پروفیسر صغیر افراہیم کی مرتب کردہ کتاب تفہیمِ اقبالؔ میں دانشِ فرنگ کی جلوہ گری کا رسمِ اجراء

 

علی گڑھ
معروف نقاد اورسابق صدر شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ماہنامہ تہذیب الاخلاق کے سابق مدیرپروفیسر صغیر افراہیم کی مرتب کردہ کتاب تفہیمِ اقبالؔ میں دانشِ فرنگ کی جلوہ گری کا رسمِ اجراء ایچ۔ آر۔ڈی۔سی(اکیڈمک اسٹاف کالج) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ میںعمل میں آیا۔جس کی صدارت پدم شری پروفیسر سید ظل الرحمن ڈائرکٹر ابن سینااکیڈمی علی گڑھ نے کی۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر ایمریٹس عبد الحق شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی اور مہمان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر ابوالکلام قاسمی شامل ہوئے۔نظامت و استقبالیہ کلمات کے فرائض ڈاکٹر فائزہ عباسی اسٹنٹ ڈائرکٹر ایچ۔آر۔ڈی ۔سی نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔کتاب کا تعارف سجاد اختر ڈائرکٹر برائون بکس نے پیش کیا۔اس موقع پر ممتاز افسانہ نگارغضنفر نے اپنا افسانہ پیش کیا۔سامعین کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عبد الحق نے کہاکہ صغیر افراہیم عصر حاضر میں اردو زبان و ادب کی جو خدمت انھام دے رہے ہیں وہ زمانے پر روزِ روشن کی طرح آشکار ہے ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آکر اردو داں طبقے میں نہایت مقبول ہو چکی ہیں ان کا اسلوب اس انداز کا ہے کہ جس سے نہ صرف طلبہ فیض اٹھاتے ہیں بلکہ اہل نقد و نظر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔مذکورہ کتاب تفہیم اقبالؔ بھی اسی نوعیت کی کتاب ہے جس میں انھوں نے مختلف مضامین کو ترتیب دے کر اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔یہ کتاب عبد الرحیم قدوائی کی کتاب جلوہ دانش فرنگ کا کے حوالے سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔جس میں پروفیسر صغیر افراہیم نے مضامین مرتب کرکے یہ کوشش کی ہے جہاں دیگر اہل قلم حضرات کے جوہر نمایاں ہوسکیں وہیں عبد الرحیم قدوائی کی فنی شخصیت کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؔ کے کلام کی زیادہ سے زیادہ معنویت عوام و خواص پر نمودار ہوسکے۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے کہا جلوۂ دانش فرنگ عبد الرحیم قدوائی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مغربی لوگوں کے مضامین کو منتخب کر کے ترجمہ کرکے شائع کیا تھا۔ان کے اس کام سے ثابت ہوا کہ اقبالؔ مغربی نقادوں،ادبی دانشوروں کی نظر میںکس اہمیت کے حامل ہیں۔اقبالؔ صرف اس لئے ہی عالمی سطح کے شاعر نہیں کہ ان کو عالمی سطح پر پڑھا جاتا ہے،یا عالمی یونیورسٹیز میںان کامطالعہ کیا جاتا ہے۔بلکہ اس لئے مشہور ہیں کیوں کہ ان کے اوپر مغرب میںبڑا کا م دیکھنے کو ملتا ہے اور ان کی شاعری پر اعلیٰ درجے کے تبصرے اور ترجمے دیکھنے کو ملتے ہیں۔پروفیسر عبدالرحیم قدوئی کی کتاب جلوۂ دانش فرنگ کے سلسلے سے لکھے گئے مضامین پر پروفیسر صغیر افراہیم کی مرتب کردہ کتاب تفہیمِ اقبالؔ میں دانشِ فرنگ کی جلوہ گری ایک اہم کتاب ہے جس میں مختلف شاہکار مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کا بغور مطالعہ کیا جائے۔پدم شری پروفیسر سید ظل الرحمن نے کہا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں جلوۂ دانش فرنگ کے اجراء میں بھی شریک ہوا ہوں اور آج ا س کتاب پر لکھے گئے مضامین کی کتاب تفہیمِ اقبالؔ میں دانشِ فرنگ کی جلوہ گری کے رسمِ اجراء میں بھی شریک ہوں۔پروفیسر صغیر افراہیم نے بے شک ایک بڑا کام انجام دیا ہے اور وہ مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اس قسم کے کام سے نئی نسلوں اور نئے لکھنے والوں کو ایک راہ ملتی ہے کہ وہ کس طرح ادب میں خدمت انجام دے سکتے ہیں۔آخر میںپروفیسر صغیر افراہیم نے پروگرام میں شامل ہونے والوںکا شکریہ ادا کیا۔شرکاء میں پروفیسر عبد الرحیم قدوئی،شافع قدوائی،ڈاکٹر پریم کمار،پروفیسر ظفر احمد صدیقی،پروفیسر طارق چھتاری،پروفیسر مولا بخش ،پروفیسر طارق سعید،ڈاکڑ راحت ابرار،پروفیسر سیما صغیر،ڈاکٹر مشتاق صدف،ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی ،نوشاد قریشی وغیرہ وغیرہ پیش پیش رہے۔

فوٹو میں ۔۔ پروفیسر صغیر افراہیم کی مرتب کتاب تفہیم اقبالؔ میں دانشِ فرنگ کی جلوہ گری کا رسمِ اجراء کرتے ہوئے مہمانان جب کے دوسری تصویر میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *