پیغام بصیرت

جہاں پر نیلگوں آکاش کا انجام دکھتا ہے
وہیں سے سرمئی آب رواں آغاز دیتا ہے

نگہہ کوتاہ میں رکھی ہوئی بالائی اور پستی

بصیرت کے گماں کا زعم کھل کر فاش کرتا ہے

یہ جانامیں نےاکثرجو نہ دکھ پائے وہی سچ ہے
بضد لیکن زمانہ بس وہ قبرستان سوتا ہے

ہے سرگرداں زمانہ اس کا بس انجام ناجی ہو

مگر تحت السرا کااپنی خود سامان رکھتا ہے

کہاں کی بات قصہ ہے کہاں کا کون جانے ہے

یہی فکرء حجابء جاں میرا وجدان بنتا ہے
سمٹنے کو رباب اب ہے یہ قصہ عالمینوں کا
نجیبء ذات مجھکو ہر گھڑی بس یہ ہی کہتا ہے.

روحانی سکالر عارفہ شاعرہ مصنفہ و کالم نگار
طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest