رام مندر تحریک کے لیڈران حاشئے پر پہنچائے گئے

 

 

 

 

 

 

 

 

جاویدجمال الدین
ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لوک سبھا انتخابات کے لیے انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں ،انتخابی منشور جاری کیے جارہے ہیں اور بیان بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے ،اس دوران کسی بھی طرح ایک دوسرے کے ساتھ عزت واحترام اور لحاظ نہیں کیا جارہا ہے ، بلکہ ذاتیات پر بھی حملے کیے جارہے ہیں ،ان شخصیات میں ملک کے وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)سرفہرست نظرآرہی ہے۔اور خوداعتمادی کے شکار مودی اور شاہ کی جوڑی نے بی جے پی کے کئی پارٹی لیڈروں کے ٹکٹ کاٹ دیئے ہیں اور ان میں آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے ہمراہ 1980کے عشرہ میں پارٹی کی تشکیل دینے والے لال کرشن اڈوانی بھی شامل ہیں ۔
جبکہ دوسرے لیڈروں میں بابری مسجد شہادت کے قصوروار اور رام جنم بھومی مہم کے قدآورسنگھ پریوار اور بی جے پی سے وابستہ مرلی منوہر جوشی ،اوما بھارتی ،کلیان سنگھ اور ونئے کٹیاربھی شامل ہیں جوکہ 1980کے آخری اور 1990کے ابتداء میں کافی سرگرم رہے اور اب ان کا یہ حال ہے کہ انہیں بی جے پی میں بھی کوئی پوچھ نہیں رہا ہے ، 2019کی انتخابی مہم سے وہ غیر حاضر نظرآرہے ہیں ،ان میں سے متعدد پارٹی کے عتاب کا شکار بنے ہیں اور کئی ایک نے خود الیکشن نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بی جے پی نے درجن بھر لیڈروںکو آئینی عہدوں پر فائزکردیا ہے اور ان کا الیکشن کے میدان میں اترنا ممکن نہیں ہے۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ رام مندر مہم سے وابستہ رہے ،لیڈروں کو کنارے کردیا گیا ہے ۔سنگھ پریوار کا کہنا ہے کہ ان کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ،یہ فیصلہ بی جے پی کا اندورنی معاملہ ہے۔ اس فیصلہ کا شکارخود کو مردآہن کہلائے جانے والے ایل کے اڈوانی بنے ہیں ،جنہوں نے خون پسینے سے پارٹی کو پروان چڑھایا ہے ۔
1980میں بی جے پی کی تشکیل کے بعد اٹل جی اور اڈوانی جی نے پارٹی کی ترقی اور فروغ کے لیے رات دن ایک کردیئے اور بحیثیت بی جے پی قومی صدرایل کے اڈوانی نے 1990میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے شہر اجودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے سومناتھ سے اجودھیا تک رتھ یاترا نکالی اور اسی تحریک کے تحت 6 دسمبر 1992کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے بڑی دلیری سے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا ،ان کے ہمراہ اس صف میں سابق مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی بھی شامل رہے اور اس عرصہ میں 1991تا1993تک جوشی بی جے پی کے صدرکے عہدہ پر فائز رہے اور ان کا ساتھ 6دسمبر1992 کو سادھوی اوما بھارتی دے رہی تھیں،اس سانحہ کی تحقیقات کرنے والے لبراہن کمیشن نے انہیں بابری مسجد انہدام کیس میں قصوروار ٹہرایا ہے اوراس سے قبل وہ ان کے ساتھ پارٹی میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف سرعام اور اعلیٰ لیڈروں کی موجودگی میں آواز بلند کرچکی ہے اور اس مرتبہ بھارتی نے لوک سبھا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ،ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی ہائی کمان کے فیصلوں اور پارٹی میں ہی نہیں بلکہ مرکزی کابینہ میں ان کی قدر نہ ہونے سے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔
بابری مسجد کے انہدام اور اقلیتی فرقے کو ہمیشہ نشانہ بنانے والے بجرنگ دل کے صدر ونئے کٹیار کا حشر بھی یہی ہوا ہے ،جوکہ جنوں میں کچھ بھی بیان دینے لگیں ہیں ،ایک دورمیں ان کی طوطی بولتی تھی ،مودی اور شاہ نے ان کا بھی ٹکٹ کاٹ دیا ہے ،انہوںنے 1990کے عشرے میں اجودھیا میں رام مندرکی تعمیر کے لیے منعقد کی جانے والی کارسیوا کے لیے اہم رول اداکیا تھا۔اس صف میں راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ بھی ہیں جوکہ 1992میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ تھے اور حلف نامہ دائر کرنے کے باوجود انہوں نے مسجد کو بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا انجام کارمسجد شہید کردی گئی اور اس لاپروائی کے سبب انہیں سپریم کورٹ نے سزا بھی سنائی تھی۔حال میں انہوں نے ایک سیاسی بیان دے دیا ہے ،علی گڑھ میں کلیان سنگھ نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نریندرمودی کو ایک بار پھر کامیاب کرنے کی اپیل کردی ،حالانکہ گورنر کاایک آئینی عہدہ ہوتا ہے اوراس معاملہ میں الیکشن کمیشن نے سخت نوٹس لیتے ہوئے صدرجمہوریہ رام کووند کو مکتوب روانہ کیا جوکہ انہوںنے وزارت داخلہ کو بھیج دیا ہے۔تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔
دراصل بی جے پی کی ہمنوا پارٹیوں اور تنظیموں نے گزشتہ سال رام مندر کی تعمیر کے لیے خوب تحریک چلائی ،لیکن اچانک اس معاملہ کو لوک سبھامیں نہ اٹھنے کا حیرت انگیز فیصلہ لیا گیاہے ،رام مندر کی تحریک سے جڑے لوگوں کو کنارے کرنے کا فیصلہ فی الحال سمجھ سے باہر ہے ،لیکن بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے سبھی لیڈران اور رام بھکت نریندر مودی کو دوبارہ ملک کا وزیراعظم بنائے جانے کے لیے ایری چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں اور ان کی سرگرمیاں منصوبہ بند طریقہ سے جاری وساری ہیں۔
ویسے اپوزیشن کا الزام ہے کہ بی جے پی نے رام مندر کا معاملہ بھلادیا ہے اور یہی سبب ہے کہ مندر تحریک سے جڑے لیڈران کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے ،اوما بھارتی جیسے لیڈروںنے اصلیت بھانپ لی ہے اور خود کنارے ہوجانے میں ہی اپنی بقا سمجھی ہے۔یہ حقیقت بھی ہے کہ حال کے دنوں میں پڑوسی ملک سے ہونے والے کشیدگی اور دیگر معاملات کی وجہ سے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو جو تقویت حاصل ہوئی ہے ڈاس میں انہیں رام مندر معاملہ کی پروا نہیں ہے،اسے حل کرنا بھی چاہتے ہیں اور اسے ترپ کے پتہ کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔سچ یہ بھی ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی فائدے کے لیے ماضی کو بھلانے میں ماہر ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ رائے دہندگان ترقی اور روزگار کو اہمیت دینے لگے ہیں ،اور جذباتی مسائل کو نظرانداز کردیتے ہیں ۔جہاں مودی اور شاہ کی قیادت میں بی جے پی کا ایک دھڑا فرقہ پرستی کو بھی ہوا دینے کے لیے کوئی موقعہ نہیں چھوڑتا ہے ،ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ حال میں وزیراعظم نریندرمودی نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’’ہندودہشت گردی ‘‘کی اصطلا ح اس کے دورحکومت میں ہی دی گی ہے ،انہوںنے سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگائوں بم دھماکو ںکا راست ذکر نہیں کیا ،لیکن ان کا اشارہ اسی جانب تھا ،سمجھوتہ ایکسپریس میں معاملہ میں حال میں سوامی اسیمانند سمیت چار افراد کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے حال میں بری کردیا اور جج نے واضح طورپر کہا کہ ’’وہ یہ فیصلہ دینے کے لیے مجبور ہیں کیونکہ استغاثہ ایسے ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے ،اس لیے ان قصورواروں کو دل پر پتھررکھ کر بری کیا جارہا ہے۔ایک طرف ہندتوا کو مدعا بنانے والے لیڈروں کو سیاست سے کنارے کیا جارہا ہے اور دوسری طرف خود مودی خودکو ہندتوا کے علمبردار کے طورپرپیش کررہے ہیں۔ہمیں نتیجہ کا انتظارکرنا ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
۔۔۔۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest