راجستھان اور تلنگانہ میں ووٹنگ جاری

ای وی ایم میں خرابی کے درمیان راجستھان میں شروعاتی دور میں صرف22 فیصد ووٹنگ، تلنگانہ میں بھی لگی لمبی قطاریں

جےپور؍حیدرآباد:تلنگانہ اور راجستھان اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے۔ راجستھان میں بڑے پیمانے پر ای وی ایم میں خرابی کی بات سامنے آئی ہے۔ پولنگ مراکز پر بھاری بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ وی ایم کی خرابی کی وجہ سے مرکزی وزیر ارجن میگھوال کو بھی تقریباً ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔
راجستھان کے فتح پور شیخاوٹي میں چمڑيا کالج کے پاس دو گروپوں میں تصادم ہوگیا جس میں ایک شخص زخمی بھی ہوگیا، جس کی وجہ موقع پر کافی تعداد میں بھیڑ موجود ہے۔ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔
اس کے علاوہ تلنگانہ میں ووٹر لسٹ میں نام نہیں دیکھ بھڑکے ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑی جوالہ گٹا، ٹوئٹر پر لکھا یہ کیسا منصفانہ انتخابات ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جوالہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ پورے ملک میں ہو رہا ہے۔یعنی پورے ملک میں الیکشن کمیشن کے انتظامات پر سوال کھڑے ہورہے ہیں، کہیں مشین خراب ہورہی ہے تو کہیں ووٹر لسٹ سے نام غائب ہورہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق راجستھان کے پندرہویں اسمبلی انتخابات کےلئے آج صبح آٹھ بجے سے پرامن طریقےسے ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔موصول اطلاع کے مطابق سبھی جگہ پرامن طریقےسے ووٹنگ شروع ہوگئی۔حالانکہ جودھپور میں سردار پورا پولنگ بوتھ پر ایک ای وی ایم مشین شروع نہ ہونے کی خبر ہے جسے جلد ہی شروع کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ووٹنگ شام پانچ بجے تک کی جائےگی۔اس الیکشن میں پہلی بار وی وی پیٹ مشینوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ووٹنگ کےلئے 51ہزار 687 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ان میں 209 ماڈل پولنگ اسٹیشن ہیں۔
راجستھان میں اسمبلی انتخابات کے لئے ہو رہے ووٹنگ کے پہلے تین گھنٹے میں تقریبا 22 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا۔ ریاست کی 200 میں 199 نشستوں کے لئے پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور پہلے ایک گھنٹے میں 6.23 فیصد ووٹر ووٹ ڈال چکے تھے۔ یہ اعداد و شمار سوا گیارہ بجے تک 21.91 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔وہیں دوسری جانب تلنگانہ میں صبح 11 بجے تک 23.4٪ ووٹنگ ہوئی۔ صوبے میں 119 سیٹوں پر صبح سات بجے سے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں،
تفصیلات کے مطابق تلنگانہ میں سخت سیکوریٹی کے درمیان ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ میں ایک ہی مرحلہ میں آج انتخابات ہورہے ہیں ۔ 1824امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 2.8کروڑ سے زائد رائے دہندے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کے ذریعہ کریں گے۔ ریاست کے 119حلقوں میں صبح 7 بجے سے رائے دہی کا آغازہوگیا ہے جبکہ نکسلائٹس سے متاثرہ 13حلقوں میں رائے دہی کا اختتام 4بجے شام ہوگا۔ مرد رائے دہندوں کی تعداد 1.41لاکھ ہے جبکہ خاتون رائے دہندوں کی 1.39لاکھ سے زائد ہے۔ ملکاجگری میں سب سے زیادہ42امیدوار انتخابی مقابلہ میں ہے جبکہ سب سے کم چھ امیدوار بانسواڑہ حلقہ میں مقابلہ کررہے ہیں۔انتخابی حکام نے 32,815مراکز رائے دہی میں 1.6لاکھ سے زائد پولنگ اسٹاف کی تعیناتی کے ذریعہ وسیع انتظامات کئے ہیں۔ 30ہزار سے زائد سیکورٹی بشمول نیم فوجی دستور کی تعیناتی کے ذریعہ سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ آسان اور منظم انداز میں رائے دہی ہوسکے۔ انتخابات کے دوران بے قاعدگیوں پر قابو پانے کے لئے تقریباً450فلائنگ اسکواڈس بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ رائے دہی کے اختتام تک شراب کی فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ووٹوں کی گنتی راجستھان‘مدھیہ پردیش‘چھتیس گڑھ اور میزورم کے ساتھ 11دسمبر کو ہوگی۔ اسمبلی انتخابات کے لئے ریاست بھر میں90ہزار ملازمین پولیس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جن میں ہوم گارڈ سے لے کر اعلی عہدیدار شامل ہیں۔ ریاست کی50ہزار پولیس کے علاوہ 20ہزار مرکزی دستے اور20ہزار دیگر ریاستوں کی پولیس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ یہ ملازمین پولیس الیکشن ڈیوٹی بشمول الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو انتخابی مراکز تک پہنچانے اور دوبارہ اسٹرانگ روم منتقل کرنے تک خدمات انجام دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram