قادر خان بحیثیت ایک اسلامی اسکالر

اداکارنے 25سال تک دینی تعلیمات کے فروغ اور بیداری کے لیے اہم خدمات انجام دیں

ممبئی(جاوید جمال الدین)معروف اداکار اور مکالمہ نگار قادرخان کا انتقال ہوگیا اور انہیں،کینڈا میں سپردخاک کیاجائیگا ،یہ غم ناک اور دکھ بھری خبر سال 2019 کے آغازمیں موصول ہوئی ہے اور ہندی فلمی دنیا میں صف ماتم بچھ گیا ، 81 سالہ خان طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے،کینڈا کے وقت مطابق شام ساڑھے چھ بجے انہوںنے آخری سانس لی۔۸۱ سالہ اداکار کی مزاحیہ اداکاری روتوں کو بھی ہنسا دینے کی قدرت رکھتے تھے۔ اجداد افغانستان سے آئے تھے۔اور پھر ممبئی میں مقیم ہوگئے ۔ دلیپ کمار نے فلموں میں متعارف کرایا۔ 300 سے زائد فلموں میں کام کر چکے ہیں،لیکن مرحوم قادرخان کے بارے میں اکثریت اس بات سے لاعلم ہے کہ تقریباً 25سال سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے اور دین کی ترویج وتبلیغ میں سرگرم رہے ۔قادر خان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کابل سے ممبئی پہنچے اور جنوبی ممبئی کے کماٹی پورہ اورپھرتاڑدیو علاقہ میں قیام کیا ۔
انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیرقاضی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں انجمن کے زیراہتمام صابوصدیق پالی ٹیکنک کا ایک ہونہار طالبعلم قراردیا۔انہوںنے کہا کہ قادرخان صابوصدیق میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں پر ٹیکنیکل تعلیم میں درس دینے لگے اور خالی وقت میں نوجوانوں کو ڈرامہ کراتے اور تھیٹر میں اداکاری کرتے اور مکالمے بھی لکھتے رہے،اور 1970کی دہائی میں فلموںمیں موقعہ ملا اور مکالمے اور کہانیاں لکھنے لگے ،لیکن جب اداکاری کا پورا موقعہ ملنے کے بعد انہوںنے ملازمت کو خیرباد کردیا۔
سنیئر صحافی سعید حمید کو ان کی کلاسوںمیں تعلیم حاصل کرنے اور ڈراموں میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے اور حال تک ان کے تعلقات رہے ،کہنا ہے کہ جنوبی ممبئئی بدنام ریڈ لائٹ علاقہ کماٹی پورہ میں رہتے ہوئے انہوںنے سول انجنیئرنگ کی تعلیم صابوصدیق پالی ٹیکنک کی تعلیم حاصل کی اوروہیں الجبرا ،اپلائٹ میتھسوغیرہ کی تعلیم کے دوران مدرس بن گئے اور ڈرامہ کا شوق پروان چڑھا۔اور کالج میں یہ بات مشہور تھی کہ ’’جس نے قادرخان کا پلے نہیں دیکھا وہ کالج میں کبھی گیا ہی نہیں ‘‘دلیپ کمار نے ان کے ایک ڈرامہ کو کافی پسند کیا اور انہیں فلم سگینہ اور بیراگ میں اداکاری کی پیش کش کی مگر قادر خان کو اس سے قبل ہی فلم جوانی دیوانی میں مکالمہ لکھنے کا کام مل چکا تھا ،بیراگ میں انہیں پولیس انسپکٹر کے رول میں دیکھا جاسکتا ہے۔ان کا ڈرامہ ’لوکل ٹرین ‘نے جاگرتی ڈرامہ مقابلہ میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی۔
قادر خان نے کئی فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ کہانی اور مکالمہ بھی لکھے ،جو کہ سونے پر سہاگہ ثابت ہوا اور فلمی دنیا ان کی مالا جپنے لگی تھی۔کیونکہ مصنف کے ساتھ اداکار بھی مل گیا تھا۔ ان کے ڈراموں کے چرچے ہونے لگے اور مشہور اردوادیب اور فلم ساز راجندر سنگھ بیدی ،ان کے بیٹے نریندر بیدی اور اداکارہ کامنی کوشل نے ملاقات کرنے کے بعد انہیں فلموں میں جوہر دکھانے کی پیشکش کی ۔اور صرف 1500روپے میں 1971میںریلیز ہونے والی نریندر بیدی کی فلم جوانی دیوانی میں انہوںنے مکالمہ لکھے تھے۔جوکہ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی اور انہیں ماہانہ چار سوروپے تنخواہ ملنے لگی ۔جس کے بعد فلمساز اداکارصابوصدیق پالی ٹیکنک پہنچے اور انہیں فلم کھیل کھیل میں مکالمے کی پیشکش کی اور 21ہزار روپے کا لفافہ دے گئے،لیکن مشہور فلمساز منموہن ڈیسائی نے فلم روٹی کے مکالمے لکھوائے جو کہ ’کھیل کھیل میں‘ سے پہلے ریلیز ہوئی تھی۔من موہن ڈیسائی نے ایک موٹی رقم ،طلائی بریسلیٹ اور ٹی وی سیٹ بھی دیا۔اس کے بعد دونوں نے ’’دھرم ویر‘‘،’’امر اکبر انتھونی ،’’قلی اور تقریباً پندرہ سال میں چھ دیگر فلموں میں ساتھ ساتھ کام کیااور سبھی فلمیں کامیاب رہیں۔فلمی شخصیت مان جی کے ذریعہ ان کے مسلم ہونے اور شعروشاعری اور محاوروںکی وجہ سے انہیں کامیابی حاصل ہورہی ہے ،اس سے قادرخان کو صدمہ پہنچا اور انہوںنے جب ایک مشورہ دیا اور پر عمل کرنے کے بعد مان جی نے کہا کہ فلمی دنیا کو ایک باصلاحیت اور قابل مصنف مل گیا ہے۔
قادر خان نے پرکاش مہرہ کے ساتھ بھی کام کیا حالانکہ من موہن ڈیسائی اور پرکاش مہرہ میں حریفائی تھی،لیکن دونوں امیتابھ بچن کو چاہتے تھے اور اسی طرح قادرخان بھی ان کے پسندیدہ اداکاراور رائٹر تھے۔
صحافی جاوید جمال الدین کے مطابق قادر خان نے ایک گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے والدمولوی عبدالرحمن ایک عالم ہی نہیں بلکہ عربی زبان اور اسلامی لٹریچر میں پوسٹ گریجویٹ بھی تھے،جوکہ ہالینڈ ہجرت کرگئے ۔اور انہوںنے وہاں اپنا انسٹی ٹیوٹ کھولا تھا ،انتقال سے قبل انہوںنے قادرخان کو ہالینڈ طلب کیا اور انہیں نصحیت کی کہ وہ لوگوں میں عربی زبان ،اسلامی قوانین اور قرآن کی تعلیمات اور معلومات کے لیے بیداری پیدا کرنے کی جو مہم شروع کی ہے قادرخان بھی اس میدان میں کام کریں تو انہوںنے جواب میں کہا کہ وہ اس سلسلہ میں لاعلم ہیں تب والدنے پوچھا کیا انہیں پہلے فلموں یا تھیٹر کے بارے معلومات تھی ،حلانکہ فلمی دنیا میں قادر خان نے کامیابی حاصل کرلی ہے،مولوی عبدالرحمن نے کہا کہ اگروہ غورکریںتو اسلامی تعلیمات کا موضوع کافی دلچسپ اور اہمیت کا حامل ہے، جس کے بعد قادر خان نے مرحوم والد سے وعدہ کیا اوراس جانب توجہ دیتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی سے 1993میں ماسٹر ان آرٹس کے تحت اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری حاصل کرلی ، انہوںنے عربی پر عبور حاصل کیا ،صلاحیت اور ذہانت کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے فلموں میں اپنا کام جاری رکھتے ہوئے انہوںنے ایک ایسی ٹیم تیار کی جو کے جی (ابتدائی تعلیم )سے پوسٹ گریجویٹ سطح کا اسلامی نصاب تیار کرسکے ۔
جاوید جمال الدین کے مطابق قادر خان کہتے تھے کہ قرآن میں جو احکامات ہیں ،ان میں ساری انسانیت کے لیے ہدایات دی گئی ہیں اور مسلمان اس پر عمل کرکے اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکتا ہے،کیونکہ قرآن کو بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ قانون کی ایک مکمل کتاب محسوس ہوگی اور ضابطہ حیات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے،جس میں زندگی کو گزرانے کا طریقہ اور نصب العین پیش کیا گیا ۔
قادر خان نے پہلے دوبئی اور پھر اس کا مرکز کینڈااور ممبئی میں کھولا تھا اور اس کے ذریعہ اسلام کو صحیح انداز میں پیش کرنے کابیڑہ اٹھایا ۔انہوںنے عربی اورجنوبی ایشیاء کے سبب اردومیں اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے کے لیے نصاب تیار کیا تاکہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دورکیا جاسکے اس کا مقصد مسلمان صحیح انداز میں یہ تعلیم حاصل کریں اور دوسروںکو آسانی سے سمجھاسکیں۔
قادرخان نے دوبئی میںپہلا قادرخان (کے کے انسٹی ٹیوٹ )برائے اسلامی ریسرچ اینڈ اسٹیڈی سینٹر2003میںکھولا ،جہاں پہلے سے انکا رنگ مچ تھیٹر اکیڈمی واقع تھا جس کے وہ ڈائرکٹر تھے۔انہوںنے تقریباً 25سال پہلے اسلام کی تبلیغ اور فروغ کا کام شروع کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے طلباء کے لئے آسانی پیدا کی جائے اور وہ اس کی بنیاد سے ماہر بن جائیں ۔اس انسٹی ٹیوٹ میں 25-25طلباء پر مشتمل دوتین بیچ ہیں۔یہاں قادر خان کے ساتھ دیگر دوتین مدرس ہیں جبکہ ویڈیوریکارڈنگ سے بھی لیکچر دیئے جاتے ہیں۔بلا آمدنی کا فیس اسٹریچر ہے ۔تین ماہ کے کورس کے بعد عملی طورپر تربیت دی جاتی ہے۔جبکہ چھ ماہ کے دوران عربی گرامر،حدیث اور صحابہ ،تاریخ اسلام اور عبادت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔تیسرے مرحلے میں فقہ ،تفسیر اور تاریخ اسلام اور چاروں امام کی تعلیمات خطبات اور حضورؐ کے فرمان کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے۔جبکہ عربی زبان میں چھ مہینے کا کورس بپی مرتب کیا گیا ہے۔آئی ٹی ،کمپیوٹر ہارڈ ویئر،پلمبنگ ،،الیکٹریکل وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔الجبرا،جیومیٹری ،فزکس اور کیمسٹری وغیرہ جیسے مضامین بھی سکھانے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
javedjamaluddin@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest