فیصلہ جو بھی ہو منظور ہونا چاہئے

 

 

حج کمیٹی آف انڈیا کے ممبر اوربی جے پی اقلیتی مورچے کے نائب صدرعرفان احمد نے عوام سے اپیل

کی ہے کہ فیصلہ کسی کے بھی حق میں آئے اسے مسلمانوں کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہئےسپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ چھپاکررکھا ہے جو 17نومبر سے قبل کسی بھی دن اس پر فیصلہ آنے کی امید کی جا رہی ہے۔ اور ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی اپنے ریٹائر ہونے سے پہلے یہ فیصلہ سنا کر جائیں گے ۔بھارتی سماج کے تمام شعبوں پرانتہائی گہرے اثرات مرتب کرنے والے قدیم ترین ’اجودھیا تنازعہ‘ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں چالیس دنوں تک سماعت مکمل ہونے کے بعداب سب کی نگاہیں جلد ہی آنے والے عدالت کے فیصلے پر ٹک گئی ہیں۔عدالت عظمیٰ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایودھیا کی منہدم شدہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کس کی ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ زمین کے اس تنازعے کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں مذہبی عقائد سے بھی ہے اور اس سے مذہبی قوم پرستی کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔ایسے عالم میں کسی طرح کی انہونی نہ ہواس کے لیے وزیراعظم نریندر مودی،مسلم پرسنل بورڈ ،آرایس ایس اور دیگر تنظمیوں اور شخصیات نے عوام سے سپریم کورٹ کے فیصلے کوکھلے دل سے قبول کرنے اور عوام کو صبروتحمل کے ساتھ امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔اسی ضمن حج کمیٹی آف انڈیا کے ممبر اوربی جے پی اقلیتی مورچی کے نائب صدرعرفان احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فیصلہ کسی کے بھی حق میں آئے اسے مسلمانوں کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہئے اور کسی بھی طرح کا کوئی ایسا رد عمل نہیں ہونا چاہئے جس سے سماجی تانے بانے پر اثرپڑے اور پر امن ماحول میں رخنہ ہو۔ عرفان احمد نے کہا کہ اگر فیصلہ مندر کے حق میں آتا ہے تو مسلمانوں کو اسے کھلے دل سے قبول کرنا چاہئے اور اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آتا ہے تو مسلمانوں کو اپنے بڑے بھائی کے آستھا کا خیال رکھتے ہوئے مسجد کی زمین سے مندر کے حق میں دستبردار ہوجاناچاہئے۔اسی طرح اگر فیصلہ کسی کے حق میں نہیں آتا ہے اور حکومت کے سپرد کردیا جاتا ہے تو حکومت جوبھی فیصلہ کرے اسے بھی مسلمانوں کو قبول کرنا چاہئے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ہماری توخواہش ہے کہ اس جگہ پر ایک بڑا رام مندر تعمیر ہوجس میں ہندو،مسلم ،سکھ،عیسائی تمام لوگ حصہ لیں ،کیونکہ اگرفیصلہ مسلمانوں کے حق میں آبھی جاتا ہے تو بھی مسلمان اس پر مسجدتعمیر نہیں کرپائیںگے اور نہ ہی اس پر کبھی نماز پڑھ سکیں گے اس لیے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے سب سے بہتر یہی ہے کہ مسلمانوں کوایسی صورت میں نہ صرف زمین حوالے کردینا چاہئے بلکہ رام مندر کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔ویسے بھی رام کو مسلمان جب پیغمبر مانتے ہیں تو ایک پیغمبر کے نام پر تعمیر ہورہے مندر کی مخالفت کسی طور پر بجا نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس پورے تنازعہ میں ہمیشہ یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ یا تومعاملہ آپسی سمجھوتے سے حل کیا جائے یاسپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو اسے قبول کیا جائے تواب ذمہ داری نبھانے کی باری آئی ہو سو اب نبھانا چاہئے ۔ہندستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ہمارے وزیراعظم نے ایک سوارب ہندستانیوں کی ایک ساتھ ترقی کا نعرہ دیا ہے ۔اس لیے اس معاملے میں جو فیصلہ آئے گا ہمیں یقین ہے اس میں سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب کا وشواس ضرور شامل ہوگا۔اس ساتھ وکاس اور وشواس کو یوں ہی برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ امن کی فضا قائم رکھی جائے اس کیلئے مسلمانوں کو دریا دلی کا ثبوت دینا ہوگا۔ معلوم ہو کہ اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو مقدمے کے ایک مسلم اور دو ہندو فریقوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد تینوں فریقوں نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔یہ مقدمہ کتنا پیچیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند مہینے قبل خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ہندو اور مسلم رہنماؤں کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ اس تنازعے کو عدالت سے باہر مصالحت سے حل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ثالثی کیلئے تیار ہیں لیکن ثالثی کی تمام کوششیں بالآخر ناکام ہوئیں ۔کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے سپہ سالار میر باقی نے بادشاہ کے حکم پر سن 1528-29 میں اترپردیش کے علاقے اجودھیا میں جو مسجد بنوائی، اس کا نام بابری مسجد رکھا گیا،حالانکہ ایک بہت بڑی تعدادکا ماننا ہے کہ میر باقی نے یہ کام مندرتوڑ کر کیا اور کچھ اچھا نہیں مانتے ۔ ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد اس مندر کو توڑ کر بنوائی گئی جہاں پر ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے۔ یہ تنازعہ پہلی مرتبہ انیسویں صدی میں برطانوی دور حکومت میں سامنے آیا اور 1885میں فیض آباد ضلع (جہاں اجودھیا واقع ہے) کے کمشنر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔لیکن کمشنر ایف ای اے کیمیئر نے مسجد اور اس کے احاطے پر ہندوؤں کے ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ بابری مسجد میں باضابطہ نمازیں ہوتی رہیں لیکن 22-23 دسمبر سن 1949 کی رات کو مسجدکے درمیانی گنبد کے نیچے بھگوان رام کی مورتی رکھ دی گئی اور ہندوؤں کے ایک طبقہ نے دعوی کیا کہ بھگوان رام پرکٹ (نمودار) ہوگئے۔اس کے بعد صورت حال کشیدہ ہوگئی اور حکومت نے مسجد پر تالا لگا کر وہا ں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی۔ اجودھیا کے مسلمانوں نے مسجد میں مورتی رکھنے کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد ہندوؤں نے بھی مسجد کی زمین پر ملکیت کا مقدمہ دائر کر دیا۔کئی مہم چلائیں گئیں ،بالآخر چھ دسمبر 1992ء کو جمع ہونے والے ہزاروں کے ہجوم نے تاریخی بابری مسجد کو منہدم کر دیا، منہدم مسجد کے منبر کے مقام پر رام للا کی مورتی نصب کردی اور وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔ عدالت عظمٰی نے اس کے بعد ایک حکم امتناعی جاری کر کے متنازعہ مقام کو جوں کا توں رکھنے کی ہدایت دی۔اس وقت سپریم کورٹ میں جو مقدمہ زیر سماعت ہے وہ 2.77 ایکڑ رقبہ والی اراضی اور متنازع مقام کی حفاظت کے لیے وفاقی حکومت کے ذریعے حاصل کردہ مسجد کے اطراف کی 67 ایکڑ زمین سے متعلق ہے

 ۔نوٹ یہ مصنف کی اپنی رائے ہے صدا ٹوڈے اس میں شامل نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram