ہزل :یہاں جو ہنستا ہوا آئے وہ روتا جائے

کیا ضروری ہے کنوارے کا ہی رشتہ جائے
کسی رنڈوے کا بھی تو عقد کرایا جائے

پتنیاں خوش ہیں کہ اب رسم ستی کی نہ رہی
پتی شمشان جو جائے تو اکیلا جائے

پہلی ہی شب میں بنا دی گئی درگت ایسی
چپ رہا جائے نہ کچھ دولہا سے بولا جائے

ٹھوک کر سینہ کہا کرتی ہے بیگم مجھ سے
اے نگوڑے ترے گھر سے مرا جوتا جائے

ہے یہی ریت میاں حسن کے بازاروں کی
یہاں جو ہنستا ہوا آئے وہ روتا جائے

عمر بیوی کی سہی کیوں نہ اسے بتلا دیں
عہد حاضر میں بھی سچ بول کے دیکھا جائے

کیسی آفت ہے پڑی میرے گلے میں یہ رضیؔ
ایک بچہ مری بیوی سے نہ پالا جائے

ڈاکٹر رضیؔ امروہوی
بانی علامہ قیصر اکیڈمی
علی گڑھ
آباد مارکیٹ دودھ پور علی گڑھ
موبائل:9897601669

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest