اردو کا گھر ہندوستان تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا:اندریش کمار

اگر اردو نہ ہوتی تو ہم اتنے میٹھے نہ ہوتے:مدھورنجن کمار
اردو کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں ہے: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

نئی دہلی: اردو کا گھر ہندوستان تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اردو زبان بے گھر یا لاوارث نہیں۔ اس کے وارث بھی ہیں اور چاہنے والے بھی۔ اس کی سرپرستی ہمیشہ ہندوستانیوں نے کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اندریش کمار نے قومی اردو کونسل کی طرف سے منعقدہ چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں کیا جس کا انعقاد اسکوپ کمپلیکس لودھی روڈ میں کیاگیا تھا۔ اندریش کمار نے مزید کہا کہ ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں اردو کے لیے دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ بجٹ مختص ہے۔ میں نے بہت سے مسلم ملکوں میں بھی دیکھا ہے جہاں اردو کا اتنا بجٹ نہیں ہے۔ انھوں نے تعلیم، حب الوطنی اور زبان کےحوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام زبانیں اخوت اور محبت کی تعلیم دیتی ہیں اور آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اردو کے ذریعے امن اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
قومی اردو کونسل کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس بعنوان ’آج کے عالمی تناظر میں اردو کا تحفظ اور فروغ‘ کا آغاز مہمان ذی وقار اندریش کمار، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے جوائنٹ سکریٹری مدھو رنجن کمار، سنجے کمار سنہا، قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین پروفیسر شاہد اختر ،ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد اور مہمان خصوصی ڈاکٹر تقی عابدی کے ہاتھوں شمع روشن کر کے کیا گیا۔ اس موقع پر پلواما کے شہیدوں اور گوا کے وزیراعلیٰ منوہر پاریکر کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد نے افتتاحی اجلاس میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس زبان نے اپنی زندگی کے سارے امکانات اور مقامات بھی تلاش کرلئے ہیں۔ اس زبان میں اتنی جادوئی قوت ہے کہ اس نے ان علاقوں کو بھی مسخر کرلیا ہے جو لسانی اور تہذیبی اعتبار سے اس زبان سے نامانوس ہیں۔ یہ زبان اپنی داخلی اور امکانی قوتوں کے ساتھ زندہ ہے۔ انھوں نے کہا ہمیں ابتدائی سطح پر اردو زبان کو زندہ رکھنا ہے اور اس کی جڑوں کو مضبوط کرنا ہے۔ جڑوں کو مضبوط کیے بغیر کوئی بھی زبان زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد وزیراعظم جناب نریندر مودی کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں مودی جی نے کہا ہے کہ اردو کا حسن اس کا رسم الخط ہے اور یہ زبان گنگا جمنی تہذیب کی ایک روشن علامت ہے۔
وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے جوائنٹ سکریٹری جناب مدھو رنجن کمار نے کہا کہ ہم ہندوستانی اپنی مٹھاس کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اگر اردو نہ ہوتی تو ہم بھی اتنے میٹھے نہ ہوتے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شرافت جہاں سے شروع ہوتی ہے وہیں سے اردو شروع ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس کے اگلے دو دنوں میں جب اردو کے خدوخال پہ بات ہوگی تو آپ کے خوابوں کو ایک نئی تعبیر ملے گی۔
اس کانفرنس کا کلیدی خطبہ معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر تقی عابدی نے پیش کیا۔ انھوں نے مختلف ممالک میں اردو کی صورتحال ، فروغ اور تحفظ کے امکانات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین پروفیسر شاہد اختر نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی بنیادی تعلیم کو ہر اسکولوں میں لازمی قرار دیا جائے اور انفرادی طور پر ہر شخص اردو کے تئیں اپنی ذمے داری نبھائے تو یقیناً اردو کو فروغ ملے گا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد تکنیکی سیشن کا آغاز ہوا۔ پہلے اجلاس بعنوان ’اردو بذریعہ تعلیم:ابتدائی تاثانوی سطح، کی صدارت پروفیسر اختر الواسع اور ڈاکٹر اسلم پرویز نے مشترکہ طور پر کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر مظفر علی شہ میری (حیدرآباد)، پروفیسر محمد اختر صدیقی (جامعہ ملیہ اسلامیہ)، ڈاکٹر کے وی نکولن (کیرالہ) اور ڈاکٹر مجیب الحسن صدیقی (علی گڑھ) نے مقالے پڑھے اور اردو زبان کی زمینی صورتحال پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔
اجلاس کا دوسرا سیشن ’تحقیقی سطح پر اردو کی تعلیم، پر مشتمل تھا جس کی صدارت پروفیسر محمد زماں آزردہ اور پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کی۔ اس میں پروفیسر فضل اللہ مکرم ، ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ابن کنول اور پروفیسر ابوذر عثمانی نے مقالے پڑھے اور جامعات میں اردو تحقیق کے زوال کی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور تحقیق کے نئے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی۔
تکنیکی اجلاس کے بعد شام غزل کا اہتمام کیاگیا جس میں معروف غزل گلوکار طلعت عزیز نے اپنی آواز کے جادو بکھیرے اور اردو زبان و ادب کے شیدائیوں کو محظوظ کیا۔ اس کانفرنس میں پندرہ ممالک کے مندوبین کے علاوہ ہندوستان کے طول وعرض کے ادیبوں اور ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالرز نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest