پروفیسر صغیر افراہیم نے اورنگ آباد مہاراشٹ میں مختلف کالجوں اور اداروں میں توسیعی خطبات پیش کئے

علی گڑھ:معروف ناقد، افسانہ نگار اور شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسرڈاکٹر صغیر افراہیم نے اورنگ آبادمہارشٹ میں مختلف کالجوں اوراداروں میں اہلِ نقد و نظر اور اردو ادب کے چاہنے والوں کے درمیان مختلف ادبی پروگراموں میں توسیفی خطبات پیش کئے۔اس سلسلے کا پہلا توسیعی خطبہ ڈاکٹر رفیق زکریا کی چودھویں برسی کے موقع پرقومی قونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے منعقدہ ڈاکٹر رفیق زکریا میمورئل لیکچرکے تحت بعنوان’’اردو ادب میں مشترکہ تہذیبی رجحانات‘‘ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فار ویمن اورنگ آباد میں پیش کیاگیا۔پروفیسر صغیر افراہیم نے اس سلسلے سے بتایا کہ اس موضوع پر ان کی کی گئی گفتگو کو اورنگ آبادمیں اہلِ ادب نے کافی پسند کیااس سلسلے سے یوں تو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن اختصار کے ساتھ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ’’مشترکہ تہذیب ہمارے ملک ہندوستان کی پہچان اور شناخت ہے یہاں مختلف مذاہب،مختلف زبانیں اور مختلف قومیںہونے کے باوجودکثرت میں وحدت کا رنگ قدم قدم پر نظر آتا ہے جس پر ہمیں ناز ہے۔لیکن کچھ عناصر اس تہذیب کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہیںجس کی مثال میں موجودہ حالات ہیں۔لیکن ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ نفرت سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا اگر نفرت کی بنیاد پر حکومت حاصل کر بھی لی بھی جائے تو وہ پائیدار نہیں ہو سکتی ۔اپنی اس مشترکہ تہذیب کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیں نفرت کے بجائے محبت کی باتیں کرنی چاہئے ۔آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ اس مشترکہ تہذیب کو مجروح کرتے ہوئے سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کیا جا رہا ہے جب کہ اگر ہم قدیم تاریخ دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ماضی میں ایک راجا دوسرے راجا سے جنگ کیا کرتا تھا۔اورنگ زیب کی لڑائی شوا جی سے تھی ہندئوں سے نہیں لیکن 1868ء میں انگریزوں نے ہندووستانیوں کے ذہنوں میں تعصب کا زہر بھر دیااردو زبان کو منظم ڈھنگ سے مسلمانوں کی زبان بنا دیا گیا،بٹوارے کے بعد اردو پاکستان کی قومی زبان بن گئی جب کہ پاکستانیوں کی زبانیں دوسری تھیںاردو تو خالص ہندوستانی زبان ہے جس نے لشکر سے جنم لیا تھامختلف ممالک سے آنے والے شہنشاہوں کا مقصدہندوستان کو لوٹنا نہیںتھا بلکہ ان کے لشکر میں مختلف زبانوں اور قوموں کے افراد شامل ہوا کرتے تھے اسی دوران باہمی ربط کے لئے ایک مشترکہ زبان کی ضرورت پیش آئی اور اردو نے سرزمینِ ہندوستان میں جنم لیا یہ زبان اسی سرزمین کی زبان ہے یہ کہیںباہر سے نہیں آئی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ملک بٹتے ہی اس کوسرحدوں میں تقسیم کر دیا گیامگراس زبان کی مشترکہ تہذیب کا جادو یہ ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا جذبہ آج بھی برقرار ہے اورحقیقت تو یہ ہے کہ جو شخص اپنی مادری زبان کو فراموش کر دیتا ہے وہ اپنی ماں کی بھی عزت نہیں کر سکتا۔اور یہ بات بھی سچ ہے کہ کوئی فنکار یا قلمکار نہ ہندو ہوتاہے نہ مسلمان اور نہ اسے کسی مسلک میں قید کیاجا سکتا ہے۔بلکہ وہ جو کچھ سماج میں دیکھتا ہے اس کو اپنی تخلیق کا حصہ بناتا ہے‘‘۔پروفیسر صغیر افراہیم کا دوسرا لیکچر’’پریم چند کا معروضی مطالعہ‘‘عنوان کے تحت رہا جس میں موصوف نے پریم چند کے فن پر سیر حاصل گفتگو کی۔تیسرا توسیعی خطبہ مراٹھ واڑہ یونیورسٹی اورنگ آباد میں ’’تحقیق کے جدید طریقہ کار‘‘کے عنوان سے پیش کیا جس میں اساتذہ و طلباء نے کافی تعداد میں شرکت کی اور موصوف کے بیان سے فیض حاصل کیا۔پروگرام میں یو پی ایس سی اردو آپشنل گائیڈنس سینٹر کا اففتاح بھی عمل میں آیا۔اس موقع پر آپ کو پرنسپل ڈاکٹر مخدوم فاروقی نے اعزاز سے نوازا ۔اس دوارن اردو ،ہندی اور انگریزی کے نامہ نگار بھی موجود رہے۔شام کو اورنگ آباد کے معروف شاعر قاضی نویدؔ صدیقی کی جانب سے پروفیسر صغیر افراہیم کے اعزاز میں ایک نشست کاانعقاد بھی عمل میں آیا جس میں شہر کے مقتدر ادباء و شعراء نے شرکت کرکے پروفیسر صغیر افراہیم سے استفادہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram