غزل

مجھکو حیرت میں ڈالنے والے
ہیں کہاں زخم پالنے والے

کتنے مردہ ضمیر ہوتے ہیں
خود کو پتھر میں ڈھالنے والے

ساری دنیا سے ہار جاتے ہیں
زندگی کو سنبھالنے والے

خود ہیں رسوائیوں کے گھیرے میں
ہم پہ کیچڑ اچھالنے والے

اپنی باتوں میں پھانس لیتے ہیں
جال باتوں کا ڈالنے والے

آگئےخود بخود اندھیرے میں
روز سورج نکالنے والے

رقص غربت کا دیکھ لیتے ہیں
چند سکے اچھالنے والے

کتنے حساس ہوتے ہیں شاکر
خون اپنا اُبالنے والے

شاکر حسین اصلاحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest