غزل

تیرے دل کو ملال کیسا ہے
یہ بتا دے کہ حال کیسا ہے
بات کیا ہے، اداس بیٹھے ہو
دل میں آیا خیال کیسا ہے
کیوں سمجھتا نہیں اسے انساں
موت کا یہ سوال کیسا ہے
قدر باقی رہی نہ رشتوں کی
آدمی کا زوال کیسا ہے
قحط سالی کہیں، کہیں پانی
کیا کہوں اعتدال کیسا ہے
یوں نہ آتے تھے زلزلے ہردم
آج آیا یہ سال کیسا ہے
واہ کیا خوب ہے مسیحائی !
پوچھ مت، دیکھ حال کیسا ہے
موت بانٹے جو ہے مریضوں کو
شہر کا ہسپتال کیسا ہے
رنگ چہرے کا اڑ گیا کیسے
تجھ کو آیا جلال کیسا ہے
میں کہاں اور تو کہاں ہمدم
بات کرنا محال کیسا ہے
ایک پل بھی نہیں سکوں بسملؔ
دردِ دل لازوال کیسا ہے

پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
رابطہ۔8340505230

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest