پریم چند کے افسانوی فن میں مُسلم کلچر اور کچھ کرداروں کی جھلکیاں

 

 

 

 

 

 

 

اسلم چشتی (پونے) انڈیا

چیئرمین “صدا ٹوڈے” اُردو نیوز ویب پورٹل

www.sadatoday.com

Sadatodaynewsportal@gmail.com

09422006327

مُنشی پریم چند کی شخصیت کی اہمیت اور ان کے فنِ افسانہ نگاری کی افادیت جگ ظاہر ہے – انھیں اُردو اور ہندی کہانیوں / افسانوں کا باوا آدم کہا جاتا ہے – ان سے پہلے افسانہ تخیّلی مناظر اور کرداروں پر لکھّا جاتا رہا ، پھر یہ رومانیت کی دُنیا سے مُنسلک ہُوا – ان افسانوں میں داستانوں کا رنگ تھا یا پھر مغربی( شارٹ اسٹوری) کی چھاپ تھی یا پھر ترجمہ تھا – داستانوں ( قصّہ گوئی ) کے دور کے اختتام پر افسانوں کی ہیّت کا تعیّن نہیں ہو پا رہا تھا ، لیکن نوّاب رائے ( پریم چند )نے جب لکھنا شروع کیا تو افسانے کی ہیّت بھی بدلی اور اس میں زندگی کے رنگ بھی شامل ہوئے – دراصل اسی وجہ سے انھیں اُردو / ہندی کا اوّلین افسانہ نگار مشترکہ طور پر تسلیم کر لیا گیا – بلکہ یہ کہنا بھی مُجھے مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند نے ناول نگاری میں حقیقت نگاری کی شروعات با قاعدہ طور پر کی – ناول نگاری ہو کہ افسانہ نگاری پریم چند نے اپنے دور کے ہر سماجی ، سیاسی ، ثقافتی مسائل کو معہ حل کے پیش کرکے ایسی مثال قائم کی کہ اب تک نہ صرف اس کےنقوش باقی ہیں بلکہ ان کے بعد کی نسلوں نے یا ان کی تقلید یا پھر ان کی بتائی ہوئی راہوں پر چل کر اپنی راہیں الگ پیدا کیں اور منزلوں کی طرف گامزن ہوئے – بہرحال پریم چند کی تحریریں فکشن کی تاریخ کا روشن باب ہیں – جس کی روشنی کی توانائی آج کے سماج کو بھی فیض پہونچا رہی ہے –

ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں-

” پریم چند سے پہلے افسانوں ادب شہری زندگی اور اس کے مسائل تک محدود تھا پریم چند نے پہلی بار افسانہ میں گاؤں کی کھُلی ہوئی زندگی ، اس کے میلے ٹھیلے، کھیت کھلیان ، چوپال اور گاؤں کے سماجی رشتوں کو پیش کیا – پریم چند نے افسانہ میں عام انسانی زندگی سے اخذ کیے ہوئے کرداروں کے مطالعہ اور ان کے نفسیاتی تجزیے پر بڑا زور دیا ہے “

( نریندر کمار ، منیجنگ پارٹنر ڈائمنڈ پاکٹ بکس ” کتاب مانسروور” ص 5 )

جیسا کہ اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ پریم چند نے پہلی بار افسانہ میں گاؤں کی زندگی کو پیش کیا اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے پر زور دیا – یہ کردار حقیقی زندگی سے اخذ کئے ہوئے کردار ہیں – پریم چند نے انسانی زندگی کا عمیق مُطالعہ کیا تھا – ان کا مشاہدہ بھی بہت ہی گہرا اور تیز تھا – اس لئے انھوں نے زندگی کے رُموز کو سمجھ لیا تھا – اس کی اصلیت کو جان لیا تھا – اور ان نُکات کو پہچان لیا تھا جو کہ انسان کی زندگی سے ہر دم جُڑے رہتے ہیں ، کبھی ختم نہیں ہوتے –

1880. ء سے 1936.ء تک پریم چند نے اپنے قلم کے جو جوہر دکھائے ہیں وہ انھیں کا کام تھا جو انھیں کے ہاتھوں ہُوا – ان کے ہاں زندگی کے ہزار ہا پہلو ملتے ہیں – بیشتر پہلو آج کی زندگی میں بھی ہم دیکھ سکتے ہیں – بظاہر تو یہ افسانے جس وقت لکھے گئے اُس زمانے کے معاشرے کے ہیں ، اُس وقت کے مسائل کے ہیں – لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ آج کے سماج کو بھی درشاتے نظر آتے ہیں ، یہ ایک ایسا موضوع ہے جو غور طلب ہے اور تحقیق و تجزیے کا مُتقاضی بھی ہے – لیکن یہاں مُجھے اس پر گفتگو نہیں کرنی ہے- –
پریم چند کے افسانوں کے کردار ، مسائل ماحول ، موسم غرض سب کچھ ہندوستانی ہیں – معاشرہ بھی خالص ہندوستانی ، مشترکہ تہذیب کی غمّازی کرنے والا ، ہندوستانی رسم و رواج ، عادات و اطوار اور مذہبی رواداری کا عکّاس ! ہندو ، مسلم سکھ ، عیسائی کے مشترکہ کلچر کو ظاہر کرنے والا ہے – پریم چند کی اپنے وطن اور مٹّی سے پیار کی خوشبو ان کی ہر تحریر میں محسوس کی جا سکتی ہے – یہی ان کی عظمت ہے اور یہی ان کی شناخت جو ان کی آخری سانس تک قائم رہی –

پریم چند کا سماجی شعور قابلِ رشک تھا جس کی بنا پر وہ ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں میں یکساں مقبولیت رکھتے تھے – اُن کی آواز تھی ، حق کی آواز ، سچّائی کی آواز ، اس آواز نے انگریز حکومت کو بھی متذلزل کر کے رکھ دیا تھا – اسی آواز نے ہندوؤں کے وہ رسم و رواج جو انسانیت کے خلاف تھے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا اور کچھ فرقوں کی سوچ کے دھارے بھی بدل دیئے – گاندھی جی کے نظریات اور پنڈت نہرو کے مثبت اور اور سیکولر خیالات سے وہ مُتفق تھے اور سارے ہندوستانی سماج میں مستقل اتّحاد کی تائید کرتے تھے – ان کی نظر ہندو مسلمان کے فرق کو تسلیم نہیں کرتی تھی – انھیں اُردو زبان سے پیار تھا اور مسلم قوم کو وہ پسند کرتے تھے – مذہبِ اسلام کی بُنیادی باتوں سے خوب واقف تھے – مُسلم کلچر کو ہندوستانیت کا گہرا شوخ رنگ سمجھتے تھے – اپنے ناولوں اور افسانوں میں انھوں نے اس کلچر کو ظاہر کیا ہے اور اس کلچر پر خاص طور پر کچھ افسانے بھی لکھّے ہیں –

بچپن میں میں نے ان کا ایک افسانہ ” حجِ اکبر ” پڑھا تھا تبھی سے میں ان کا fan ہو گیا تھا – جوانی کی منزل تک آتے آتے وقتاً فوقتاً میں نے ان کے کئی افسانے پڑھے مُختلف موضوعات اور مسائل والے یہ افسانے انسانیت کا درس دیتے تھے اور آدمی کو انسان بننے کی ترغیب دیا کرتے تھے – ہندو دھرم کی وہ روایات جو کہ انھیں غلط معلوم ہوتی کُھل کر بیان کرتے تھے – اس سلسلے میں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن یہاں اس کا محل نہیں یہاں مُجھے پریم چند کے افسانوں میں مُسلم کلچر اور کرداروں پر گفتگو کرنی ہے –

” حجِ اکبر ” دسمبر 1917. ء میں شایع ہُوا اور اس کی مقبولیت ہر دور میں ہوئی اور آج بھی یہ افسانہ پسند کیا جاتا ہے – اسے مسلمانوں نے تو پسند کیا ہی لیکن دیگر مذاہب نے بھی اسے اچھا اور معیاری افسانہ مانا ہے – یہ افسانہ میری یادداشت میں کچھ یوں ہے کہ ایک امیر فیملی میں کام کرنے والی ایک ایسی بڑھیا کی کہانی بیان کرتا ہے جو زندگی بھر امیر خاندان کی خدمت کرتی رہی گھر کے ہر فرد سے وہ پیار کرتی اور سبھی کی خدمت کرتی ، اسی گھر کا ایک چھوٹا سا بچّہ اس بڈھیا کا بڑا لاگو تھا کہ اچانک کسی بات پر اس بڈھیا کو کام سے نکال دیا جاتا ہے – اس کے جانے کے بعد وہ بچّہ ہر دم اس کو یاد کر کر کے رونے لگتا ہے – کئی دن ہو جاتے ہیں – ڈاکٹر طبیب علاج کرتے ہیں ٹھیک نہیں ہوتا بس اس بڈھیا کی رٹ لگایا کرتا ہے اور رات میں بھی نیند سے اس کا نام لے کر اُٹھ بیٹھتا ہے اور رونے لگتا ہے – طبیب مشورہ دیتے ہیں کہ اس بوڑھی عورت کو لے آؤ تو شاید یہ ٹھیک ہو جائے – بچّے کے ماں باپ اس بوڑھی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ وہ حج کے لئے اسٹیشن کو جا چُکی ہے کل بمبئی سے اس کا پانی کا جہاز ہے – بچّے کے ماں باپ اسٹیشن پہنچتے ہیں ٹرین ابھی چھوٹنے ہی والی ہے اور یہ بوڑھی سے بچّے کی حالتِ زار بیان کرتے ہیں تو وہ تڑپ اُٹھتی ہے – بچّے کے پاس پہنچتی ہے بچّہ اس سے لپٹ جاتا ہے اور کچھ ہی دنوں میں صحتیاب ہو جاتا ہے – بوڑھی کا یہ روئیہ یہ سُلوک گویا ” حجِ اکبر” سے کم نہیں کہ اس کی وجہ سے بچّہ مرتے مرتے بچ گیا – حجِ اکبر کی روایت یہ ہے کہ یہ جمعہ کے دن ہوتا ہے جو برسوں میں ایک دن آتا ہے اور یہ حج بڑا حج مانا جاتا ہے جو قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے – یہ افسانہ ایسا درد بھرا اور پُر اثر ہے کہ آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہیں اور دل تڑپ اُٹھتا ہے اس کی تکنیک اور اُسلوب بھی مُتاثر کُن ہے – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں-

” پریم چند سے زندگی میں تین بار ہماری ملاقات ہوئی – ایک بار اس وقت جب میں نے اپنے ابّا کو دیکھا کہ وہ میرے تیسرے درجے کی اُردو کی کتاب سے ماں کو ایک کہانی سنا رہے ہیں اور دونوں رو رہے ہیں – وہ کہانی پریم چند کی ” حجِ اکبر ” تھی – اس کے بعد اکثر میری ماں مُجھ سے وہ کہانی پڑھ کے سُنانے کو کہتی اور پڑھتے پڑھتے ہم دونوں اس قدر روتے کہ کہانی ادھوری رہ جاتی یہ کہانی آج تک ہم دونوں سے پوری نہیں پڑھی جا سکی – یہ وہ وقت تھا جب منشی پریم چند نے مُجھے پہلی بار چُھوا “

( گلزار : انٹرویو انٹرنیٹ )

اس اقتباس سے پریم چند کے افسانے ” حجِ اکبر ” کے قاری پر بھر پور تاثر کی تصدیق ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں انسانیت ، ہمدردی اور ایثار کی خو بو ہے – اونچ نیچ کے فرق کو یہ افسانہ ردّ کرتا اور اعلی اقدار کی نشاندہی کرتا ہے – اس افسانے کی طرح پریم چند نے جہاں مُسلم کلچر کو پیش کیا ہے مُسلم کرداروں کو افسانے کا جُز بنایا ہے وہاں انھوں نے انصاف سے کام لیتے ہوئے اسلام کا بھی لحاظ رکھا اور کرداروں کے وقار میں بھی فرق نہیں آنے دیا اور مُسلم معاشرے کے بارے میں ان کا جو خیال ہے خوش اُسلوبی کے ساتھ پیش کر دیا – یہ وہ اس لئے کر پائے کہ انھوں نے مُسلم کلچر کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے – غور کیا ہے بلکہ اس کلچر میں رہے بسے ہیں – ان کے دوستوں میں کئی ایسے مسلمان تھے جن سے وہ بے حد پیار کرتے تھے – ان کے لئے ایثار اور قربانی کا جذبہ ان میں تھا – پریم چند 9 ویں جماعت میں تھے کہ ان کی شادی ہو گئی اسی سال ان کے والد کا انتقال ہو گیا – انٹرنس 1899.ء میں پاس کیا والد کی وفات کے بعد معاشی حالت بدتر ہو گئی، کالج کی فیس بھی دینی مُشکل ہو گئی، بنارس کا رُخ کیا وہاں ایک وکیل کے بچّوں کو ٹیوشن دینے کی نوکری مل گئی معاوضہ ماہانہ پانچ روپئے طے ہُوا رہنے کو کوٹھری مل گئی تین روپئے گھر میں دیتے اور دو روپئے میں گزارا کرتے – ایسے حالات میں انھیں چُنار گڈھ کے مشنری اسکول میں اسٹنٹ ماسٹر کی نوکری مل گئی – تنخواہ 18 روپئے ماہانہ تھی تنگ دستی اور پریشانی کے بعد یہ نوکری راحت کا باعث تھی لیکن – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں

” لیکن چھ ماہ کے اندر اندر اپنے ایک رفیق مولوی ابنِ علی کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کے خلاف آواز اُٹھانے کے جُرم میں مولوی صاحب اور دھنپت صاحب ( پریم چند ) دونوں کو نوکری سے نکال دیا گیا “

زمانہ” پریم چند نمبر “(ص نمبر 17، 18)
یہ اقتباس مانک ٹالہ کے ضمیمہ نمبر دو سے اخذ کیا گیا ہے اور ان کی پریشانی اور تنگ دستی کے دور کی جھلک بھی انھوں نے منشی دیا نارائن نگم ایڈیٹر” زمانہ ” کانپور کے مضمون پریم چند کے حالاتِ زندگی کی تصیح کرتے ہوئے پیش کیا ہے – اقتباس سے پریم چند کی نا انصافی کے خلاف احتجاج کی ایک مثال ہے کہ ایک مولوی دوست کی خاطر انھوں نے پریشانی کے دنوں میں ملی ہوئی نوکری قربان کر دی – پریم چند نے زندگی میں ایسی قربانیاں بہت کی ہیں جسے جاننے والے جانتے ہیں اور ماننے والے مانتے ہیں – بہرحال یہ مثال محض اس لئے پیش کی گئی کہ پریم چند مُسلم شناس بھی تھے اور مُسلم نواز بھی، تبھی تو انھوں نے مُسلم کلچر پر لکھے ہوئے افسانوں میں حقیقت کا رنگ بھر دیا

پریم چند کا ایک مشہور افسانہ ہے ” شطرنج کے کھلاڑی ” نواب واجد علی شاہ کے دور کا قصّہ ، پریم چند نے لکھنؤ کی بتدریج تباہی کی داستان اس میں رقم کی ہے – اسے بیان کرنے کے لئے انھوں نے دو خاندانی جاگیردار مرزا سجّاد علی اور میر روشن علی کو وسیلہ بنایا ہے جو شطرنج کے کھلاڑی ہیں دن رات بساط بچھائے رہتے ہیں – نہ کھانے کا ہوش نہ گھر بار کا نہ بیوی بچّوں کا خیال نہ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کا خوف بس شطرنج کے کھیل میں مست – افسانے کے شروع میں پریم چند نے اس وقت کے لکھنؤ کا جو نقشہ پیش کیا ہے اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں

” نواب واجد علی شاہ کا زمانہ تھا لکھنؤ عیش و عشرت کے رنگ میں ڈوبا ہُوا تھا چھوٹے بڑے امیر غریب سب رنگ ریلیاں منا رہے تھے ، کہیں نشاط کی محفلیں آراستہ تھیں ، کوئی افیون کی پنک کے مزے لیتا تھا – زندگی کے ہر شعبہ میں رندی و مستی کا زور تھا – اُمورِ سیاست میں شعر و سُخن میں ، طرزِ معاشرت میں صنعت و حرفت میں ، تجارت و تبادلہ میں سبھی جگہ نفس پرستی کی دہائی تھی اراکینِ سلطنت مئے خوری کے غلام ہو رہے تھے – شعراء بوس و کنار میں مست، اہلِ حرفہ کلا بتوں اور چکن بنانے میں، اہلِ سیف تیتر بازی میں ، اہلِ روزگار سُرمہ و مستی، عطر و تیل کی خرید و فروخت کا دلدادہ غرض سارا مُلک نفس پروری کی بیڑیوں میں جکڑا ہُوا تھا “

( دوسرا ایڈیشن 1997 ناشر قومی کونسل برائے فروغ اُردو دہلی پریم چند کی کہانیاں، افسانہ” شطرنج کے کھلاڑی ص 108 )

“شطرنج کے کھلاڑی ” ایک تاریخی قصّہ ہے – اس دور کی حقیقتوں کو اختصار میں بیان کرتا ہے – پریم چند نے اس میں سارے مُسلم کلچر کو بہت ہی احتیاط سے پیش کیا ہے – اس افسانے پر فلم بھی بنی ہے – اس افسانے کو مدّ ِ نظر رکھ کر تحقیق کی جائے تو لکھنؤ کی تباہ کاریوں کی وہ صورت سامنے آئے گی جو اب تک لکھنؤ کی تاریخ بتانے سے قاصر ہے
پریم چند کے کرداروں کے متعلق ایک چھوٹا سا اقتباس مُلاحظہ فرمائیں

” پریم چند کے کرداروں کی گیلری بہت بڑی ہے اور سبھی کرداروں سے اس کی بڑی گاڑھی جان پہچان ہے – یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات وہ کہانی کے تانے بانے کی ذمّہ داری بڑے چین سے انھیں کو سونپ دیتا ہے “

( دوسرا ایڈیشن 1997.ء دیباچہ جوگندر پال : پریم چند کی کہانیاں، قومی کونسل برائے فروغ اُردو دہلی ص 8)

پریم چند کے افسانوں میں ہندوستان کے تقریباً ہر طبقے ، ہر فرقے ، ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے کردار ہیں ہر مذہب کے کرداروں کو پیش کرنے کا ان کا اپنا سلیقہ ہے – ہر عمر کے کرداروں کی نفسیات کا مُشاہدہ ان کے ہاں تعجب خیز ہے – قاری دنگ رہ جاتا ہے پریم چند کی کرداروں کو دیکھنے ، پرکھنے ، سمجھنے کی غیر معمولی نظر کسی اور افسانہ نگار کے پاس شاید ہی نظر آئے – اور پھر کردار کی کرداریت کا استعمال غضب کا ہوتا ہے انھوں نے مسلمانوں کے متوسط طبقے کے کرداروں پر جو افسانے لکھے ہیں وہ لا جواب ہیں

پریم چند کا ایک افسانہ ہے “پنچائت ” یہ افسانہ جُمّن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی پر مُشتمل ہے یہ دوستی بچپن کی دوستی ہے مثالی دوستی ہے – لوگ ان کی دوستی پر رشک کرتے ہیں – افسانے میں کئی واقعات ہیں کئی موڑ ہیں ، کئی کردار ہیں – ان میں ایک کردار جُمّن شیخ کی بوڑھی بیوہ خالہ کا ہے جس کی ملکیت جُمّن نے اپنے نام کروالی ہے – جب تک رجسٹری نہ ہوئی وہ خالہ کی خدمت کرتا رہا بعد میں اُس نے منھ موڑ لیا خالہ بیچاری لاچار بیوہ بے یار و مددگار پریشان پائی پائی کی محتاج بن کر رہ گئی ، بات پنچائت تک پہنچی کسی طرح الگو چودھری سرپنچ بنائے گئے ، جُمّن خوش ہو گیا کہ الگو چودھری میرا دوست ہے فیصلہ میرے حق میں کرے گا لیکن الگو چودھری نے جُمّن کو مُجرم ٹھہرایا ، جُمّن کو غصّہ آیا پر وہ کچھ نہ کر سکا – پھر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ الگو چودھری کسی مسئلہ میں پنچائت تک پہنچتا ہے – اتفاق سے جُمّن سرپنچ بنایا جاتا ہے – الگو سوچتا ہے کہ چونکہ جُمّن اب دوست نہ رہا وہ ضرور بدلہ لے گا – لیکن بات اُلٹ ہوئی جُمّن الگو کے حق میں فیصلہ سُنا تا ہے – اس افسانہ کی اختتامی سطریں دیکھئے

” ایک گھنٹے کے بعد جُمّن شیخ الگو کے پاس آئے اور ان کے گلے سے لپٹ کر بولے بھیّا جب سے تم نے میری پنچائت کی ہے – میں دل سے تمہارا دُشمن تھا مگر آج مُجھے معلوم ہُوا کہ پنچائت کی مسند پر بیٹھ کر نہ کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے نہ دُشمن – انصاف کے سوا اور اُسے کچھ نہیں سوجھتا – یہ بھی خُدا کی شان ہے آج مُجھے یقین آگیا کہ پنچ کا حُکم الله کا حُکم ہے الگو رونے لگے دل صاف ہو گئے – دوستی کا مُرجھایا ہُوا درخت پھر سے ہرا ہو گیا – اب وہ بالو کی زمین پر نہیں حق اور انصاف کی زمین پر کھڑا تھا”

( افسانہ : پنچائت، کتاب :” پریم چند کی کہانیاں ” ص 21 )

افسانہ” پنچائت” مشترکہ کلچر پر لکھا ہُوا افسانہ ہے – پریم چند کے ایسے اور بھی افسانے ہیں جن میں مُسلم کردار اپنے اوصاف کے ساتھ نظر آتے ہیں – ایسے افسانوں اور ناولوں پر تحقیق کی جائے تو اس موضوع پر کھُل کر لکھا جا سکتا ہے – فی الحال مُسلم کلچر پر لکھے ایک اور افسانے” عیدگاہ ” پر گُفتگو کریں کہ یہ افسانہ پریم چند کے مشہور ترین افسانوں میں شُمار کیا جاتا ہے – برس ہا برس کے بعد بھی اس کے تاثر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی

افسانہ ” عیدگاہ ” عید الفطر کے دن کی روداد پیش کرتاہے – اس کے دو مرکزی کردار ہیں – ایک چھوٹا بچّہ حامد اور دوسری اس کی دادی امینہ ، پریم چند نے عید کے دن کی گہما گہمی کی خوب عکّاسی کی ہے – امینہ ( دادی ) محلّے والوں کے کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے – عید کے دن اس کے پاس صرف پانچ پیسے ہیں – وہ حامد کو تین پیسے دیتی ہے اور دو پیسے اپنے پاس رکھتی ہے حامد خوشی خوشی عیدگاہ جانے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے – اس کے دوست اپنے اپنے والد کے ساتھ جاتے ہیں یہ اس ٹولے میں شامل ہو جاتا ہے – عید کی نماز کے بعد سارے بچّے میلے میں کھلونوں کی خریداری کرتے ہیں حامد کو کھلونے مٹھائیاں دکھا دکھا کر چڑاتے ہیں لیکن حامد اپنی دادی کے لئے تین پیسوں میں دستِ پناہ ( چمٹا ) خریدتا ہے اور لاکر دادی کو دیتا ہے وہ کہتی ہے کہ “تو دن بھر کا بھوکا ہے کچھ کھانے کی چیز لے کر کھا لیتا یہ کیا اُٹھا لایا ” تو حامد کہتا ہے ” تمہاری اُنگلیاں توِے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟”

مُسلم کلچر اور مُسلم کرداروں کو پریم چند نے اپنے افسانوں میں خوب خوب برتا ہے ان کے ساتھ انصاف کیا ہے اور جہاں مشترکہ کلچر کے ماحول کو لیا ہے وہاں اگر کوئی مُسلم کردار آیا ہے تو انھوں نے افسانے میں اس کردار کو نکھار سنوار کر پیش کیا ہے

اس اہم موضوع پر اس مقالے کو نا چیز نا مُکمّل اور تشنہ ہی سمجھتا ہے لیکن اطمینان اور خوشی اس بات کی ہے کہ نا چیز کے قلم سے یہ چند سطریں رقم ہو گئیں جو کہ پریم چند کے افسانوی ادب کا ایک طوانہ اور روشن پہلو پیش کر تی ہیں – اُمّید ہے کہ اسکالرس اور نقّاد اس موضوع کی جانب توجہ کریں گے اور اس تحقیق کے مثبت نتائج مُستقبل میں سامنے آئیں گے –

Aslam Chishti flat no 404 shaan Riviera aprt 45 /2 Riviera society near jambhulkar garden wanowrie pune maharashtra pin 411040

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram