غزلیں

غزل۔1
شعاعوں کی تپش کا استعارہ ڈھونڈتے رہنا
اندھیری رات میں اپنا ستارہ ڈھونڈتے رہنا

گماں کی تیرگی کو جو بدل ڈالے اجالے میں
نشاط- دل میں تم ایسا شرارہ ڈھونڈتے رہنا

نہ پل بھر کے لیے سوچیں ہم اپنی جان بھی دے دیں
ہمیشہ انکی آنکھوں میں اشارہ ڈھونڈتے رہنا

محبت کے جزیرے میں اسیری جب مقدر ہو
تو خوابوں کے سمندر کا کنارہ ڈھونڈتے رہنا

یہ پاگل پن کی حد ہے یا جنوں کی کیفیت ہے کچھ
کہ طغیانی کی بانہوں میں سہارا ڈھونڈتے رہنا

غزل۔2
دن میں تو الجھے رہتے ہیں کچھ یوں بھی کاموں کاجوں میں
یوں تجھ کو بھولے رہتے ہیں دنیا کی باتوں واتوں میں

پر جیسے کالے سایوں کی آہٹ سی آنے لگتی ہے
شیشے سے چبھنے لگتے ہیں یادوں کے آنکھوں وانکھوں میں

پت جھڑ میں لپٹے جذبوں کی زردی ہے اب تک آنگن میں
بے کل جو مجھ کو رکھتی ہے اکثر ہی شاموں واموں میں

آنکھیں تو بالکل پاگل ہیں اب کوئی ان سے پوچھے تو
انکو آخر کیا ملتا ہے لاحاصل خوابوں وابوں میں

دن میں تو جوڑے رکھتے ہیں ہم بکھری ذات کے ٹکڑوں کو
پر ٹوٹے ٹوٹے رہتے ہیں برہا کی راتوں واتوں میں
سمن شاہ ( فرانس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram