رام مندر کی ہی ہوگی تعمیر۔ جانئے ا فیصلے سے پہلے فیصلہ کس نے دیا

اب جبکہ سب طرف سے سنوائی مکمل ہو چکی ہے اور اس پر بھی کافی افواہوں کا بازار گرم رہا  ہےکہ سنی وقف بورڈ نے بابری مسجد سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسے میں اکھل بھارتیہ ہندومہاسبھا نےاجودھیا معاملے میں ثالثی کی تجویزکوخارج کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے اورمتنازعہ زمین پررام مندر کی ہی ہوگی ۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے قومی ترجمان ڈاکٹر پاتال ناتھ جی اودھوت نےیہاں چھتیس گڑھ کےدھمتری سےمتعلق لوجہاد کےایک معاملے پربحث کےلئے جمعرات کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی ۔ہندومہاسبھا اوردیگرہندووادی تنظیموں نےکہا ہےکہ ملک میں لوجہاد کو فروغ دینےکےلئے غیرممالک سے پیسہ آرہا ہے، جسے روکنے کےلئے حکومت کو مذہب کی تبدیلی پرسخت قانون بنانا چاہئے۔ چھتیس گڑھ کے دھمتری کے رہنےوالے اشوک کمارجین نے اپنی 23سالہ بیٹی انجلی کےلوجہاد کا شکار بننے کا الزام لگاتے ہوئےکہا کہ محمد ابراہیم صدیقی نامی شخص نے فرضی پہچان بتاکران کی بیٹی کواپنی محبت کے جال میں پھنسایا اوراس  سے شادی کرلی ۔اب جبکہ لمبی بحث کے بعد اجودھیا کی متنازعہ زمین سے متعلق مقدمے پر40 دن تک چلی جرح ہونے کے بعد یہ تاریخی سماعت کل اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ اب پورے ملک کی نگاہیں اس معاملے کے فیصلے ٹکی ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی 17 نومبرکو ریٹائرہورہے ہیں، اس لئے اس سے قبل اس معاملے پرفیصلہ آسکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram