غزلیں:پروفیسر مظفر حنفی

غزل۔1
ہرایک نوک پلک پر شر ر لگائے ہوئے
چلا گیا میں نظر چاند پر لگائےہوئے

ادھر بھی دیکھ کہ ہم موج موج بہتے ہیں
شکتہ کشتی کے تختے پہ سر لگائے ہوئے

تمام شہر کو لاحق ہے کسی سے خطرۂ جاں
یہاں تو جو بھی ملا وہ سپر لگائے ہوئے

عجب نہیں ہے کہ دھل جا ئیں اگلی بارش میں
یہ گھر کے نقشے یہ دیوار و در لگائے ہوئے

لطیفہ یہ ہے کہ اب دھپ کو تر ستے ہیں
سروں تک آن لگے ہیں شجر لگائے ہوئے

پروں کو اپنے وہ پھیلائیں تو مزا آجائے
کٹی پتنگ پہ ہیں جو نظر لگا ئے ہوئے

غزل۔2
اسے غم ہے کہ بٹی کے لیے لڑکا نہیں ملتا
ادھر ہم ہیں کہ گھر کیا فون پر بیٹا نہیں ملتا

عجب سورج ہے ریگستان ہی میں ڈوب جاتا ہے
اسے کیا ڈوبنے کے واسطے دریا نہیں ملتا

مگر بے مدعا دل مانگنے سے مل نہیں جاتے
بنا مانگے دل بے مدعا کو کیا نہیں ملتا

کوئی چلتا نظر آئے تو اس کو رہنما کر لوں
کسے چہرہ دکھائو ں کو ئی آئینہ نہیں ملتا

جسے دیکھو سہارا چاہتا ہے کیا قیامت ہے
سہارا دوسروں کو دے کوئی ایسا نہیں ملتا

اب اتنا کا م بچے لے کےاسکولوں سے آتے ہیں
کہ ان سے با ت کرنے کا ہمیں موقعہ نہیں ملتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest