پولیس ذمہ دار ۔ہم ڈھونڈتے رہے وی سی کو۔رجسڑار کو۔۔تسلیم رحمانی

 

شام ساڑھے سات بجے کے قریب جامعہ کی وی سی سے ملاقا ت کی غرض سے اپنی اہلیہ اور ڈاکٹر وسیم راشد بلیغ نعمانی شاداب اور پی ایف آئی کے احبا ب پرویز صاحب انیس صاحب الیاس صاحب اور کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ جو نکلا تھا تو بس ابھی  صبح گھر لوٹا ہوں ۔
وی سی صاحبہ گھر پر نہیں تھیں رجسٹرار بھی نہیں تھے ۔ تو جامعہ نگر تھانے پہونچے جو اندر سے بند تھا ایک سنتری نے اندر سے ہی کہا یہاں کوئی افسر موجود نہیں ہے ۔ وہاں سے سیدھے موقع پع جامعہ پہونچے وہاں چاروں طرف پولس ہی پولس موجود تھی ڈھونڈنے پر ایڈیشنل ڈی سی پی مل گئے ان سے بات کی زخمیوں کی خیریت پوچھی گرفتار شدگان کی تعداد اور مقام مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بہرحال ان سے کہا کہ ہم حالات کو نارمل کرنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں آ آپ تشدد روکئے اور اگر آج رات اپ نے کوئی گرفتاریاں کیں تو کل کے حالات کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ ذررجسٹرار کا تحمل سے کام لیجئے ۔
اسی اثنا میں جامعہ کے پراکٹر وسیم صاحب آ گئے جو ہاسٹل سے لڑکوں کو نکالنے جا رہے تھے ۔ اس وقت تک ہنگامہ مکمل طور پر فرو ہو چکا تھا۔ میں نے دونوں خواتین کو تکونہ پارک سے ہی گھر واپس بھیج دیا تھا۔ اور ہم سب بقیہ احباب وسیم صاحب کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہو گئے اور لائیبریری وغیرہ اور دیگر ڈپارٹمنٹ میں آواز دے کر طلبا سے باہر آنے کی اپیل کی مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ پھر بھوپال گراونڈ کے پیچھے واقع ہوسٹلز میں گئے ویاں لڑکے موجود تھے اور بے حد ناراض تھے کہ ان کی کال پر جامعہ سے کوئی نہیں آیا خیر سمجھا بجھا کے لڑکون کا غصہ ٹھنڈا کیا اور تحفظ کی یقین دہانی کرائی اوران کی ضروریات وغیرہ پوچھ کے واپس آئے وہاں انہوں نے بتایا کہ لڑکا شاکر جو کوٹہ راجستھان کا رہنے والا ہے ار پر چوٹ لگنے کی وجہ سے شہید ہوا ہے اور بہت سے بچے زخمی ہیں پولس نے بنا اجازت ہوسٹلوں میں گھس کے مارا ہے حتی کے گارڈز اور بلز پر بھی ڈنڈے برسائے ۔کھڑکیوں کے شیشے توڑ کے آنسو گیس بھی چلایا۔
وہاں سے نکل مر ہولی فیملی ہسپتال گئے جو خود ایک پولس چھاونی بنا ہوا تھا اور کسی کو۔اندر جانے کی اجازت نہیں تھی میں کسی طرح کہہ سن کے کچھ لوگوں کے ساتھ اندر گیا تو معلوم ہوا کہ ویاں ۵۱ زخمی لائے گئے تھے ان میں سے پندرہ کو داخل کر لیا گیا ایک آئی سی یو میں ہے بقیہ کی مرہم پٹی کر کے چھٹی کر دی گئی ہے۔ ویاں ایک فہرست ایمرجنسی کے باہر زخمیوں کی لگائی گئی تھی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے بتایا کہ ایمرجنسی میں کوئی نہیں ہے اسی دوران ایک بچے کو جو وہاں داخل تھا پولس اپنی وین میں ڈال کر زبردستی لے گئی اس کے اہل خانہ وہان روتے بلکتے رہ گئے۔ معلوم ہوا اسے کالکا جی تھانے لے جایا گیا ہے اور وہاں نیر فرینڈ کالونی تھانے میں ایسے اور بچے اور دیگر گرفتارشدگان بھی رکھے گئے ہیں ۔ وہاں جانے کے ارادے سے نکلے تو باہر سلمان خورشید آرے دکھائی دئے انہوں نے کہا کہ اس پولس زیادتی کی شکایت صبح سپریم کورٹ میں لے جائیں گے۔ پھر وہ میڈیا سے مخاطب ہو گئے ۔ تو طے ہوا کہ پہلے آئی ٹی او کے حالات دیکھے جائیں تب تک میری گاڑی ہسپتال تک آ چکی تھی کہ اب تک سارا سفر پیدل تھا۔ آئی ٹی پر معلوم کوا کہ مسجد عبدالنبی کے اندر ایک کمرے میں پولس کے اعلی افسران اور قائدین گفتگو کر رہے میں بھی وہاں پہونچا تو کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ دینیش وارشنے ڈی یو کی سینئر لیدر لیڈر نندتا نارائن میری چھوٹی بہن نجمہ رحمانی جو ڈی یو میں پڑھاتی ہیں ا۔ منیشا سیٹھی اور دیگر لیفٹ پارٹی خے ذمے داران اور اساتذہ دلی پولیس کی سپیشل سیل کی ڈی۔ سی پی اوراے سی پی کے ساتھ موجود تھے ان سے گفتگو میں پوچھا تو انہوں نے کہا کوئی ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی ہے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں چھتیس طلبا جن میں دو طالبات بھی ہیں فرینڈز کالونی تھانے میں ہیں اور تقریبا ۲۲ کالکا جی میں ۔ ان سے کافی دیرحجت کے بعد اس پر آمادگی ہوئی کہ سب بچوں کو فوری رہا کیا جائے گا۔ سب کو فوری میڈیکل ایڈ دی جائے گی کسی کے خلاف کیس نہیں بنایا جائے گا۔ اور پورے معاملے کی تحقیقات کروائی جائے گی۔ پولس کے ڈی سی پی رندھاوا بھی اس دوران وہاں آ گئے اور کہا کہ بہت سے باہری لوگ آج کے معاملے میں ملوث ہیں اور ماحول انہوں نے خراب کیا ہے ۔ ہم تحقیق کر کے ان کو ضرور دیکھیں گے۔ نیز پولس بنا اجازت کیمپس کیسے گئی اس کی۔تحقیق بھی ہوگی
اس۔دوران باہر طلبا و طالبات کا۔مجمع بھی کئی ہزار تک۔بڑھ چکا تھا اور بہت سے سیاسی لیڈر وں کی آمد بھی ہو نے لگی تھی ۔ پولس چاہتی تھی کہ کسی طرح معاملہ جلدی فارغ ہو تو بھیڑ ہٹے۔ اس گفتگو کی تصدیق کے لئے پراکٹر وسیم صاحب کو فون کیا گیا وہ اس وقت فرینڈز کالونی تھانے میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ رہائی کی رسمی کارروائی شروع ہو گئی ہے اور کچھ طلبا کو میڈیکل کے لئے بھیجا چکا ہے کچھ اور بھیجے جا رہے ۔ ا تیقن کے بعد کچھ سینئر لیڈر وہاں رکے رہے جبکہ میں خود اور ڈی راجہ و دنیش واپس آ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *