ نہیں خواب کے سوا ہستی
خواب لیکن بڑا سہانا ہے
تو میرے دل کو تسلی ہوئی کہ جلد یا بدیر میں اپنے پیارے کے وصل سے ہم کنار ہوں گا تو باتیں ہوں گی۔
قارئین محترم!
زندگی کی حرکیات، بقائے اصلح، الم ناکیاں، مصائب، خوشیاں، دکھ سکھ سبھی کچھ مضامین میں سمیٹا جانے لگا اور غالب نے فرمایا:
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سےپہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اسی طرح نثرنگاروں نے بہت خوبصورت انداز میں زندگی اور موت کو اپنا موضوعِ سخن بنایا۔
عالمی ادارہ اردو بیسٹ پوئڑی کے تحت پروگرام نمبر 199 زندگی اور موت پر منعقد کیا گیا جس میں شعرا و نثر نگاروں نے بھر پور حصہ لیا اور اپنی اپنی بہترین کاوشیں پیش فرمائیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ پروگرام کیسا رہا۔
ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں
عالمی-تنقیدی-پروگرام-نمبر199بعنوان- زندگی اور موت
حیات،زندگی،زیست
حیاتیات کے نقطہ نظر سے زندگی، تمام تر حیوی (vital) مظاہر کے ایک جسم میں جمع ہوجانے کا نام ہے۔ اور چونکہ تمام جانداروں کی بنیادی اکائی خلیہ ہوتی ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ تمام افعال جو ایک خلیہ انجام دیتا ہے، مل کر حیات کہلاتے ہیں
سورت الانعام میں ہے۔
وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کردی (زندگی کی) ایک مدت اور ایک (دوسری) مدت (قیامت) اور بھی ہے جو مقرر ہے اللہ کے نزدیک اس کے باوجود تم شک میں مبتلا ہو۔
موت
کسی جاندار کے تمام تر حَيَوِی (vital) افعال کے خاتمے کو طبی لحاظ سے موت کہا جاتا ہے۔ گویا عموما موت کے بارے میں یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ یہ زندگی کا ایک آخری مرحلہ ہے جو طبیعی یا حادثاتی طور پر حیات کو موقوف کردیتا ہے
اور۔۔۔۔۔۔
کہہ دیجیے! جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وُہ تو تمھیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چِھپے کھُلے کے جاننے والے (اللہ ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وُہ تمھیں تمھارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا۔
القرآن۔۔۔۔۔۔8:62۔
مورخہ 23مارچ 2019 بروز ہفتہ
پاکستانی وقت ۔7بجے شام
ہندوستانی وقت۔7.30بجے شام
یہ رنگا رنگ پروگرام منعقد ہوا جس میں شرکا اپنی نثری یا شعری کاوش یا دونوں پیش کر سکتے تھے۔
یاد رہے کہ اس ادارہ کے بانی وسرپرست جناب توصیف ترنل نے ہی یہ اچھوتا آیڈیا پیش کیا تھا۔
اس پروگرام کو ایک مخلص نوجوان محمد احمر جان رحیم یار خان پاکستان نے آرگنائز کیا۔
پروگرام کی رنگینیوں میں اضافہ کرنے کے لیے ایک بہترین بروشر برادر محترم صابر جاذب لیہ پاکستان نے تیار کیا۔
اس پروگرام کی رپورٹ لکھنے کے لیے خاکسار احمد منیب لاہور پاکستان نے اپنا نام پیش کیا تھا سو رپورٹ پیش خدمت ہے۔
مسند صدارت پر ہردلعزیز شاعرہ محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان سے متمکن تھیں انہوں نے سب سے آخر میں خطبہء صدارت کے ساتھ ہی اپنا خوب صورت کلام پیش فرمایا۔ یہ ایک انوکھا انداز تھا کہ خطبہء صدارت پہلے اور کلام بعد میں سنایا گیا۔
آج کے پروگرام کے پہلے مہمان خصوصی اسم بامسمی جناب تہذیب ابرار بجنور اتر پردیش سے تشریف لائے اور مہمان خصوصی والی نشست کو چار چاند لگا رہے تھے انہوں نے کلام پیش فرمایا کہ
یہ زندگی بھی تو پھر زندگی نہیں رہتی
بچھڑ کے اس سے اگرچہ مرا نہیں جاتا
ایک بہت سنجیدہ طبع اور خاص لب و لہجہ کی شاعرہ آج کے پروگرام کی مہمان خصوصی ڈاکٹر مینا نقوی بھارت نے کلام عطا فرمایا
ہم بھی مینا اپنی سانسیں ہار دیں
پائیں جس دن کامرانی زندگی
پہلے مہمان اعزازی میرے برادر اور فکری و منطقی شاعری کے خالق جناب صابر جاذب لیہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے جادو اثر کلام سنایا
تشنگی کا پیڑ بھی پل میں ہرا ہو جائے گا
وقت مانگے گا اگر عمر گریزاں کا حساب
مہمانان خصوصی میں دوسری نشست ہر محترمہ روبینہ میر جموں کشمیر بھارت سے رونق افروز تھیں جو اپنے اچھوتے لہجے کی بنا پر اس وقت صف اول کے شعرا میں شمار ہوتی ہیں۔ نظم و نثر دونوں میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ اس پروگرام میں اپنی نثری کاوش لے کر حاضر ہوئیں
مومن کی روح شب و روز ہر گھڑی اس قید خانہ سے نجات کے لیے مضطرب و بے قرار رہتی ہے۔
زندگی جینا ہے مُشکل اور مرنا سہل ہے
زندگی خود حال اپنا کہہ رہی ہے ہر طرف
پروگرام میں حسبِ سابق نقد نظر سے بھی نوازا گیا۔ مسعود حساس کویت شفاعت فہیم بھارت غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان اور نعیم جاوید صاحب نے بڑے جچے تلے انداز میں سب شعرا کو اچھے اشعار پر داد و تحسین سے نوازا اور مفید مطلب مشورہ جات سے بھی نوازا۔ کہیں کہیں محترم علی شیدا صاحب اور خاکسار نے بھی تنقید کے شعبہ میں اپنا حصہ ڈالا۔
نظامت
گل نسرین ملتان پاکستان
پروگرام کا آغاز حمد پاک سے ہوا جو پیش کرنے کی سعادت ایک منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ روبینہ میر جموں کشمیر بھارت نے پائی
وہی رب ہے وہی اللہ جس کا بول بالا ہے
ثنا کرتی ہوں اس کے نام کی جو رحم والا ہے
اس پروگرام میں نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت جناب محمد زبیر گجرات پاکستان کو ملی تو آپ نے عرض کیا
حصارِ نور میں رہتا ہوں نعت کہتا ہوں
عجب سرور میں رہتا ہوں نعت کہتا ہوں
کرناٹک بھارت سے محترمہ نسیم خانم صبا نے بھی نعت پیش کرنے کی سعادت پائی
کرتے ہیں اقرار سبھی یہ سارے نبیوں میں ہیں صبا
فکر ہے مبہم دل ہے پُرغم آنکھیں ہیں نم صلِّ علی
اس کے بعد گلِ نسرین محترمہ نے ملتان سے نظامت کے فرائض نباہتے ہوئے شعرا اور نثر نگاروں کو باری باری دعوت کلام دی اور سب نے مندرجہ ذیل ترتیب سے کلام پیش فرمایا۔
سب سے پہلے کاٹ دار لہجے کے شاعر جناب مصطفی دلکش مہاراشٹر الہند سے برقی شمع کے سامنے آئے اور کہا کہ
کسی کا چاند سا چہرہ پسِ چلمن ہے اے دلکش
میں اب سمجھا مجھے کیوں چاندنی اچھی نہیں لگتی
ایک بہت ہی پیارے شاعر جناب محمد زبیر گجرات پاکستان سے رونق افروز ہوئے کہ
چمن میں رقصِ گُلاں سیرِ نازنیناں بھی
بہارِ زیست ہے یہ زیستِ بہار بھی ہے
ہمارے اس رنگا رنگ خوب صورت پروگرام کی دوسری ناظمہ محترمہ صبیحہ صدف بھارت سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے اپنے کلام اور اپنے انداز سے اپنا ایک خاص مقام بنا رکھا ہے انہوں نے نظم پیش کی چند شعر نمونہ کے طور پر حاضر ہے
ہر نظر میں کھٹکتی رہی میں سدا
نام لینا بھی میرا گوارا نہیں
جناب اسرار احمد دانش انڈیا نے اپنے کلام کا جادو جگایا کہ
مسئلے گویا یہاں مہمان ہیں
کر رہی ہے میزبانی زندگی
اصغر شمیم کولکاتا انڈیا نے اپنی باری پر بہت خوبصورت کلام سے نوازا ایک شعر ملاحظہ ہو
درد میرا کم سے کم ہوتا نہیں
دے مجھے کچھ شادمانی زندگی
ایک معربر نقاد ایک منجھے ہوئے شاعر ایک طرح دار شخصیت جناب علی شیدا کشمیر نے کلام عطا فرمایا کہ
زندگی میں تجھے سلام کرتا ہوں
تو نے مجھے مرنا سکھا دیا
خاکسار کو بھی اس پروگرام میں اشعار پیش کرنے کی سعادت ملی ایک شعر پیش خدمت ہے
خود کو صحنِ گماں میں دفنایا
ساری شرطوں پہ ہم نے واری شرط
جھنگ سے جناب اخلاد الحسن اخلاد نے اشعار کا جادو جگایا کہ
اخلاد فانی دنیا میں رہنا نہیں سدا
دن تھے نصیب میں جو گزارے چلے گئے
صاحبو اب باری تھی محترم ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت کی آپ نے خوب کلام پیش فرمایا
آشنا سب حقیقت سے یو جائیں گے
آنکھ سے پردہ جس دم اٹھائے گی موت
محترمہ ساجدہ انور کراچی پاکستان سے اپنا کلام لے کر حاضر خدمت ہوئیں
قافیہ ردیف کو تولوں
درسخن غزلیات کی خاطر
چاند سورج صبا کی سرگرمی
رونقِ کائنات کی خاطر
ملائشیا سے ہمارے دوست جناب عامر حسنی نے اپنا خوب صورت کلام پیش فرمایا
موت میں ہے سکون اے عامر
زندگی میں۔تو بس تمازت ہے
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے ساتھ ایک لمبے عرصہ سے جُڑے ہوئے ایک مخلص کارکن محترم جعفر بڑھانوی بھارت سے سے تشریف فرما ہوئے اور برقی شمع کے سامنے آ کر گویا ہوئے
خاک کو خاک میں ملائے گا
موت کا جب فرشتہ آئے گا
محترم عاطف جاوید عاطف نے کلام پیش فرمایا کہ
خدائے واحد اے کیمیا گر
تو ہر تناسب بحال کرنے پہ مقتدر ہے
یہ تیرے سرکش یہ باغی خلیے
سرائے کیمو تو پا چکے ہیں
شفائے کیمو کے منتظر ہیں
کہ حکمِ تحلیل کب ملے گا
رام پور بھارت سے تشریف لانے والی سیما گوہر نے اپنے کلام کا جادو جگایا
زندگی نے کبھی اپنا مجھے ہونے نہ دیا
عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری
ایک نہایت منجھی ہوئی ناظم مشاعرہ محترمہ گل نسرین ملتان پاکستان سے مشاعرہ کی نظامت کرنے آن پہنچیں اور معیاری اور خوب صورت نظامت کا آغاز ہوا۔ ان کے کلام کا نمونہ پیش ہے
دو دلوں کا رابطہ ہے زندگی
چاہتوں سے آشنا ہے زندگی
آخر پر محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان نے خطبہء صدارت اور اپنا کلام پیش فرمایا جو حسبِ ذیل ہے
خطبہء صدارت
السلام علیکم۔۔۔۔
سب سے پہلے جناب توصیف ترنل اور انتظامیہ میں شا مل دیگر افراد محترم احمر صاحب ، محترم صابر جاذب اور محترم احمد منیب کے لیے تہہ دل سے ممنون و متشکر ہوں کہ آج کے اس خوبصورت مشاعرے کی صدارت مجھے مرحمت فرمائی ۔۔۔اس عزت افزائی کے لیے دلی دعائیں
ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری کے ہفتہ وار ۔مشاعرہ کی کامیابی پر انتظامیہ کو دل مبارک باد پیش کرتی ہوں۔۔۔یقینا توصیف ترنل صاحب اردو ادب کے فروغ کے لیے جس قدر خلوص نیت سے کوشاں ہے یہ ادارے کی کامیابی کی بنیاد اور قابل تحسین ہے۔۔۔توصیف ترنل صاحب کے ساتھ ساتھ ادارے کے دیگر فعال اراکین کی محنت بھی ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری کو اپنے نام کی طرح بیسٹ گروپ بنائے ہوئے ہے۔۔۔۔دعا گو ہوں کہ اللہ پاک اس ادارے کو مزید کامیابیوں سے ہم کنار کرے۔۔۔امین
آج کے مشاعرے میں شامل تمام شعرائے کرام بھی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔۔۔میں آپ سب کو مبارک باد پیش کفن چاہتی ہوں ۔۔۔اور سب نے زندگی اور موت کے موضوع پر جو کلام شامل کیا وہ بھی داد کا مستحق ہے۔۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہلفظ ک علم ایک سمندر ہے جسے ہم درجہ بدرجہ سیکھتے ہیں اور ہمارے فن میں آہستہ اہستہ نکھار اتا ہے۔۔۔۔البتہ ہمارا سیکھنے ک جذبہ ہی کامیابی کا معیار ہوتا ہے۔۔۔۔تنقید برداشت کرنا اور تنقید سے رہنمائی حاصل کرنا ہی دراصل فن کو اگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری اس لحاظ سے بہترین تربیتی ادارہ ہے جو شعرا ء کے ارتقائی عمل کو ایک راہ راست فراہم کرتا ہے۔۔۔تمام ناقدین جناب مسعود حساس صاحب ، جناب شہزاد نیر صاحب اور جناب شفاعت فہیم صاحب، محترم علی شیدا محترم احمد منیب اور دیگر انتہائی خلوص دل سے ادارے کے پروگرامز میں شامل حال رہتے ہیں اور ہمیشہ بہترین نشان دہی اور رہنمائی فرماتے ہیں۔۔۔شعرائے کرام کو یقینا بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔۔۔۔آپ سب کے لیے بھی دلی دعائیں کہ آپ اتنا وقت ادب کی خدمت کے لیے صرف کر رہے ہیں۔۔۔
آخر میں آج کے موضوع کے مطابق ایک تازہ غزل پیش خدمت ہے۔۔۔۔
دم بہ دم پر دم جواں ہے زندگی
دیکھئے کب تک رواں ہے زندگی
ہر قدم غم یا خوشی سے واسطہ
ہر قدم پر امتحاں ہے زندگی
چلتی رہتی ہے تھکن کے با وجود
اک مسلسل کارواں ہے زندگی
عمر کے لمحات کتنے مختصر
اور بحر بے کراں ہے زندگی
زندگی کو موت سے کب مات ہے
جاوداں ہے، جاوداں ہے زندگی
آج کل تیور ہیں کچھ بدلے ہوئے
اج کل کیوں بد گماں ہے زندگی
ہر قدم آہ و فغاں کے با وجود
ز ندگی سے شادماں ہے زندگی
زندگی کے راز اب تک ہیں نہاں
کون کہتا ہے عیاں ہے زندگی
اک جہاں تک اک جہاں کا ہے سفر
اک حقیقت کا بیاں ہے زندگی
عشق ماہ و انجم و خورشید ہے
عشق سے ہی ضوفشاں ہے زندگی
غزالہ انجم
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
یوں یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا جس کی کامیابی کا سہرا یقینا ساری ٹیم کے سر ہے۔ اللہ سب کو سلامت رکھے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest