غزلیں

غزل۔1
اچھا کرتے ہو بھول کر مجھ کو !
کاش ، آ جائے ، یہ ہنر ، مجھ کو

جس میں پنچھی رہیں محبت کے !
اک بسانا ہے وہ نگر مجھ کو

اشک ِ خوں رنگ سے نمُو لے کر !
سبز رکھتی ہے چشم ِ تر ، مجھ کو

پھر سے دَلی اُجَاڑ بیٹھو گے !
دے دو میرا سری نگر ، مجھ کو

کب یہ سانسیں تمام ہو جائیں
اب تو لگنے لگا ہے ڈر مجھ کو

میری باتوں کو دل پہ مت لینا
اپنی ہوتی نہیں خبر مجھ کو

بے سکونی میں ہے سکون مجھے
عشق رکھتا ہے دربدر مجھ کو

میں جو رخسانہ ، شب گزیدہ تھی !
وقت نے کر دیا سحر مجھ کو
غزل۔2
میرے — جذبات کی آخر کوئی تفسیر ہوئی
شاعری میری مرے خواب کی تعبیر ہوئی

اپنی آنکھوں میں اسے میں جو لیے بیٹھی تھی
اس لیے پانی پہ روشن وہی تصویر ہوئی

جس قدر راہِ محبت میں سنبھلنا چاہا
رائیگاں اُتنی ہی ہر اک مری تدبیر ہوئی

پہلے سانسوں میں تجھے اپنی بسایا میں نے
پھر عطا مجھ کو محبت کی یہ جاگیر ہوئی

داستاں عشق کی کوئی تو مکمل ٹھہری
تو مرا رانجھا ہوا اور میں تری ہیر ہوئی

رخسانہ سحر
اسلام آباد
چودھدری شاہد محمود
مکان نمبر 6/3-C
سٹریٹ نمبر 42
سیکٹر G 7-2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram