غزل

خلافِ شرعِ محبت بھی جا رہا ہوں میں
“تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں”

کسی کی یاد میں آنسو بہا رہا ہوں میں
کہ بیش قیمتی گوہر لٹا رہا ہوں میں

پڑا ہے وقت کا فرعون پیچھے ‘دریا میں
خدا کے فضل سے رستہ بنا رہا ہوں میں

نہیں ہے آتی مجھے یوں بھی نیند راتوں کو
کسی کی یادوں کو تکیہ بنا رہا ہوں میں

وہ آئےآئے نہ آئے کیاتھا وعدہ جو
بس اعتبار پہ پلکیں بچھا رہا ہوں

نگاہِ شک و شبہ سے نہ دیکھیے مجھ کو
کہ میکدے سے بھی گزرا ہوں پارسا ہوں میں

کسی کی منزلِ مقصود بن نہیں سکتا
سرائے یا کوئی پھر راستہ رہا ہوں میں

میں اپنی ذات میں جو ہوں وہی رہا ویسے
کہیں پہ ہیرا کہیں کوئلہ رہا ہوں میں

مؔسرور نظامی
متوطن ۔۔بسواکلیان بیدر
حالمقیم ۔۔گرمٹکال یادگیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram