مزاحیہ غزل

عشق میں اسکا تو چلتا ہے یہ چکر جھوٹ موٹ
پھینکتا ہے پانیوں میں بس وہ کنکر جھوٹ موٹ

جب مری باتیں بتاتا ہے وہ دلبر جھوٹ موٹ
روٹھ جاتا ہوں اسی دم میں بھی ہنسکر جھوٹ موٹ

گر حقیقت میں گلے ملنے نہیں دیتا ہے میرا یار تو
بھینچ لے بانہوں میں اپنے کاش کسکر جھوٹ موٹ

پچھلے وعدوں کا الیکشن میں کہاں کچھ ذکر ہے
کر رہا ہے پھر نیا وعدہ وہ لیڈر جھوٹ موٹ

یار تھا سچ مچ وہ میرا روکتا تھا عشق سے
اسکی باتوں میں نہ آیا میں سمجھ کر جھوٹ موٹ

سچی مچی اسکی باتوں میں وہ لذّت ہے کہاں
موہ لیتا ہے سبھی کو وہ تو کہکر جھوٹ موٹ

بے عمل شاعر ہے اتنا، خاک اسکا ہو اثر !
اپنے کو ناصح بتاتا کیوں سخنور جھوٹ موٹ

کون سی باتیں ہیں تیری دل کو لگتی تو بتا
کہہ رہا ہے شعر تو بھی آج سرور جھوٹ موٹ

م ، سرور پنڈولوی
s.pandaulvi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest