ثقلین عابدی کی امام بارگاہ سے حضرت قاسم ؑ کی مہندی کے جلوس کا انعقاد

علی گڑھ:مثلِ سالہائے گذشتہ اس سال بھی ثقلین عابدی جلالوی کی رہائش گاہ بیکری والی گلی زہرہ باغ سول لائن علی گڑھ سے حضرت قاسمؑ ابن حسنؑ کی یاد میں ایک مہندی کا جلوس برآمد کیا گیا جس میںکثیر تعداد میں محبان اہلبیتؑ نے شرکت کرکے حضرت قاسم ؑ کی شہادت پر گریہ وو زاری کرتے ہوئے ماتم کیا ۔یہ جلوس اختر عابدی اور منصف عابدی کے گھر کی مہندیوں کو شامل کرتے ہوئے حسینی مسجد زہرہ باغ علی گڑھ میں اختتام کو پہنچا۔واضح ہو کہ ہر سال ماہ محرم میں حضرت قاسمؑ کی یادمیں مہندی برآمد کی جاتی ہے۔حضرت قاسم ؑنواسہ رسولؐ حضرت امام حسن ؑکے فرزند تھے۔جنھوں نے کربلا میں امام حسینؑ کی نصرت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔واقعہ کربلا کے وقت آپ کی عمرمحض تیرہ سال کی تھی۔ایک روایت کی مطابق آپ کی شادی کربلاکے میدان میں ہوئی تھی اور شادی کے ایک دن بعد ہی آپ منزل شہادت پر فائز ہوئے۔ آپ کا ایک جملہ تاریخ میں رقم ہے آپ نے کہا کہ شہادت کی موت شہد سے زیادہ شیریں ہوتی ہے۔تاریخ لکھتی ہے کہ آپ کمسن تھے اس لئے امام حسینؑ جنگ کی اجازت دینے میں تاخیر کر رہے تھے تو آپ نے اپنے بازو پر بندھے اپنے بابا حسنؑ کی وصیعت پیش کی جس میں لکھا تھا کہ امام حسینؑ کے لئے جان قربان کر دینا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت قاسمؑ ابنِ حسنؑ نے حق پر جان دے کر ثابت کر دیا کہ اسلام قربانی کا مذہب ہے اور شریعت کے تحفظ کے لئے کسی چیز کو عزیز نہیں رکھا جا سکتا۔جلوس میںذاکر جلالوی، شاذو،بلّو،تابش کاظمی،شانو،مظفر حسین وغیرہ نے نوحے پڑھے۔اس کے علاوہ ایامِ عزا کے سلسلے سے نگلہ ملاح سول لائنس علی گڑھ میں مظہر حسین عرف عراقی کی رہائش گاہ پر چل رہے سلسلہ مجالس کو راشد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علیؑ نے رسول اﷲکی قدم قدم پر نصرت کی جس کی مثال ہمیں دعوت ذوالعشیرہ میں تو ملتی ہی ہے اس کے علاوہ ہجرت کا واقعہ بے مثال ہے جس میں مولا کائنات حضرت علیؑ نے رسولؐ کے بستر پر سو کر اسلام اور پیغمبر خدا کی حفاظت فرمائی۔اسی طرح حضرت علی ؑ کے فرزندان حسنینؑ نے بھی اسلام کی مدد کرتے ہوئے جان و مال کی قربانی پیش کی خاص طور سے امام حسینؑ کی قربانی بے مثال ہے ان کاآخری سجدہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں شریعت کا ہر حال میں خیال رکھنا چاہئے اور مقصد حسینؑ سمجھتے ہوئے ریا کاری سے بچتے ہوئے عزاداری کے امور انجام دینے چاہئے۔مجلس میںحضرت عباس ؑ ابن علی ؑ کے مصائب بیان کئے گئے نوحہ خوانی کرنے والوں میں جعفر رضا وشنؔ اورحیدر مظفر نگری پیش پیش رہے۔ اس مجلس کے بعد جیون گڑھ علی گڑھ میں چاند بابو عرف بنگالی بابو کے یہاں بھی ایک مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں سوز خوانی عابد حسین عرف پنو بھائی نے کی اور نوحہ خوانی عازم حسین نے کی مجلس کے بعد علم حضرت عباسؑ برآمد کیا گیا۔شرکاء میں ثقلین عابدی جلالوی،احمد نواب،مظاہر حسین وغیرہ وغیرہ موجود رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest