پیغمبر اسلام کے خلاف نازیباکمنٹ کرنے پرجانئے کیا ہوا

بار بار ہم کو یہ سننے کو مل رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کمنٹ کرنے پر کوئی بھی نہیں بچیگا ایسا ہی ہوا .یو پی کے الہ آباد شہر میں جہاں ایک جم آپریٹر منیش سنگھ کو مذہبی نفرت پھیلانے پر گرفتار کرلیا گیا لیکن جس نے شکایت کی تھی اسکو بھی پولیس نے نہیں بخشاپولیس ذرائع کا کہناہے کہ دانش کی جانب سے منیش سنگھ کی شکایت کیے جانے کے بعد پولیس نے دانش کے ماضی کا جائزہ لیا تاکہ اس کے خلاف بھی کوئی مقدمہ بنایاجاسکے۔ پولیس نے دانش کی سوشل میڈیا پروفائل پرایک پوسٹ کا پتہ لگایاہے جس میں اس نے بھی ایک مخصوص مذہب کے خلاف متنازعہ ریمارکس کیے ہیں۔اس پوسٹ کا جائزہ لینے کے بعد پولیس نے نہ صرف دانش بلکہ اسکے 2 ساتھیوں کو بھی حراست میں لیے لیاہے۔یہ تو وہی بات ہوئی ہم تو ڈوبینگے صنم تجھ کو بھی لے ڈوبینگے.وہیں دوسری جانب اترپردیش کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس او پی سنگھ نے ایک فرمان جاری کیا گیاہے جس میں پولیس حکام کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مذہبی منافرت پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس سرکلر میں کہا گیاہے کہ اب تک اترپردیش کے مختلف مقدمات پرمذہبی منافرت پھیلانے اور مذاہب کے خلاف متنازعہ ریمارکس کرنے 10 معاملات سامنے آئے ہیں۔ ڈی جی پی کی جانب سے سرکلر میں عوام کو انتباہ دیاگیاہے کہ اگرسوشل میڈیا کے ذریعہ مذہبی منافرت اور ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت انگیزی کو عام کیاگیا تواترپردیش پولیس نیشنل سکیورٹی ایکٹ یعنی این ایس اے کے تحت مقدمات درج کریگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *