غزل

زندگی بد سلوک شہزادی
ہو بھی سکتی ہے چوک شہزادی!

سسکیوں سے محل نہ ٹوٹے گا
اور شدت سے کُوک شہزادی

آبھی جائے گا کیا ضروری ہے
کوئی سیف الملوک،شہزادی

وہ کہ ٹھہرا غریب چرواہا
تم نے کب دیکھی بھوک شہزادی؟

پیار دل میں بھرو تو لگتی ہے
زندگی اک ملوک شہزادی

پھر تصور میں آگیا چہرہ
من میں اٹھتی ہے ہوک شہزادی

پھرستم ڈھا رہی ہے یاد اسکی
ہجر میں خون تھوک شہزادی

خودکو مصروف جستجو رکھنا
یہ ہے نسخہ اچوک شہزادی

تجھ کو غرقاب کر نہ دیں زریابؔ
اپنے دل کے شکوک شہزادی

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *