غزل

تمہاری چاہ میں گھر بار چھوڑ آیا ہوں
میں جیتا جاگتا سنسار چھوڑ آیا ہوں

پرائے دیس میں آیا تو یہ ہوا محسوس
میں اپنے گھر کئی تیوہار چھوڑآیا ہوں

ضرورتوں نے تو مجبور کردیا مجھ کو
میں گھر پہ باپ کو بیمار چھوڑ آیا ہوں

یقین ہے مجھے وہ راہ دیکھتے ہوں گے
میں تنہا جن کو بھی اس پار چھوڑ آیا ہوں

خدایا!توہی نگہبان ہے اب ان سب کا
میں لب پہ بچوں کے چمکار چھوڑ آیا ہوں

زمانہ فیض ہی پاتا رہے گا میرے بعد
میں اس کے پاس وہ شہکار چھوڑ آیا ہوں

میں آدمی ہوں،میں جوہر ہوں آدمیت کا
اسی لئے تو میں تلوار چھوڑ آیا ہوں

وہ دیکھو سامنے منزل کی اک نشانی ہے
بڑھو بھی راستہ دشوار چھوڑ آیا ہوں

نہ بھول پائیں گی نسلیں کبھی مجھے رہبرؔ
میں اپنے پیچھے وہ کردار چھوڑ آیا ہوں
……………….
RAHBAR GAYAVI
BOOK EMPORIUM
SABZI BAGH PATNA 800004
BIHAR
MOB.8507854206

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram