تم کو یقیں نہ آئے تو تاریخ دیکھ لو- ظالم کے ظلم کا ہمیں رہتا ہے ڈر کہاں

بزم اظہار کا احتجاجی طرحی مشاعرہ منعقد
سڑکوں پہ ہم کو آئے مہینے گذر گئے
یہ حکمران ملنے کو آئے مگر کہاں
پٹنہ صدا ٹوڈے
:پورے ملک میں ان دنوں مرکزی حکومت کے کالے قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے اور خواتین سمیت بچے سی اے اے ،این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہر جگہ دھرنا اور مظاہرہ کر رہے ہیں اسی سلسلے میں آج بزم اظہار نے اپنا 37واں ماہانہ طرحی مشاعرہ کو بھی احتجاجی رنگ دیتے ہوئے احتجاجی مشاعرہ منعقد کیا جس کی صدارت کہنہ مشق،بزرگ اور استاد شاعر جناب مرغوب اثرؔ فاطمی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض م سرور پنڈولوی نے بحسن وخوبی انجام دیئے ۔اس مشاعرہ کے لئے بھی ہمیشہ کی طرح تین مصرع طرح دیئے گئے (۱)چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے(۲)دو گززمیں بھی چاہئے دوگز کفن کے بعد(۳)دل چاہتا نہ ہوتو دعا میں اثر کہاں
جن شعراء نے اپنے کلام پیش کئے ان کے نام مع نمونۂ کلام اس طرح ہیں
مرغوب اثرؔ فاطمی:
جھکی جو بارِ ندامت سے شاہ کی گردن
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”
نیاز نذر فاطمی:
ہراک قدم پہ ہے خطرۂ چاک دامانی
کہاں کہاں کوئی دامن بچا بچا کے چلے
شکیل سہسرامی:
کچھ وقت ظلمتوں کی پناہوں میں کاٹ لیں
سورج کو لوگ دیکھیں گے سورج گہن کے بعد
م سرور پنڈولوی:
تم کو یقیں نہ آئے تو تاریخ دیکھ لو
ظالم کے ظلم کا ہمیں رہتا ہے ڈر کہاں
ڈاکٹر مقصود عالم رفعتؔ:
تنہا نکل پڑا ہوں میں منزل کی چاہ میں
رکھتا ہوں دل میں آرزوئے ہمسفر کہاں
خورشید ازہرؔ:
سڑکوں پہ ہم کو آئے مہینے گذر گئے
یہ حکمران ملنے کو آئے مگر کہاں
ڈاکٹر ممتاز منورؔ:
عجب ہے دورحکومت کا چپ ہے سب کی زباں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”
چونچؔ گیاوی:
غیروں کی عورتوں کا بھلا کیا کرے گا وہ
اس کو خود اپنی بیوی کی کوئی خبر کہاں
ڈاکٹرنصر عالم نصرؔ:
اپنے وطن میں سارے محبت سے جی سکیں
اب کوئی کہاں جائے نصرؔ اس وطن کے بعد
نوشاد ناداںؔ:
صیاد کو دھوئیں سے محبت ہے اس قدر
تیرا چمن جلائے گا میرے چمن کے بعد
سبطین پروانہؔ
اب اس کے دورِ حکومت میں دوستو میرے
“چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”
خواہ مخواہ دلال پوری:
وہ جھوٹ بول بول کے روشن کیا ہے نام
ملتا ہے ایرے غیرے کو ایسا ہنر کہاں
محمد نفیس ازہرؔ قطر:
گولی چلاؤ یا کہ کرو قید جیل میں
اے ظالموں تمہارا کسی کو ہے ڈر کہاں
محسنؔ دیناجپوری:
لڑائی اپنی ہے اس وقت ظالموں سے فقط
کہ بھیدبھائو سبھی ہندی اب مٹاکے چلے
صدر مشاعرہ کی اجازت اور صدارتی کلمات کے ساتھ ہی اس مشاعرہ کا اختتام ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *