غزل

بند کر دیتے ہیں رستہ پہلے جو تدبیر کا
عمر بھر وہ پیٹتے رہتے ہیں سر تقدیر کا

جب ہمارا نیند کے خوابوں سے کچھ رشتہ نہیں
منتظر رہتا ہے کیوں دل پھر کسی تعبیر کا

بے گناہی کی سزا میں کاٹتی ہوں عمر قید
ربط ہے پیروں سے میرے حلقئہ زنجیر کا

اس زمیں پر رکھ نہیں سکتی خوشی اپنا قدم
دبدبہ قائم ہے میرے درد کی جاگیر کا

غم نہیں بے چہرگی میرا مقدر بن گئی
آئنوں میں عکس تو ابھرا تری تصویر کا

کھل کے کلیوں نے تو رنگیں کر دیا گلشن تمام
خوشبوؤں کا اب ہے ذمّہ پھول کی تشہیر کا

گونجتی ہیں اب تلک کانوں میں کچھ سرگوشیاں
ہے اثر “مینا” مرے دل پر تری تقریر کا

ڈاکٹر مینا نقوی مراداباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest