آلودگی کی مار زندگی کا نہیں پرسان حال

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
زہریلی ہوتی آب و ہوا یوں تو دنیا بھر کیلئے چیلنج بنی ہوئی ہے، مگر بھارت میں اس نے کچھ زیادہ ہی سنگین شکل اختیار کر لی ہے۔ عام دنوں میں اس کا احساس نہیں ہوتا، لیکن دیوالی کا تہوار منانے کے بعد ہوا میں بڑھی آلودگی سب کو دکھائی دیتی ہے۔ ملک کا کوئی چھوٹا بڑا حصہ ایسا نہیں ہے جو اس سے متاثر نہ ہو۔ خاص طور پر ہمالیہ کی جنوبی چھایا میں بنگال سے پنجاب تک پھلا میدانی علاقہ۔ سردی کے موسم میں یہاں کے ماحول میں ٹھنڈی اور گرم ہواؤں کی تہہ سی بن جاتی ہے۔ یہ علاقہ ایک بند برتن یا گیس چیمبر کی طرح بن جاتا ہے۔ یہاں پیدا ہوا دھواں آسانی سے اوپر نہیں اڑ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال پنجاب ہریانہ میں پرالی جلانے اور دیوالی کے پٹاخوں سے نکلا دھواں لوگوں کا دم گھونٹنے لگتا ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی این سی آر کو کالے دھویں کے بادل اپنے آغوش میں لے لیتے ہیں۔ لوگوں کو گھروں کے اندر اور باہر سڑکوں پر آنکھوں میں جلن، سانس لینے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔ اسپتالوں میں نزلہ، زکام، کھانسی، دمے، پھیپڑوں کے مریضوں اور سانس لینے میں پریشانی کی شکایت کرنے والے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے ہر سال بھارت میں20 لاکھ لوگ بے وقت مر جاتے ہیں جو تشویشناک ہے۔ اس سال بھی دہلی میں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے آلودگی کنٹرول بورڈ نے 5 نومبر تک سبھی تعمیراتی کاموں پر روک لگا دی ہے۔ یہ قدم دیوالی کے بعد فضائی آلودگی کے بے حد سنگین ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔
دہلی ہی نہیں زیادہ تر بڑے شہروں میں دیوالی کی رات کا جشن فضائی آلودگی کے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ اسی کے مدنظر سپریم کورٹ کو ہدایات جاری کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ اس کے باوجود دیوالی کی رات کو ہوا اتنی زہریلی ہو گئی کہ ایسا لگا مانو کسی وبائی بیماری نے دہلی پر حملہ کر دیا ہو۔ آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد وشمار کے مطابق دیوالی کی رات 10 بجے کلکتہ میں آلودگی کا گراف 863 اور دہلی میں 1263 تھا، جو معمول سے 25 گنا زیادہ ہے۔ جمعہ یعنی یکم نومبر کی صبح کو دہلی پر چھائی زہریلی دھند اور گہری ہو گئی، ہوا میں کثافت 459 اور دو بجے پی ایم 2.5 کی سطح 500 کے پار پہنچ گئی تھی۔ بتا دیں کہ ہوا کا معیار اے کیو آئی 0-50 اچھا مانا جاتا ہے۔ 50-100 اطمینان بخش، 101-200 درمیانی، 201-300 خراب، 301-400 بہت خراب اور اس سے اوپر انتہائی سنگین حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
دیوالی پر دیئوں کی جگمگاہٹ اور آتش بازی کا میل صدیوں پرانا ہے۔ کچھ برسوں پہلے تک کھولے میدانوں میں پٹاخے جلا کر خوشی منائی جاتی تھی۔ مگر اب اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اب تیز روشنی والے دھماکہ خیز پٹاخوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک میں بیس ہزار کروڑ روپے کا سالانہ پٹاخہ کاروبار ہوتا ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ پٹاخوں کی وجہ جل جاتے ہیں۔ پٹاخوں میں ہری روشنی کے لئے بیریم کا استعمال ہوتا ہے۔ جو ریڈیشن پیدا کرنے کے ساتھ زہریلا ہوتا ہے۔ نیلی روشنی کے لئے کاپر کمپاؤنڈ کا استعمال ہوتا ہے جس سے کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔ پیلی روشنی گندھک سے پیدا کی جاتی ہے جو سانس کی بیماری کو جنم دیتی ہے۔ پٹاخے پھوٹنے کے 100 گھنٹہ بعد تک زہریلے مادے ہوا میں گھلے رہ سکتے ہیں۔ فضائی آلودگی کو پٹاخوں کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا کاربن، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن گیس، پرالی کا دھواں، دھول اور سنگین بناتے ہیں۔ دہلی این سی آر کی فضا کو زہریلا بنانے میں پنجاب، ہریانہ میں پرالی جلانے سے نکے دھویں کی 46 فیصد حصہ داری ہے۔ یہ دھواں خود ہریانہ، پنجاب کے لوگوں کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔
زہریلی آب و ہوا سے سانس، الرجی، اسٹروک، ذیابیطس، ہارڈ اٹیک، پھیپھڑے کے کینسر یا پھیپھڑوں کے سنگین امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ ہیلتھ افیکٹ انسٹی ٹیوٹ اور انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلویشن نے دنیا بھر میں ہوا کے معیار سے متعلق اعداد وشمار پر تفصیلی رپورٹ’اسٹیٹ آف گلوبل ایئر 2019‘ جاری کی تھی۔ اس کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے ہونے والی پانچ ملین اموات میں سے پچاس فیصد موتیں صرف بھارت اور چین میں ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں فضائی آلودگی اب صحت کیلئے سب سے مہلک خطرات کے تیسرے پائیدان پر پہنچ گئی ہے۔ یہ موت کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ جو ملک میں بیڑی، سگریٹ پینے سے ہونے والی اموات سے ٹھیک اوپر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2017 میں غیر محفوظ کثیف ہوا باہری پی ایم 2.5 کے رابطہ میں آنے کی وجہ سے 6.73 لاکھ لوگ مرے تھے۔ اور 481700 سے زیادہ اموات گھریلو آلودہ ہوا کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ 2017 میں بھارت کی 60 فیصد آبادی گھریلو کثافت کی زد میں تھی۔ نیشنل ہیلتھ پروفائل 2019 کی رپورٹ میں سانس سے متعلق بیماریوں کے بارے میں بڑا خلاصہ ہوا ہے۔ اس کے مطابق 2018 میں ایکیوٹ ریسپریٹری انفیکشن سے پورے ملک میں 3740 مریضوں کی موت ہوئی اور ان میں لگا تار اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں وزارتِ سائنس اور ماحولیات حکومت ہند کی رپورٹ 2019 بھارت میں ہونے والی اموات میں 12.5 فیصد کے لئے فضائی آلودگی کو ذمہ دار بتاتی ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے ملک کا ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی بیماری سے جوجھ رہا ہے۔
فضائی آلودگی کی سطح دن بہ دن خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ 1998 سے 2016 کے بیچ گنگا کے میدانی علاقے بہار، چنڈی گڑھ، ہریانہ، پنجاب، اتر پردیش، اور مغربی بنگال میں کثافت 72 فیصد بڑھی ہے۔ اس علاقہ میں ملک کی 40 فیصد یعنی 48 کروڑ کی آبادی رہتی ہے۔ ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کے مطابق یہاں رہنے والی آبادی کی زندگی میں فضائی آلودگی کی وجہ سے 3.4 سے 7.1 سال تک عمر کم ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ دنیا کے 20 آلود? شہروں کی فہرست میں بھارت کے 10 شہر شامل تھے۔ ورلڈ بینک نے آلودہ فضا میں سانس لینے سے ہونے والے عالمی نقصان کو پانچ کھرب ڈالر انکا ہے۔ جبکہ بھارت کو ماحولیات کے معیار میں گراوٹ سے تقریباً 3.75 ٹریلین روپے کا سالانہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن نے فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے انسانی و معاشی نقصان کو شدید قرار دیا ہے۔ کیوں کہ ماحولیاتی کثافت رحم میں پل رہے بچوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ملک کا ہر دسواں شخص دمے کا شکار ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
وقت آگیا ہے جب ماحولیات کو صاف ستھرا رکھنے والی اسکیموں کو فائلوں سے نکال کر زمین پر اتارا جائے۔ کچرے کو نبٹانے کا بندوبست ہو۔ کنکریٹ کا جنگل کھڑا کرنے کے بجائے ہریالی کو بڑھاوا دیا جائے۔ پہلے پرالی سے مویشیوں کا چارا بنتا تھا۔ کسان اسے جلا رہے ہیں اور گائیں کوڑا، پولی تھین کھا رہی ہیں۔ اگر گائے کے نام پر سیاست کرنے والے اس طرف دھیان دیں تو کسانوں کو پرالی جلانے اور گائیوں کو کوڑا کھانے سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ ماحولیات کو انسانی زندگی کے لئے مفید بنانے کی مہم سے عوام کو جوڑنا ضروری ہے۔ سرکار اور عدلیہ اکیلے اس کام کو نہیں کر سکتے کیونکہ یہ سب کی زندگی کا سوال ہے۔ قدرتی وسائل کا استعمال و استحصال کرنے کے ساتھ نیچر کی حفاظت کی حفاظت کی جائے، اسے کچھ واپس کرنے کی بھی منصوبہ سازی ہو تاکہ آنے والی نسل کو سانس لینے لائق ماحول مل سکے۔ اس کے لئے ہر شخص کو اپنے حصہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی تبھی پل پل بڑھتی آلودگی رک سکے گی۔ ترقی تو ضرور ہو لیکن انسانی زندگی کی قیمت پر نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram