زاغ و زغن کے خوف کا عالم نہ پوچھیۓ – اترے ہیں جب سے دیکھۓ شاہین باغ میں

مصداق اعظمی


پربت کی چوٹیوں کے بسیرے کو چھوڑ کر
درویش کی طرح سے ہیں رنگین باغ میں

زاغ و زغن کے خوف کا عالم نہ پوچھیۓ

اترے ہیں جب سے دیکھۓ شاہین باغ میں

**01**

چپ رہو اور ابھی اور ابھی اور ابھی
سانس لینا یہاں دشوار کیا جاۓ گا

گوڈسے والوں کے شاگردوں کا اعلان سنو
تم کو گاندھی کی طرح مار دیا جاۓ گا

**02**

تیری غدار نگاہوں کو دلاسہ دیکر
وہ فرشتے کو بھی شیطان بنا بیٹھا ہے

دیکھ لے حضرتِ ٹیپوؒ کو بنا کر مجرم
میر صادق ترا سلطان بنا بیٹھا ہے
*03*

اپنی اپنی چادروں کو تم بچھا کر راہ میں
خیر مقدم پھر کرو اک بار تاریخی کوٸ

ماٶں بہنوں بیٹیوں ہی کی حفاظت کے لۓ
انے والا ہے صلاح الدین ایوبی کوٸ

*04*

جوق در جوق قتل گاہوں کے
شوق سے پھنس گۓ جھمیلے میں

سر ہتھیلی پہ لے کے اٸیں ہیں
لوگ اہلِ جنوں کے میلے میں

*05*

یاد رکھے گا اس گواہی کو آ

آج کے قتل گاہ کا منظر

جگمگاۓ گا نونہالوں کے
خوں سے خاکِ وطن ترا پیکر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *