غزل

ہجر کا کرب یار کتنا تھا
تیرا دل بیقرار کتنا تھا

کچھ خبر بھی ہے اس دوانے کو
آپکا انتظار کتنا تھا

تو مِرا ہم سفر رہا جس میں
وہ سفر شاندار کتنا تھا

کیسے بولوں ترا دکھا کر دل
میرا دل شرمسار کتنا تھا

باپ بن کر پتہ چلا مجھکو
سخت لہجے میں پیار کتنا تھا

سچ بتائیں کہ اپنے حامد پر
آپکو اعتبار کتنا تھا

حامد بھساولی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest