غزلیں

غزل۔1
اپنی روداد لکھوں گردشِ حالات لکھوں
سوچتی ہوں کہ لکھوں ان کو تو کیا بات لکھوں

زخمِ دل گہرا ہے گہری ہی کوئی بات لکھوں
کربِ احساس لکھوں شدّت ِ جذبات لکھوں

زُلفِ برہم کو ذرا اور بھی برہم کر دوں
ان کو جس بات سے چڑ ہے میں وہی بات لکھوں

چاہتی ہوں کہ اُنہیں زحمتِ تحریر نہ دوں
خود سوالات لکھوں خود ہی جوابات لکھوں

کاکلِ وقت کے بیچ ان کی نگاہوں کا فسوں
جو کسی طرح نہ حل ہو وہ سوالات لکھوں

ان کے دل پر جو اُتر جائے تاثر بن کر
جذبئہ شوق میں ایسی ہی کوئی بات لکھوں

کوئی اظہار کا پہلو نہیں ملتا ہمدم
کس طرح شکر کروں کیسے شکایات لکھوں

باتوں باتوں میں ہی اظہارِ محبت کر دوں
جی میں آتا ہے کہ اب شوقِ ملاقات لکھوں

میری نظروں میں اندھیرا ہے فقط ان کے بغیر
کوئی بیجا تو نہیں دن کو اگر رات لکھوں

غزل۔2
لطف و کرم سے تیری شناسائی بھی کروں
پھر تو، ملے تو تیری پذیرائی بھی کروں

تجھ سے بچھڑ کے شہرِ ستمگر میں آ گئی
ممکن نہیں ہے اب کبھی انگڑائی بھی کروں

ساون بدن میں آگ لگاتا ہے کس طرح
پوچھے کوئی تو میں تیری رسوائی بھی کروں

تو، بھی نہ آئے خوابِ پریشاں میں اور میں
کھڑکی کے پردے ڈال کے تنہائی بھی کروں

وہ چاہتا ہے ناز گلابوں کی کھیتیاں
میں گھر کو آدھا توڑ کے انگنائی بھی کروں

نگار بانو ناز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram