‘ ملکہ حسن ‘مدھوبالا کی سالگرہ یوم عاشقاں 14فروری کوگوگل نےڈوڈل بناکر خراج عقیدت پیش کیا

ممبئی:ہندی فلموں خوبصورت ترین اداکار مدھوبالا کی 86ویں سالگرہ پر گوگل نےانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کاڈوڈل تیارکیا ہےمدھوبالا محض 14سال کی عمرمیں راج کپور کی ہیروئین بن گئیں اور دوعشرہ تک ہندی فلمی دنیاپر راج کرنے والی اداکارہ کے دل میں سوراخ تھا جو ایک سچی محبت کی تلاش میں وقت سے پہلے ہی دنیا کورخصت کرگئی. جس کی کہانی انتہائی دردبھری ہے.
مدھوبالا یوم عشاق یعنی ولنٹائن ڈے کے موقع پر14فروری1933کودہلی میں پیدا ہوئیںان جانا ممتازجہاں دہلوی تھا یہ ہندی فلموں کی ایک ایسی فن کار تھی جوکہ مکمل طورسے سنیما کے رنگ میں رنگ گئیں. اور اپنی ساری زندگی اسی نام وقف کردی. ان کے والدعطاء اللہ خان اور والدہ عائشہ بیگم کا تعلق پیشاور سے تھا والد ابتداء میں ایک تمباکو کمپنی میں برسرروزگار تھے. ملازمت ترک کرکے عطاء اللہ دہلی اور پھر بمبئی چلے آئے۔
مدھوبالاکی بچپن سے سنیمامیں کام کرنے کی تمنارہی اور 1942میں ان کی پہلی فلم بسنت ریلیز ہوئی 1947 میں انہوں نےنیل کمل میں راج کپور کے ساتھ کام کیا تب وہ صرف 14سال کی عمر کوپہنچی تھیں. ان کی فلم کامیاب رہی اس زمانہ کی معروف اداکارہ دیویکا رانی نے ان کا فلمی نام مدھوبالارکھنے کا مشورہ دیا.نیل کمل ممتاز کے نام سے ان کی آخری فلم تھی. اس فلم کے بعد انہیں خوبصورت دیوی کاجانے لگاپھردوسال بعد انہوں نے مشہور فلمسازکمال امروہی کے ساتھ فلم محل میں اداکاری کے جوہردکھائے. بمبئی ٹاکیز کی اس فلم کے ہٹ ہونے کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھااور بمبئی کی فلمی صنعت میں ان کاقدبڑھ گیا.
مدھوبالا نے اس دور کے معروف اداکار دلیپ کمارراج کپوردیوآنند اور رحمن کے مقابل کام کیااور اداکاری کے جوہردکھائے. 1950میں کئی فلم ناکام رہیں اور تنقید کی جانے لگی کہ وہ صرف خوبصورتی کی وجہ سے چھائی ہوئی ہیں اوراداکاری نہیں آتی. لیکن وہ مایوس نہیں ہوئیں اور 1958 میں مدھوبالا نے پھان ہوڑہ بریج اورچلتی کانام گاڑی جیسی کامیاب ترین فلمی سے کا ناظرین اورپرستاروں کادل جیت لیاتھا. مغل اعظم میں انارکلی کی شکل میں ان کارول اور جب پیار کیا تو ڈرنا کیاجیسا نغمہ آج بھی سب سے زیادہ پسندیدہ گانا ہے. 1960کے عشرہ میں انہوں نےدلیپ کمار سے دوری کے بعد اداکارکشورکمار سے شادی کرلی اور اس درمیان ان کودل کا مرض لحق ہوگیااور کندن بھی علاج کے لیے گئیں لیکن دوا نے کچھ کام نہیں کیا. ڈاکٹروں نے ان کے دوسال تک حیات رہنے کا وقت دیا. ان طبیعت کی ناسازی نے انہیں کام سے روک دیا اور 1969میں انہوں نے فرض اور عشق بنانے کا اعلان کیا لیکن صحت نے ساتھ نہیں کیا اور تقریباً 70فلموں میں اداکاری کے جوہردکھانے والی حسن کی ملکہ اس دارفانی سے رخصت ہوگی. ان 70فلموں میں بسنت محل جعلی نوٹ گیٹ وے انڈیامغل اعظم اہم ترین فلمی رہی ہیں. 23فروری1969 کومدھوبالا نے اس دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا. چندسال قبل فلم مثل اعظم کے نغمہ “جب پیار کیاتوڈرنا کیسا” ہندوستانی فلمی صنعت میں آج بھی سب سے زیادہ پسندیدہ نغمہ میں شمارکیاجاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest