پونہ فیسٹیول میں عظیم الشان انٹرنیشنل مشاعرہ کا انعقاد

پونہ :گذشتہ شب پونہ کے تاریخی گنیش فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر نہرو اسٹیڈیم کے گنیش کلا‌رنگ منچ پر عوامی محاذ اور انعام دار سپر اسپیشلٹی ہاسپٹل پونہ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان انٹرنیشنل مشاعرہ کا انعقاد نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیاگیا۔۔۔ جس میں ملک اور بیرون ملک کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔۔
مشاعرہ کی مشترکہ صدارت پونہ کی ہردلعزیز شخصیت پی۔اے انعام دار اور عالمی شہرت یافتہ مزاحیہ شاعر ڈاکٹر پاپولر میرٹھی نے کی اور نظامت کے فرائض معروف شاعر اور ممتاز ناظم مشاعرہ ریاض ساغر نے نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ انجام دیئے ۔۔۔مہمان خصوصی کے طور پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سریش کلماڑی اور مہاراشٹر کے سابق کیبنٹ منسٹر محمد عارف نسیم نے شرکت کی جنہیں مشاعرہ کمیٹی کی جانب سے”فخر مہاراشٹر”اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا اس مشاعرہ کی ایک ایک خوبی یہ بھی رہی سانگلی میں سیلاب میں پھنسے والے سو سے زائد لوگوں کو بچانے والے دو بھائیوں کو پچاس پچاس ہزار کے نقد انعام سے نوازا گیا
یہ عظیم الشان تاریخ ساز انٹرنیشنل مشاعرہ ادب نواز سامعین کے دلوں پر اپنی چھاپ چھوڑنے میں پوری طرح کامیاب رہا۔۔۔مشاعرہ میں قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے ترانے بھی گونجے،محبت،اخوت،
انسان دوستی اور وطن پروری کاپیغام بھی دیا گیا اور شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعہ حسن وعشق کی رنگین وادیوں کی سیر بھی کرائی اور ملک کے موجودہ حالات کی زبوں حالی کا کرب بھی بیان کیا۔۔۔صبح چار بجے تک مشاعرہ پنڈال ادب نواز سامعین کی تالیوں سے گونجتا رہا۔۔
‌اپنی انتظامی شائستگی،شعراء کے معیاری کلام اور پونہ میں پہلی بار تشریف لائے ممتاز ناظم مشاعرہ ریاض ساغر کی خوبصورت اور معیاری نظامت نے اس مشاعرے کو یاد گار اور تاریخی بنادیا۔۔۔
پیش خدمت ھے شعرائے کرام کا منتخب کلام۔۔۔۔
کچھ ساتھ نبھانے کا تقاضا بھی نہیں ھے،
اور تم سے بچھڑنے کا ارادہ بھی نہیں ھے
( افروز عالم‌،دبئی)
جب مری اڑانوں کو آسمان راس آیا،
لوگ پر کترنے کو قینچیاں اٹھا لائے۔
( منظر بھوپالی)
میری تاریخ کے صفحات جلادیتے ہیں،
میرا کردار ابھرنے نہیں دیتے کچھ لوگ
( اقبال اشہر دہلی)
قطرہ بنکر یہاں سورج سے ڈروگے کب تک
آؤ ھم تم کو سکھاتے ہیں سمندر ہونا۔
( ریاض ساغر مظفر نگر)
تم نے کس کس سے یہ کہا ہوگا
ہم کسی کے نہیں تمہارے ہیں
( ڈاکٹر مہتاب عالم)
میں تو کسی حسین کی آنکھوں کا خواب ھوں،
مجھکو نہ دو شراب کہ میں خود شراب ھوں
( ریحانہ شاہین علیگڈھ)
میرا محبوب ھے مزدور مگر اس نے مجھے،
اپنی کٹیا میں بھی رانی کی طرح رکھا ھے
( شائستہ ثنا کانپور)
ھم نے جب اعتراض کیا سرد رات پر
سورج اداس ہوگیا اتنی سی بات پر
اک روشنی سی پھیل گئی کائنات میں
اس نے جب اپنا ہاتھ رکھا میرے ہاتھ پر
( اتل اجنبی گوالیار)
اس کے علاوہ ڈاکٹر پاپولر میرٹھی، شاہد عدیلی حیدرآباد،شرف نانپاروی،محترمہ انجلی ادا کشمیر، محترمہ ڈاکٹر ممتاز منوّر پونہ،وغیرہ نے بھی اپنے کلام سے مشاعرہ کا وقار بلند کیا۔۔۔
اس انٹرنیشنل مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں کنوینر مشاعرہ ڈاکٹر مشتاق مقدم، ڈاکٹر مہتاب عالم، اسلم چشتی عبدالواحد بیابانی،اقبال انصاری محترمہ عظمیٰ تسنیم اور امتیاز ملا وغیرہ کا تعاون رہا ۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest