غزل

اب نہیں تکرار ہونا چاہئے
ہر طرف اقرار ہوناچاہئے
مسئلے کاحل نکل آئے گاخود
بھائیوں میں پیارہوناچاہئے
دوپڑوسی ملک کےشعراء سنیں
نفرتوں پہ وار ہوناچاہئے
بیچ میں دیوارجونفرت کی ہے
اب اسے مسمارہوناچاہئے
جنگ کیادنیابھی کرلیں گے فتح
خود پہ اعتبارہوناچاہئے
لوگ خودہی دوڑے آئیں گے چلے
“سب کوخوش گفتار ہوناچاہئے”
ہرطرف امن واماں ہوگابحال
بس ہمیں بیدارہوناچاہئے
پھررہےہیں ہرطرف یوسف کئی
مصر کا بازار ہونا چاہئے
تھی شریف النفس لڑکےکی تلاش
اور اب زردار ہوناچاہئے
ملک کی خاطرجواں درکار ہیں
ناکہ چوکیدار ہوناچاہئے
بیج رہبر نے ہے بویاپیارکا
پیڑ سب پھلدار ہونا چاہئے

رہبرگیاوی۔۔۔۔۔۔پٹنہ
موبائل8507854206ای میلrahbargayavi123@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest