اردو کے مشہور فکشن نگار قاضی عبدالستار نہیں رہے، ایک علمی چراغ اور بجھا

نئی دہلی :پدم شری قاضی عبدالستار کا شمار ان ادیبوں میں ہو تا ہے جنھوں نے اردو ارو ہندی دونوں ہی زبانوں میں یکساں مقبول لیت حاصل کی۔اردو کے مشہور فکشن نگار اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق استاد پروفیسر قاضی عبدالستار کا مختصر علالت کے بعد آج پچھلے پہر یہاں انتقال ہو گیا۔وہ 85 برس کے تھے۔ وہ شری گنگا رام اسپتال میں پچھلے ڈیڑھ مہینے سے زیرعلاج تھے۔جسدخانی علی گڑھ لے جایا گیا ہے جہاں تدفین آج شام علی گڑھ میں عمل میں آئے گی۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ قاضی عبد الستار کے ایک سے زیادہ شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مداحوں کی بھی فہرست طویل ہے۔ وہ ایک انتہائی اچھے استاد تھےاور مرحوم کا شمار اپنے عہد کے نمایاں افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا-ان کے افسانوں میں پیتل کا گھنٹہ اور ناولوں میں حضرت جان اور داراشکوہ بہت مقبول ہوئے- ان کو زبان و بیان پر جو غیر معمولی قدرت حاصل تھی اس کا اندازہ ان کی تحریروں سے بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے۔

ان کے عزیز شاگرد مسٹر عبید صدیقی کے مطابق زندگی کے آخری برسوں میں ان کو بہت سے صدمات سے دوچار ہونا پڑا مگر انهوں نے اپنی پریشانیوں کا اظہار اپنے چہرے بشرے اور وضع قطع سے کبھی نہیں ہونے دیا۔عبید صدیقی نے مرحوم کی زندگی اور ادبی کارناموں پر ان کی زندگی میں ہی ایک دستاویزی فلم بنائی تھی جو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔

ان کی کتابیں کچھ اس طرح ہیں: اردو شاعری میں قنوطیت،پیتل کا گھنٹہ،جمالیات اور ہندوستانی جمالیات،حضرت جان،خالد بن ولید،دارا شکوہ،شب گزیدہ،صلاح الدین ایوبی،دیوالی اور میراث اور غالب وغیرہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram