قیلولہ کا عمل یادداشت اور دماغ کے لیے بہت مفید

لندن: نیند دماغی کارکردگی اوراعصابی سکون کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے لیکن دن میں کچھ دیر کی نیند ایک جانب تو دل اور اعصاب کو بہتر حالت میں رکھتی ہے تو جاگتے میں حاصل ہونے والی معلومات، نیند کے ذریعے یادداشت کی گہرائی میں ثبت ہوتی جاتی ہیں۔ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوپائی ہے کہ قیلولہ یاد داشت اور ذہنی سکون کے لیے بہت ہی مفید ہے۔
2016 میں ماہرین نے اسی مفروضے کی بنیاد پر ایک سروے کیا تھا۔ اس سروے کا خلاصہ یہ تھا کہ امتحانات کی تیاری کرنے والے افراد پڑھتے وقت دن کے اوقات میں قیلولہ کریں تو اس سے سبق اچھی طرح یاد رہتا ہے اور یادداشت بہتر ہوتی جاتی ہے۔اب یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہرین نے کہا ہے کہ دن اور خصوصاً دوپہر میں قیلولہ کرنے سے ہمارا دماغ وہ معلومات بھی پروسیس کرتا ہے جو ہم لاشعوری طور پر ہر طرف سے حاصل کررہے ہوتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں دن کا قیلولہ ہماری مسائل حل کرنے کی قوت کو بھی بڑھاتا ہے۔
اس کے لیے 16 صحت مند بالغان کا انتخاب کیا گیا۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ کو کنٹرولڈ کام کرنے کو کہا گیا یعنی روایتی انداز میں کسی چیز کے بعد اس کا ردِ عمل دینا تھا مثلاً اسکرین پر سرخ یا نیلا چوکور ڈبہ نمودار ہوکر اس کی کیفیت کو یاد رکھنا تھا۔دوسرے گروہ کو یادداشت کی جو مشقیں دی گئی تھیں انہیں ’ماسکڈ پرائم ٹاسک‘ کا نام دیا گیا۔ اس میں اسکرین پر ایک سیکنڈ کے لیے کوئی لفظ ظاہر کیا گیا لیکن اس کے بعد یک دم دوسرا لفظ نمودار ہوگیا لیکن وہ صرف 30 یا 40 ملی سیکنڈ کے لیے دکھائی دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest