غزل

اک ذرا جو میں نے اس کی بات کی تردید کی
عمر بھر اس نے مرے کردار پر تنقید کی

ایک دانا نے روا رکھے سبھی جور و ستم
اور اک ناداں نے خود پر ظلم کی تائید کی

تھی خطا سادہ دلی کی ، اور گماں کی تھی کمی
ہم نے کانٹوں سے ہمیشہ پھول کی امید کی

تونے لمحہ بھر بھی اس کو اک نظر دیکھا نہیں
سر جھکا کر آج تک جس نے تری تقلید کی

کاٹ کر صیاد نے پر ، بند پنجرہ کر دیا
جب کسی چڑیا نے اڑنے کی ذرا تمہید کی

یوں تو “مینْا” دوست تھے دونوں مگر تھے مختلف
اک محرم سے نہ نکلا دوسرے نے عید کی

ڈاکٹر مینا نقوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram