غزلیں

غزل۔1
میرے عزم عاشقی پر لگا جب بھی تازیانہ
ہواسر کشی پہ مائل وہیں جذب عاشقانہ

یہ میری وفا ہے جسنے دی ادائے دل برانہ
کہ میری نظر نے بخشا  تجھے حسن جاودانہ

یہ خلوص واُنس وچاہت یہ قدم قدم عنایت
رہے حشر تک سلامت یہ فضائےمخلصانہ

تیری بے رُخی کا شکوہ میں کروں تو فائدہ کیا
جو گزر گیا زمانہ سو گزر گیا زمانہ

وہ لبوں پہ تھا تبسم وہ نگاہ میں تھی شوخی
میں سنا رہی تھی جیسے کسی اور کا فسانہ

میں تو کہہ رہی تھی ان سے یہ جناب کا ہے قصہ
وہ سمجھ رہے تھے لیکن کسی اور کا فسانہ

نہ کیا قبول ہر گز اسے خود میری انا نے
ہوا عام جب سے سنبل یہ مزاق عارفانہ

غزل۔2
عذاب شہر لکھوں یا عذاب جان لکھوں
عجیب عہد ہے کیا اس کی آن بان لکھوں

محبتوں کی کبھی میں جو داستان لکھوں
وصال تیر کو اور ہجر کو کمان لکھوں

یہ لفظ لفظ مرے ٹوٹ کر بکھر نے لگے
میں کیسے ان کو سمیٹوں جو داستان لکھوں

یہ ڈولتی ہوئی کشتی یہ ڈوبتے ساحل
ہواکا رخ ذرا سمجھوں تو باد بان لکھوں

یہ گرم گرم ہوائیں یہ دھوپ دھوپ فضا
کوئی شجر تو ملے جس کو سائبا ن لکھوں

یہ وحشتوں کے مناظر یہ بکھرے بکھرے وجود
مجھے پکار کے کہتے ہیں داستان لکھوں

فضول، شہرت دنیا جو زر حاصل ہو
میں کیسے ایسی عنایت کو ار مغان لکھوں

یہ زرد زرد سے چہر ے دھواں دھواں آ نکھیں
میں کیسے فخر کروں کیسے آسما ن لکھوں

مرے تو دل کاعجب حال ہوگیا سنبلؔ
سخن طراز اسے یا کہ بے زبان لکھوں

غزل۔3
دل مضطر میں توانائی کہاں سے آئے
زندگی میں میری رعنائی کہاں سے آئے

اس کو میں دیکھ سکوں اپنی کھلی آنکھوں سے
میری آنکھوں میں وہ بنیائی کہاں سے آئے

فیصلے عقل کے جب دل کے دبستان میں ہوں
سوچیئے فکر میں دانائی کہاں سے آئے

ملنے جلنے کے تو آداب ہواکرتے ہیں
فاصلے ہوں تو شناسائی کہاں سے آئے

مردہ ذہنوں کو جلا بخش دے پھر جو سنبل
ایسی تاثیر مسیحائی کہاں سے آئے

غزل۔4
میں اپنی  وفائوں کااور اس سے صلہ مانگوں
جب تجھ سے نہیں مانگا انسان سے کیا مانگوں

آتا ہے مرے آگے ہر لمحہ سزا بنکر
کس حوصلئہ دل پر جینے کی دعامانگوں

اک عمر پہ بھاری ہے یہ لمحہ مسرت کا
پھر کیوں نہ میں کلیوں سے جینے کی دعاما نگوں

یو ں تو تیر ی رحمت کی کچھ حد ہی نہیں لیکن
مجرم ہوں اگر تجھ سے دامن سے سوا مانگوں

سنتے ہیں قیامت میں بچھڑوں کا ملن ہوگا
آئیگی قیامت کب کب تک میں دعا مانگوں

تقدیر تو کاتب کی پابند ہے خود سنبل ؔ
مجبور سے کیا چاہوں لاچار سے کیا مانگوں

صبیحہ سنبلؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *