غزلیں

غزل ۔۱
چاند چہرہ سراپا قاتل ہے
حسنِ عالم کا و محاصل ہے

کشمش چاہتوں میں ہے برپا
عشق جاگا ہے حسن غافل ہے۔

شوخ نظریں بدن ہے مخمل سا
اور نزاکت بھی اس میں شامل ہے۔

وہی نیا ہے میرے جیون کی
وہ سمندر وہی تو ساحل ہے

بھیڑ چہروں کی تھی کے دل نے کہا۔
یہی چہرہ وفا کے قابل ہے

بال اُلجھے ہیں خاک کپڑوں پر
در حقیقت وہ حنفی کامل ہے۔

غزل ۲

محبت کا نیا اک ہم شہر آباد کرتے ہیں۔
کہ جب چاہو چلے آؤ تمہیں ہم یاد کرتے ہیں۔

طوافِ حسنِ عالم میں کبھی بھونروں کو دیکھا ہے۔
قرارِ دل سکونِ جاں سبھی برباد کرتے ہیں۔

نہ شکوہ ہے لبوں پہ نہ شکایت ہے کسی سے بھی۔
دیوانے غم کو پیکر ہی جہاں دلشاد کرتے ہیں۔

ارے صاحب وہ عاشق ہیں نہ جھکتے ہیں کسی صورت۔
بہت ہمت سے لڑتے ہیں کہاں فریاد کرتے ہیں۔

محبت مٹ نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی۔
جہاں والے فقط یونہی جمع تعداد کرتے ہیں۔

حسیں تازہ گلابوں کی مہک حنفی لبھاتی ہے
گلابی رنگ دل کو ہم دلِ شمشاد کرتے ہیں۔
ڈاکٹر منیب  حنفی ، پربھنی۔مہاراشٹرا ۔۔9850007446

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *