پیغمبراسلام ؐ نے دنیا کو امن،بھائی چارہ اور مساوات کو عام کیا

شردپوار نے میلادالنبیؐ کے جلسہ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندو۔مسلم اتحاد کے لیے خلافت تحریک نے مثال قائم کی ،موجودہ حالات میں اس تحریک کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے

ممبئی: پیغمبراسلام ؐ نے دنیا کو امن،بھائی چارہ اور مساوات کا جودرس دیا ہے اور قرآنی تعلیمات پر صحیح طورپر عمل کیا جائے تو ہم آج کے پُرآشوب دورمیں امن وضبط پیداکرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں،اسی طرح سوسال قبل خلافت تحریک نے ملک کی جنگ آزادی کے دوران ہندومسلم اتحاد کے لیے ایک مثال پیش کی ہے اور اس کی موجودہ دورمیں شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے ،کیونکہ ملک میں چند عناصر اتحاد،بھائی چارہ اورمساوات کو پارہ پارہ کرنے کے درپر ہیں،اس بات کا اظہار مہاراشٹر کے اہم ترین لیڈر اوراین سی پی کے صدر شردپوار نے اظہارکیا۔
ممبئی میں واقع کُل ہند خلافت کمیٹی کے زیراہتمام عیدمیلاد النبی ؐ کے تاریخی جلوس سے قبل خلافت ہائوس کے احاطہ میں منعقد کیے گئے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شردپوار نے مزیدکہاکہ ہمیںاپنے رشتوںکو زیادہ سے زیادہ استوار کرنے اور آپس میں متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان عناصر کو شکست دی جاسکے ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ اس ملک کے اتحادواتفاق اور ترقی میں ہندو،مسلم ،سکھ عیسائی اور دیگر فرقوںمیں ایک جیسی جدوجہد کی ہے اور صدیوںسے امن وبھائی چارہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
شردپوار نے اس موقعہ پر گولڈن ٹیمپل اکال تخت جتھ دار گیانی ہرپت سنگھ جی کی شرکت کا ایک خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکھ فرقے کی ملک کی ترقی میںقربانی کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ملک کی آزادی ،اسے اناج کے معاملات میں خودکفیل بنانے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سکھوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔
انہوںنے کہا کہ خلافت تحریک کی وجہ سے ہندومسلم اتحاد قائم ہوا اور ملک کی تقسیم نے ہمیں گہرا زخم دیا ،مولاناابوالکلام آزاد نے اس تقسیم سے ہمیشہ آگاہ کیا اور پیش گوئی کی تھی کہ اس سے نقصان صرف یہاں آباد اقلیتی فرقے کا ہوا اور ربع صدی میں یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوگئی ،آج بھی پاکستان میں ہندوستان سے ہجرت کرکے گئے ،ان کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔انہوںنے کہا کہ کرکٹ بورڈ کا چیئرمین کی حیثیت سے وہ کئی مرتبہ پڑوسی ملک گئے اور یہ دیکھا کہ پاکستان کا عام آدمی ہندوستانیوں سے محبت کرتا ہے اور ملنے کو بے قرار ہے ،لیکن لیڈرشپ اور سیاست کی نذرچڑھ جاتا ہے۔دونوں ملکوں کو غربت ،مفلسی اور جہالت کو دورکرنے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں۔
اس موقع پراپنے خطاب میں گولڈن ٹیمپل اکال تخت جتھ دار گیانی ہرپت سنگھ جی نے کہا کہ اسلام کی بنیادی تعلیم شرک کے خلاف ہے اور یہی تعلیم سکھ از م نے دی ہے کہ ایک رب کی عبادت کی جائے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ،اس کے ساتھ کسی کوئی شریک نہیں کیا جاسکتا ہے۔
انہوںنے کہا کہ عیدمیلادالنبیؐ کے موقع پر خلافت کمیٹی نے جس جشن کی شروعات کی ،اس کا مقصد انسانوں کے درمیان آپسی بھائی چارہ پیدا کرنا ہے اور ملک کی آزادی کی لڑائی کے دوران اس تحریک نے سبھی ہندوستانیوںکو ایک ساتھ کھڑا کردیا تھا۔انہوںنے بابا فرید شکرگنج ؒ کا ذکرکیا ،جن کی تعلیمات گروگرنتھ صاحب میں پائی جاتی ہیں۔
ہرپت سنگھ جی نے کہا کہ ملک کی تقسیم سے سکھوںکا بھی نقصان ہوا ہے کیونکہ گرونانک دیو جی کی جائے پیدائش پاکستان میں چلی گئی جہاں ہر ایک سکھ زندگی میں ایک بار جانے کی تمنا کرتا ہے۔
جلوس کی قیادت ورلڈ اسلامک مشن گلاسکو ،برطانیہ حضرت علامہ فروغ القادری نے کی اور اپنی تقریرمیں واضح طورپرکہا کہ مسلمانوں کے پیغمبرؐ نے ہمیشہ مساوات واخوت کا پیغام دیا اور فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے انسانیت کو اوّلیت دیتے ہوئے معافی کا حکم جاری کردیا جوکہ تاریخ کا ایک روشن باب کہا جاسکتا ہے۔
انہوںنے مائیکل ہارٹ کی 100نامی کتاب کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ؐ کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ محمدؐ سیاسی ،سماجی ہی نہیں بلکہ آپسی معاملات میں بھی ایک کامیاب ترین انسان ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ایسی 100شخصیات میں انہیں اوّل مقام دیا گیا ،جنہوںنے دنیا میں معاشرے پر کافی اثر چھوڑا ہے اور محمدؐ کی شخصیت سب سے زیادہ پُراثر شخصیت میں شمارکی جاتی ہے۔اس سے قبل ابتداء میں خلافت کمیٹی کے کارگزار چیئرمین سرفراز آرزونے خلافت تحریک اور عیدمیلادالنبیؐ کے تاریخی جلوس کے بارے میں تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ روایتی شان وشوکت سے نکالے جانا والا جلوس سوسال میں داخل ہوچکا ہے ،جوکہ دراصل خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے خلاف برطانوی سامراج کے خلاف مسلمانوں اور ہندوئوں کو متحد کرنے کے مقصد سے مولانا محمدعلی جوہر اور مولاناشوکت علی نے خلافت تحریک شروع کی اور اس دوران 1919میںپہلا جلوس نکالا تھا،اس پہلے جلوس کی قیادت جنگ آزادی کے مشہور رہنماء مہاتما گاندھی نے کی تھی ،خلافت موومنٹ کے اصل محرک چھوٹانی برادران تھے ،لیکن تاریخ میں انہیں نظرانداز کردیا گیا جبکہ محمدعلی نے شہرت حاصل کرلی ۔اس صدی کے دوران جواہرالال ،مولانا ابولکلام آزاد ،سروجنی نائیڈو،خان عبدالغفار خان،اچاریہ کرپلانی ،ہیم وتی ہوگنا، اندراگاندھی،راجیو گاندھی ،وی پی سنگھ ،مفتی محمد سعید ،اے ایم یو سابق وائس چانسلر محمودالرحمن ،دلت رہنماء پرکاش امبیڈکر سمیت متعدد رہنمائوں نے کی اور مذہبی قائدین نے بھی اس میں اہم رول اداکیا ہے ۔اس موقع پر ایم پی ایڈوکیٹ مجید میمن ،سابق ایم پی ملنددیورااور دیگر نے خطاب کیا جبکہ انجمن اسلام کے صدرڈاکٹر ظہیر قاضی ،سابق نائب وزیراعلیٰ چھگن بھجبل ،سابق وزیرچھگن بھجبل اور دیگر معززین شامل رہے۔
خلافت کمیٹی کا یہ روایتی جلوس میں مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے رہنماء اورشخصیات نے شرکت کی ،جلوس مسلم اکثریتی علاقوں بائیکلہ ،اگری پاڑہ ،مدنپورہ ،مولانا آزاد روڈ ،ناگپاڑہ ،دوٹانکی ،مولانا شوکت علی روڈ،جے جے جنکشن علامہ اقبال چوک،حضرت مخدوم مہائمی فلائی اوور کے نیچے سے ابراھیم رحمت اللہ روڈ ،بھنڈی بازار جوہر چوک ،محمد علی روڈ،مینارہ مسجد ،زکریا مسجد ہوتا ہوا ،کرافورڈمارکیٹ ،حج ہائوس پر اختتام پذیر ہواور پہلا استعمال قریب واقع بائیکہ فروٹ مارکیٹ بیوپاری ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے کیا جبکہ شرکا ء ٹرکوںاور موٹرگاڑیاں میں مختلف جھانکیاں بنائی گئی تھیں اور مسلم اکثریتی علاقے نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت سے گونج اٹھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *