مایہ ناز ادیب قاضی عبدالستار – – – – – ( ایک تاثراتی نوٹ)

اسلم چشتی پونے، انڈیا
چیئرمین ‘صدا ٹوڈے، اُردو نیوز ویب پورٹل
Sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com
09422006327

اُردو ادب کے فکشن میں قاضی عبدالستار کا نام ایک ایسا نام ہے جو اپنے تخلیقی کام کی وجہ سے اُفقِ ادب پر جاوداں رہے گا – آنے والے زمانوں کے مورخ اس نام کو نظر انداز کرنے کی جرآت نہیں کر سکیں گے – بیسویں صدی کے نصف آخر سے اکیسویں صدی کے تقریباً دو دہوں تک فکشن کی دُنیا میں اپنی تحریر کا وقار قائم رکھنے والے اس مایہ ناز ادیب نے گو کہ ادب کے قارئین سے منھ موڑ لیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے لیکن ان کے دل کی دھڑکنیں ان کے دماغ کی تخلیقی لہریں ، ان کے قلم کے لمس کی حرارتیں، ان کے جذبات کی صداقتیں اب بھی قرطاس پر نقش ہیں جسے محسوس کیا جا سکتا ہے –
مُنفرد اُسلوب کے اس قلمکار کا بدل نہ ملا ہے نہ ملے گا – ہمعصر ادیبوں ، نقّادوں نے انھیں مُحبّتیں دیں قدر کی انھوں نے بھی بدلے میں ایک نہیں تین نسلوں کی حوصلہ افزائی کی رہبری کی، ان کی شخصیت کے کئی روشن پہلو ہیں اُن پر گفتگو کرنے کی جرآت مَیں نہیں کر سکتا کیونکہ اُن پہلوؤں کی روشنی کی بساط بہت وسیع ہے – اور مَیں اس کا اہل نہیں ہوں کہ اُن پہلوؤں کا احاطہ کر سکوں – اترپردیش کی زمین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قاضی صاحب کی تحریریں بہت پہلے میرے مطالعہ میں رہیں – مُتاثر بھی ہُوا اُسی کا تاثر اب تک میرے دل و دماغ پر قائم ہے – ان کے ادب سے پوری طرح واقفیت کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا – ہاں اُن پر فخر کر سکتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ادب نواز ادیب تھے جنہوں نے اُردو فکشن کو عالمی زبانوں کے مقابل لا کھڑا کیا – اپنے ادب میں اُردو زبان کی ایسی چاشنی بھر دی کہ جس کا ذائقہ کبھی کم نہیں ہوگا –
قاضی عبدالستار تاریخی ناولوں کے حوالے سے زیادہ جانے بھی جاتے ہیں اور مانے بھی جاتے ہیں – اُردو زبان میں تاریخی ناولیں ان سے پہلے بھی لکھّی گئیں، مشہور بھی ہوئیں لیکن قاضی صاحب نے تاریخی حقائق کو فکشن کے رنگ میں جس فنکاری سے ڈھالا اس کی مثال ناچیز کے خیال سے کہیں نہیں ملتی – اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے جس تاریخی موضوع کا انتخاب کیا اُس موضوع کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا اور تاریخ کے خشک موضوع کو فکشن کے دلچسپ پیرائے میں ڈھال کر خوبصورت اُردو لسانی لباس اور زیور سے سجا کر اُردو والوں کی نذر کیا – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں اس میں ایک خاص زمانے کا المیہ نظر آئے گا جو اُس وقت کے مسلمان کا مقدّر ہے –
” آپ کو معلوم ہے ہم مسلمانوں نے دین کے عالموں کی حُرمت کے لیے اپنے بادشاہوں کے تاج اُتار دیئے، لیکن دُنیا کے عالموں کو بکرے کی اوجھڑی پکانے والوں سے بھی حقیر جانا – نتیجہ یہ ہُوا کہ دُنیا کا علم ہمارے ہاتھ سے پھسلتا چلا گیا – دُنیا ہمارے ہاتھ سے نکلتی چلی گئی – یہی نہیں بلکہ دین بھی ہماری مُٹھّیوں کی گرفت میں نہیں رہا – ہم بھول گئے کہ مسلمان کے لیے دین و دُنیا ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں ”
( غالب ص،۲۳)
پُر اثر تحریر کے مالک قاضی صاحب نے اپنے قارئین کا دل جیت لیا تھا – ان کی کتابیں لوگ خرید کر پڑھنے کے عادی تھے ان کے تاریخی ناولوں میں داراہ شکوہ ، حضرت جان ، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کی شہرت خوب رہی اور اب بھی ہے – اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ قاضی صاحب نے اپنے ناولوں کے مواد میں وہ خاص باتیں تاریخ سے اخذ کر کے پیش کی ہیں جو انھیں کے پاس ہیں اور شاید کہیں نہیں – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں –
” عدل جہانگیر اور فضلِ شاہجہانی نے غلام کو تعلیم دی ہے کہ ہم کو اپنی رعایا کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہئے، نہ صرف یہ بلکہ ہندوؤں کو اس طرح نوازنا چاہئے کہ وہ بھول جائیں کہ اُن کا شہنشاہ مغل ہے مسلمان ہے” ۔
( دارا شکوہ ، ص۱۴)
اس اقتباس سے پتہ چلتا ہے کہ قاضی صاحب اپنے ناولوں میں مسلمان بادشاہوں کی رعایا پروری، روا داری اور یکجہتی کی مثالوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے سو انھوں نے کیا اور قوم کو اپنے اسلاف کے صالح کردار سے واقف کروانا بھی ان کا مقصد رہا ہوگا –
تاریخی ناولوں کے علاوہ قاضی عبدالستار نے افسانوی ادب کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے – ان کا افسانوی مجموعہ ” پیتل کا گھنٹہ ” جو ان کے اِسی نام سے منسوب مشہور ترین اور مثالی افسانہ ہے – اس میں اس افسانے کے علاوہ مالکن اور رضّو باجی نام کے افسانے بھی شامل ہیں – ایک ناولٹ ” مجّو بھّیا ” بھی ان کا مشہور ناولٹ ہے – اس مجموعے کے 1980.ء کے بعد سے اب تک کئی ایڈیشن اِسی نام ( پیتل کا گھنٹہ ) سے چھپ چکے ہیں – یہ مشہور بے مثال افسانہ ” پیتل کا گھنٹہ ” بہت پہلے اُردو کی درسی کتابوں میں شامل کیا گیا تھا – اب بھی کچھ ریاستوں کی درسی کتابوں میں شامل ہے-
مشہور ناول ” حضرت جان ” ( پہلا ایڈیشن 1990.ء ) سے ” پیشِ تحریر” پیشِ خدمت ہے مُلاحظہ فرمائیے ۔
” غالب لکھ چکا تھا خالد بن ولید لکھنے کی تیاریاں کر رہا تھا – غالب کے اُسلوب کی روشنائی سے شرابور قلم کو خشک کرنے کے جتن بھی ہو رہے تھے ایک بزرگ افسانہ نگار نے” حضرت جان” کے موضوع سے تعارف کروایا – کچھ تحریری مواد بھی عطا کر دیا – مَیں سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا – سکون پر جھنجلا کر فرمانے لگے کہ اس موضوع پر لکھنے کے لیے منٹو کے آتش خانے کی روشنائی بھی ڈھونڈنا پڑے گی جو یقیناً آسان کام نہیں ہے جب وہ چلے گئے تو میں نے نوٹس کو دوبارہ پڑھا اور بھیگے ہوئے قلم کو خشک کرنے پر رضا مند ہو گیا – لکھتے وقت خیال آتا رہا کہ زندگی کی حقیقتیں افسانوں کے مقابلے کتنی عجیب اور حیرت ناک ہوتی ہیں”۔
( ‘ حضرت جان، ابتدائی صفحات سے)
زندگی کی حقیقتوں پر نظر رکھنے والے قاضی عبدالستار تو اب نہیں رہے لیکن ان کے فکشن میں حقیقی زندگی کے سچّے اور پکّے رنگ نقش ہیں – ان کے بعد ان کا قلم خاموش اور اداس ہے اس قلم کو اب قاضی صاحب کی انگلیوں کا لمس مل نہیں سکتا تو بھلا اس میں جنبش کیسے آئے گی – جو اس قلم نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ اُردو فکشن کا زرّیں سرمایہ ہے – موجودہ نسل اس کی حفاظت کرے اور آئندہ نسل تک یہ سرمایہ پہنچائے – یہ میری خواہش ہے اور وقت کی ضرورت بھی –

Aslam Chishti Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2 Riviera Society Wanowrie
Near Jambhulkar Garden Pune 411040 Maharashtra India
aslamchishti01@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest