غزلیں

غزل۔۱

جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئے
حالات مرے دیکھ کے پتھر پگھل گئے

مجھ سے بچھڑ کے وہ تو بہت شاد تھے مگر
” میرے قریب آے تو چہرے بدل گئے”

اب کیا سنایں داستاں اپنوں کی بھی تمہیں
غم کو ہمارے دیکھ کے جب تم مچل گئے

برسوں کے بعد آیا جو موسم بہار کا
میری خوشی کو دیکھ کے اپنے ہی جل گئے

کانٹوں کو ہم نے پیار سے چوماتودیکھ کر
گلشن کے سارے پھول شباہت کچل گئے

غزل۔۲
ہمارا دل کچھ بہک رہاہے
گلاب جیسا مہک رہاہے

تمہیں کچھ اپنے قریب پاکر
ہمارادل بھی دھڑک رہاہے

جو ایک مدت پہ تم ملے ہو
خوشی سے آنسو چھلک رہاہے

ہمارادل بھی خوشی سے اب تو
مثال بلبل چہک رہاہے

تمہاری صورت میں اس کا نقشہ
ذرا شباہت جھلک رہاہے

شباہت فردوس،نزد اے بی سی لاج
نیو کریم گنج گیا بہار
823001پن نمبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest