غزل

لہو لہو ہر منظر دیکھ
گلشن گلشن بنجر دیکھ

گھر نہ بنانا شیشے کا
ہاتھ میں سب کے پتھر دیکھ

کون بھلا ہے کون برا
جھانک کے دل کے اندر دیکھ

جوکرتا تھا پیار کی بات
ہاتھ میں اس کے خنجر دیکھ

لاکھ ہوں خطرے راہوں میں
رک مت جانا ڈر کر دیکھ

آنکھیں ان سے چار ہویں
کیا گذری ہے دل پر دیکھ

منزل تک جو ساتھ نہ دے
ڈھونڈ نہ ایسا رہبر دیکھ

شباہت فردوس۔۔۔نیو کریم گنج گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram